یہ شوکت یوسفزئی کا گھر ہے انکے بھائی کو پولیس گرفتار کرنے گئی ہوئی
یہ دیکھیں KPK پولیس بھی پنجاب پولیس کی طرح گھر کی چیزیں کرسیاں توڑ رہی ہے
ان چہروں کو اگر سبق سکھایا ہوتا پچھلے 13 سال میں تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے
خان کے شروع کردہ پروجیکٹ پر اپنے نام کی تختیاں لگوانے کے بعد !!!!
رات کے اندھیرے میں کے پی کے سے چوروں نے بسیں چرانا شروع کر دی
کہتے ہیں پنجاب نے بہت ترقی کر لی
رات کی تاریکی میں پشاور کی سرکار�� بسوں کو کہیں اور منتقل کِیا جارہا ہے گورنر راج کی آڑ میں خیبرپخونخواہ کے عوام سے تمام سہولیات چِھینی جارہی ہیں تاکہ خیبرپختونخواہ کے عوام کو ہر طرح کی سہولیات سے محروم کِیا جاسکے جو پی ٹی آئی حکومت نے پچھلے کئی سالوں سے کے پی کے عوام کو سہولیات فراہم کی تِھیں !
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
بلوچستان تو فوج نے فاصلے کی وجہ سے دبا لیا تھا مگر خیبر پختونخواہ نا دبنے والا ہے اور نا ان سے سنبھلنے والا۔ بیشک بلا لو فوج اور ایف سی، بس اب نہیں! کہہ رہی ہے عوام۔۔۔
خیبرپختونخواہ میں فوجی افسران تعیناتی سے خوفزدہ ہیں۔ پولیس اور ایف سی کو آگے کیا جارہا ہے، مگر وہاں بھی سپاہیوں کیجانب سے بغاوت کاسامنا ہے۔ اسی لئے فرقہ واری اور قومی تفریق کی بنیاد پر تعیناتی کی جارہی ہے۔ عاصم منیر اللہ تجھے غارت کرے۔
پاکستانی فوج دنیا کا سب سے سفاک ادارہ ہے؛ ایک ایسا ادارہ جو اپنے حقوق مانگنے والے شہریوں کو مارنے سے ب��ی گریز نہیں کرتا۔
فوج آخری بلوچ تک مارے گی، لیکن آزادی تو دور، انہیں اپنے وسائل تک کا حق نہیں دے گی۔ اپنے ہی شہریوں کے ساتھ پاکستان کا یہی ٹریک ریکارڈ ہے؛ مشرقی پاکستان سے لے کر بلوچوں، پشتونوں اور سندھیوں تک۔
مجھے ڈر ہے کہ جس طرح مشرقی پاکستان میں ہوا، فوج آخری کشمیری تک مارے گی، لیکن انہیں ان کے حقوق نہیں دے گی۔ کیونکہ اگر کشمیریوں کو ان کے حقوق مل گئے تو پاکستان کی بنیاد بننے والا بیانیہ بھارت سے دشمنی، کشمیر کا نامکمل ایجنڈا اور مسلم شناخت یہ سب بیانیے ختم ہو جائیں گے۔
پاکستان میں جو بھی اپنے حقوق مانگتا ہے اس پر فوج صرف تشدد کرتی ہے ۔ ایسٹ پاکستان ویسٹ پاکستان کی بربریت کی وجہ سے الگ ہوا۔ جو بھی اپنے حقوق مانگتا ہے فوج اسکو کرش کرتی ہے انڈیا کے اندر کتنی برائیاں ہیں ۔ لیکن پاکست��نی فوج ایک ایسی فاشسٹ اسٹیٹ ہے۔ جہان جنرلز بریگیڈیئرز کو پرموشن صرف اس بات پر ملتی ہے کہ اس نے بہوش کتنے مارے پشتون کتنے مارے کشمیری کتنے مار۔
سہیل آفریدی اور اس کے ساتھیوں نے ایسی صورتحال کے بعد کی حکمت عملی بنائ ہوگی کیونکہ پتہ انہیں بھی تھا ایسا اقدام ہوگا
جہاں تک میری سوچ ہے حکمت عملی یہ ہوسکتی ہے کے پہلے سب کچھ ہونے دیا جائے ان کو پتہ تھا گورنر راج لگا تو کرفیو کی صورتحال ہوگی ایسے میں فورا احتجاج کا نتیجہ نکلے گا جو نو مئ کو نکلا وقتی مزاحمت سے پی ٹی آئی پھنس جائے گ�� پہلے سب کچھ ہونے دو کرفیو کو چھٹنے دو انٹرنیٹ بحال ہونے دو پہلی ترجیح میں باقی لوگ محفوظ بنائیں گے خود جب جبر کا یہ ماحول تھمے پھر احتجاج کی کال دی جائے گی کیونکہ یہ بات میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں کے سہیل آفریدی اور جنید اکبر بالکل ہی اعتماد میں رہے کے گورنر راج نہیں لگے گا اور نہ ایسی صورتحال کے بعد کی حکمت عملی تربیت دی
فل وقت تمام دوستوں سے یہی گزارش کروں گا متحد رہو مایوس نہ ہو اور کے پی کے کے جو حالات ہیں ایسے میں تنقید کے تیر اپنے لشکر کی طرف مت چلاؤ
باقی کچھ لوگوں کی مجبوری ہے وہ فوج پر تنقید نہیں کر سکتے پہلے ان کو کے پی کے حکومت دستیاب تھی اب ختم ہوگی تو تنقید اصل ہدف سے ہٹا کر فضول چیزوں کی طرف لگا رہے ہیں
سہیل آفریدی یا پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر مجھ سے زیادہ کس نے تنقید کی مگر یہ وقت تنقید کا نہیں ہے تنقید کرنی ہے تو ان پر کریں جہنوں نے آئین کو روندا ہے