”اسٹیبلشمنٹ اپنے 12 ٹائوٹس کو اٹھا کر آزاد کشمیر اسمبلی میں بٹھا دیتی ہے، ان 12 کے ساتھ ملا کر اپنی کٹھ پتلی حکومت بناتی ہے، ان 12 کو اہم ترین وزارتیں بانٹتی ہے اور پھر پورے آزاد جموں کشمیر کو کنٹرول کرتی ہے۔ اب آزاد کشمیر کے لوگوں کو سمجھ آئی ہے کہ جن 12 افراد کے ذریعے کٹھ پتلی حکومت بٹھائی گئی ہے انہوں نے ہی دراصل ان کے حقوق دبا رکھے ہیں۔ پیپلزپارٹی اس صورتحال میں دوغلے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کا براہ راست حصہ ہیں۔“ عمران ریاض خان
میں آج اڈیالہ جیل صرف اس مقصد کے لیے گیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی سے القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ اپیل کے وکالت ناموں پر دستخط کروائے جا سکیں، مگر جیل انتظامیہ نے ایک بار پھر یہ قانونی عمل مکمل نہیں ہونے دیا۔
وکالت نامے 25 مئی سے جیل حکام کے پاس موجود ہیں، اس کے باوجود تاحال دستخط نہیں کروائے گئے۔ میں یکم جون کو بھی اسی مقصد کے لیے جیل گیا تھا مگر اس وقت بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا۔ یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ دانستہ اور مسلسل عمل ہے جس کے ذریعے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدالتوں تک رسائی اور قانونی حقوق کے استعمال میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے وکالت ناموں پر دستخط ایک بنیادی قانونی تقاضا ہے۔ اس عمل کو روکنا انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ کے علاوہ آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قانونی معاونت اور عدالتوں تک رسائی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
خالد یوسف چوہدری
@KhalidYChaudry
آزاد جموں کشمیر میں آج جو ہو رہا ہے، اس سے پہلے میرا خیال تھا کہ شاید یہ سلوک صرف تحریک انصاف کے ساتھ ہی روا رکھا جا سکتا ہے۔ جاری صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب حکومتی طرز عمل یہ ہے کہ ہر معاملے کو ہتھوڑے سے ٹھوک کر ٹھیک کیا جائے گا۔ ہڑتال نے ثابت کر دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستوں کے مطالبے کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ حکومت فوری یہ مطالبہ قبول کرے اور معاملات کو ڈنڈے کی بجائے دانشمندی سے حل کرے۔
حبیب اکرم
@HabibAkram
کشمیر میں انقلابی مناظر۔
یاد رہے لاکھوں کے اس مجمعے میں ابھی خواجہ مہران کا قافلہ ہجیرہ منگ تھوراڑ باغ راولاکوٹ اور مظفراباد کے لوگ شامل نہیں۔
بتایا جا رہا ہے مظفرآباد کو چھوڑ کر باقی تمام قافلے آج رات یہاں پہنچ جاے گے۔
پھر مظفرآباد کی طرف نکلیں گے۔
گوہر بیچارے نے کیا کرنا تھا..! اصل لمحہ فکریہ یہ سہیل آفریدی کے لئے ہے! اب بھی ضرورت اس چیز کی ہے کہ پاکستان کے تمام سیاسی سماجی اور میڈیا کے لیڈر آذاد کشمیر میں ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھایں! پرامن مظاہروں کی پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں فوری ضرورت ہے تاکہ جرنیل مزید قتل عام نہ کریں
ایک بائیکر کی کہانی ٹویٹ کی ہے پلیز وزیراعلی صاحب اس پر ایکشن لے ٹورزم کو خراب کررہے🤬
لواری ٹنل میں بائیکر کے ساتھ زیادتی بند کرو اور یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ کوئی برگیڈر جنرل کرنل موٹرسائیکل سے اتا جاتا ہوگا حالانکہ اتنے بڑے رینک کا ارمی افسر موٹرسائیکل تھوڑی استعمال کرے گا اور میرے پاس ویڈیو موجود ہے ثبوت کے ساتھ کہ مقامی لوگ موٹر سائیکلوں کے ساتھ اتے جاتے ہیں اگلے پوسٹ میں وہ لگاؤں گا ہم لوگ سیاحت کو فروخت دیتے ہیں اور دور دراز علاقوں میں جا کر امن کا پیغام پھیلاتے ہیں لیکن اج کل لواری ٹنر پر ایک انتہائی تذلیل امیز اور تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں لواری ٹرن میں باکرز کو اپنی موٹرسائیکل خود چلا کر لے جانی کی بالکل اجازت نہیں دی جا رہی قانون اور سیفٹی کے نام پر بائیکرز کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قیمتی اور شوق سے تیار کی گئی 22 کو وہاں موجود کٹارا لوڈر گاڑیوں پر لاد کر ٹرنل پارک کریں یہ بائکر کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہیں ان کٹارا لوڈر گاڑیوں والے بائکر سے من مانی اور باری کرائے وصول کرتے ہیں جو کہ سراسر لوٹ مار ہے موٹر سائیکل کا نقصان لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے دوران بائک پر سکریچ اتے ہیں اور قیمتی پارٹس کو نقصان پہنچتا ہے یہ کوئی 70 موٹر سائیکل نہیں کہ جس کے پرزے 50 روپے میں مل جاتے ہیں اور یہاں پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کسی کلب کا نہیں بلکہ ہم سب کا مسئلہ ہے نہ کسی مخصوص شہر کا بلکہ یہ پاکستان بھر کے ہر اس بائیکر کا مسئلہ ہے جو سڑک پر نکلتا ہے۔ میری اپیل ہے حکومت پاکستان لوکل انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ بائیکرز کو مخصوص حفاظتی اقدامات جیسے ہیلمٹ لائٹس ریفلیکٹرز کے ساتھ لواری ٹنل سے خود بائک چلا کر گزرنے کے اجازت دی جائے اگر کوئی سیکیورٹی یا تکنیکی مسئلہ ہے تو بائیکر کے لیے سرکاری سطح پر باعزت اور مفت رعایتی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے نہ کہ انہیں پرائیویٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے تمام بائیکرز بھائیوں سے گزارش ہیں کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اپنی اواز اٹھائیں اس زیادتی کے خلاف یکجا ہو جائیں جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے
شیخ رشید واحد آدمی ہیں جنہوں نے نواز شریف کے دور میں یہ کہنا شروع کیا تھا، کہ نواز شریف نے جو آئی پی پیز کے معاہدے کیے ہیں اس سے ہماری کمر دوہری ہو جائے گی، لوگ کہیں گے کہ ہمارے میٹر اتار کر لے جاؤ ہمیں بجلی ہی نہیں چاہیے،
تب ہم شیخ رشید کا مزاق اڑاتے تھے، عمران ریاض
کشمیر سے لائیو صبح کے مناظر 🔥🔥🔥
ہر جگہ کشمیریوں نے ہزاروں کی تعداد میں ڈیرہ لگایا ہوا ہے رینجر بے بس ہے پولیس کو اچھی خاصی مار پڑی ہے یہ بہادر کشمیری لوگ تاریخ بدلنے والے ہیں
ہم اپنا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دیں گے، فارم 45انکے گلے میں سے نکالیں گے، ہماری 500 سالہ تاریخ ہے جب بات عزت پر آجائے تو پھر اس سے آگے کچھ نہیں ہوتا، تحریک انصاف نامزد امیدوار شیر عظیم خان