BREAKING‼️‼️
A suspected vehicle-borne suicide bomber (VBIED) has targeted the Aman Mela Police Checkpoint in Darazinda, Dera Ismail Khan, Pakistan. Once again the barbarian FAK targeted a civilian populace area, targeting innocent civilians, while KPK government is not taking ownership of fight against Kharjis and the CM is ramping attacks on its police , armed forces and people.
As per early information civilian casualties are expected.
Further details are awaited.
Decisive action against foreign-sponsored elements in Balochistan. Sustained counter-terrorism operations like this are vital for ensuring regional security and national sovereignty.
Sequel to comprehensive counter terrorism operation by security forces against Indian backed Fitna Al Khawarij & Fitna Al Hindustan in Balochistan. Thirty three Indian sponsored Khwarij/ terrorists, has been sent to hell, since 21 September 2026.
On 24 September, in continuation of Operation Shaban, security forces busted additional terrorist hideouts, and after an intense fire exchange, five Indian sponsored Khwarij were killed making a total of twenty two khwarij killed so far. Weapons, ammunition and explosives were also recovered from the Khwarij locations. Clearance Operation will continue till complete neutralization of threat from the area.
In another engagement on 25 September 2026, an intelligence based operation was conducted in Nushki district. During the conduct of operation, own troops effectively engaged terrorists hideout and after an intense fire exchange, eleven terrorist were sent to hell.
Relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
Sequel to comprehensive counter terrorism operation by security forces against Indian backed Fitna Al Khawarij & Fitna Al Hindustan in Balochistan. Thirty three Indian sponsored Khwarij/ terrorists, has been sent to hell, since 21 September 2026.
On 24 September, in continuation of Operation Shaban, security forces busted additional terrorist hideouts, and after an intense fire exchange, five Indian sponsored Khwarij were killed making a total of twenty two khwarij killed so far. Weapons, ammunition and explosives were also recovered from the Khwarij locations. Clearance Operation will continue till complete neutralization of threat from the area.
In another engagement on 25 September 2026, an intelligence based operation was conducted in Nushki district. During the conduct of operation, own troops effectively engaged terrorists hideout and after an intense fire exchange, eleven terrorist were sent to hell.
Relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
Fear of losing the KP government has turned loud political bluster into quiet hesitation. Every move is calculated just to save their own seats.
#سہیل_آفریدی_وڑ_گیا
The panic over losing the KP provincial government has completely paralyzed their decision-making. You can’t play aggressive politics while clinging tightly to power chairs.
#سہیل_آفریدی_وڑ_گیا
#سہیل_آفریدی_وڑ_گیا
بے روزگاری کے بھنور میں پھنسا خیبر پختونخواہ
خیبر پختونخواہ کے نوجوان اس وقت شدید معاشی اور سماجی بحران کی زد میں ہیں۔ ایک طرف امن و امان کی ابتر صورتحال نے صوبے کا چین و سکون برباد کر رکھا ہے تو دوسری طرف روزگار کی عدم دستیابی نے پڑھے لکھے نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
صوبے میں معاشی سرگرمیاں مکمل طور پر جمود کا شکار ہیں۔
سرمایہ کار خوف کے باعث اپنے پیسے نکال رہے ہیں اور نیا کاروبار شروع کرنے کا خطرہ کوئی نہیں مول لیتا۔
بدقسمتی سے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم پی ٹی آئی کی حکومت, صوبائی انتظامیہ اور گورننس کی بہتری پر توجہ دینے کے بجائے محض سیا��ی محاذ آرائی اور بیانیے بنانے میں مصروف رہی ہے۔ بدترین حکمرانی اور انتظامی نااہلی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا تو دور موجودہ روزگار بچانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
آج خیبر پختونخواہ کا نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری کی اس شرح نے ناصرف نوجوانوں میں مایوسی اور ذہنی تناؤ بڑھا دیا ہے بلکہ انہیں دیگر منفی راستوں پر دھکیلنے کے خطرات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
اگر اب بھی صوبائی حکومت نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ چھوڑ کر معاشی اصلاحات سیکیورٹی اور گڈ گورننس پر فوری توجہ نہ دی تو خیبر پختونخواہ کے نوجوانو�� کی یہ بدحالی پورے صوبے کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دے گی۔
وفاق کو بھی اس طرف خصوصی توجہ کرنی چاہیے۔ اگر یہاں صوباٸی ڈیلیور نہیں کر پا رہی تو وفاق کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گورنر راج کے لیے اقدامات اٹھاٸے اور صوبے کے نوجوانوں کا مستقبل شبہات سے نکال محفوظ اور یقینی بناٸے۔
#ام_حریم
#گورنرراج #KPK #PTI #ImranKhan
جدید پبلک ایڈمنسٹریشن کے مطابق، مثالی طرزِ حکمرانی کے لیے ایک اکائی کی آبادی 1 کروڑ سے 2 کروڑ کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ وہ حجم ہے جہاں ریاستی مشینری ہر شہری تک رسائی حاصل کر سکتی ہے، اور معیشت میں 'اسکیل کے فوائد' (Economies of Scale) بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
جب کسی انتظامی اکائی کی آبادی اپنے مثالی حجم (1 سے دو کروڑ) سے تجاوز کر کے ساڑھے 4 کروڑ تک پہنچ جائے، تو معاشی فوائد ختم ہو جاتے ہیں اور نقصانات (Diseconomies) شروع ہو جاتے ہیں۔
آپ خیبرپختونخوا کی مثال دیکھ لیں
سابقہ قبائلی علاقوں (FATA) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کا رقبہ اور انتظ��می ذمہ داریاں اچانک بہت بڑھ چکی ہیں، جبکہ آبادی بھی تقریباً 4 کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے۔
پبلک ایڈمنسٹریشن کا اصول ہے کہ جب ایک ہی مرکز (پشاور سیکرٹریٹ) پر اس کی گنجائش سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جائے، تو وہاں 'ڈس اکانومیز آف اسکیل' نافذ ہو جاتی ہیں۔ پشاور میں بیٹھی ��یوروکریسی کے لیے بیک وقت چترال کے گلیشیئرز، ہزارہ کے سیاحتی مقامات اور وزیرستان کے سنگین سیکیورٹی و ترقیاتی مسائل کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ناممکن ہو چکا ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انضمام کے بعد جن علاقوں کو تیز رفتار ترقی کی ضرورت تھی، وہ بیوروکریٹک سست روی (Red Tape) کی وجہ سے مزید پیچھے رہ گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی مختلف ڈویژنز کے پاس معیشت کے الگ الگ انجن موجود ہیں۔ مثلاً ہزارہ کے پاس مائننگ اور ٹورازم ہے، مالاکنڈ کے پاس زراعت اور ہائیڈرو پاور ہے، اور جنوبی اضلاع کے پاس آئل اینڈ گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔
نئے انتظامی صوبے نہ ہونے کی وجہ سے ان ڈویژنز کے پاس اپنے وسائل کو مانیٹائز (Monetize) کرنے کا کوئی آزاد اختیار نہیں ہے۔ مالاکنڈ یا ہزارہ اپنی مرضی سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سیاحت یا بجلی کے منصوبوں کے لیے راغب نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر فائل کو پشاور سیکرٹریٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس بیوروکریٹک پاتھ ڈیپینڈینسی (Path Dependency) کی وجہ سے مقامی معیشتیں (Local Economies) مفلوج ہیں اور صوبہ مجموعی طور پر وفاق کی گرانٹس پر چل رہا ہے۔
نئے صوبے نہ ہونے کی وجہ سے پشاور سے دور دراز کے بارڈر اضلاع (جیسے باجوڑ، کرم، یا وزیرستان) میں سول گورننس کی عملداری انتہائی کمزور ہے۔
دہشت گردی ہمیشہ وہاں پنپتی ہے جہاں دور دراز جغرافیے کی وجہ سے سویلین اداروں کی گرفت کمزور ہو، جسے ماہرین "گورننس ویکیوم" کہتے ہیں
پشاور کی دوری کی وجہ سے سیکیورٹی اور سول ایڈمنسٹریشن کے درمیان وہ کوآرڈینیشن قائم نہیں ہو پاتی جو ایک مقامی صوبائی سیٹ اپ (Proximity Governance) کی صورت میں ممکن ہو سکتی تھی۔
سابقہ فاٹا اور دور دراز اضلاع میں نئے انتظامی ڈھانچے بننے سے سڑکیں، عدالتیں، اسپتال اور اسکول براہِ راست نچلی سطح پر کام شروع کریں گے۔ جب ریاست کا سویلین چہرہ ہر شہری کے پاس موجود ہوگا، تو انتہا پسند نظریات کی بجائے جدید زندگی کا مقابلہ شروع ہوگا
حجاب رندھاوا
The United Front of Afghanistan says its forces targeted a Taliban command center in Darayim district of Badakhshan. The group claims one Taliban member was killed and three others were wounded.
@ImranKhanPTI Every time you face accountability for corruption and misuse of power, you call for mass chaos and protests. The public has seen through these tactics.
کے پی حکومت بچانے کا خوف اتنا زیادہ ہے کہ اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے ہر قدم کو خود ہی پیچھے کھینچ لیا جاتا ہے۔ یہ کیسی جدوجہد ہے؟ #سہیل_��فریدی_وڑ_گیا
ر بار کی طرح اس بار بھی آخری وقت پر احتجاج ملتوی! قیادت اندر بیٹھ کر فیصلے کرتی ہے اور سڑکوں پر خوار ہونے کے لیے صرف عام کارکن بچ جاتا ہے۔ #سہیل_آفریدی_وڑ_گیا
The cycle never changes: call the workers out to the streets, face a brief roadblock, announce a "strategic delay," and leave the local ppl to clean up the mess.
#سہیل_آفریدی_وڑ_گیا
The low public turnouts are telling a clear story. People are exhausted by high-stakes political drama that yields zero practical outcomes for the common citizen.
#سہیل_آفریدی_وڑ_گیا