مکالمہ
محمد مالک: کیا آپ قسم اٹھا سکتے ہیں کہ آپ نے ریحانہ ڈار کا مینڈیٹ چوری نہیں کیا؟
خواجہ آصف: نہیں میں قسم نہیں اٹھا سکتا۔
محمد مالک: پھر تو آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ ریحانہ ڈار نے آپ کو عبرت ناک شکست دی ہے۔
خواجہ آصف: میں اب اتنا بھی غیرتمند نہیں ہوں کہ اپنی عبرت ناک شکست تسلیم کرلوں۔ میں نے مینڈیٹ چوری نہیں کیا۔ کسی نے مجھے چوری کرکے دیا ہے۔
محمد مالک: کس نے؟ نام بتائیں۔ قمر گمنامی نے؟
خواجہ آصف: نہيں۔ وہ تو 2018 کی بات ہے۔
نئے محسنوں کے نام ��بھی نہیں بتا سکتا۔ ریٹائر ہوجانے دیں۔
محمد مالک: چلیں نہ بتائیں۔ میں اسحاق ڈار کی لیکڈ آیڈیو سن لوں گا۔
(مکالمے کی بہتر تفہیم کے لئے کچھ مُلَمَّع کاری کی ہے۔)
ہمارے صدر صاحب کہتے ہیں کہ معاہدہ کرنا کیا قرآن و سنت کی بات ہے؟ آپ نے اپنے لیے تاحیات استثنیٰ لے لی۔ زرداری صاحب ہم کب آپ پر مقدمہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کل کو صدارت کے بعد تم نے کسی جو قتل کر دیا تو تمہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہو گا، مولانا فضل الرحمان
کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، ��ھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔
ن لیگ کے سوشل میڈیا نے ایک وقت میں پاک فوج اور عدلیہ کیخلاف بیانیہ چلایا، یہی ٹرولز اس وقت کشمیریوں کو نمک حرام کہہ رہے ہیں، یہ قبول نہیں کریں گے، نواز شریف صاحب خود کو کشمیری کہتے ہیں، آج کہاں ہیں، کیوں نہیں صلح کرا رہے۔ مشعال ملک
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
عاصم منیر نے کہا ہے کہ جہموریت پر شب خون اس لئے مارنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ ملک کا سودا کر دیں گے
حامد میر سے سنیں کہ باجوہ نے کشمیر کا سودا کیسے کیا
بارڈر پر سیز فائر کے عوض کیا سودے بازی کی
باجوہ کی غداری کو عمران خان بھانپ چکے تھے اور وہ رستے میں دیوار تھے
تاریخ لکھے گی کہ پچیس کروڑ زندہ لاشوں کے درمیان صرف پینتیس لاکھ باضمیر کشمیری تھے، جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے تھے اور ہر قیمت پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔"
لاؤ ترازو تول کے دیکھو ساڈا پلہ بھاری ہے.
کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں