Israeli soldiers and settlers brutally attacking two Palestinian boys in the West Bank. Netanyahu carrying out war crimes in Lebanon, Gaza, and West Bank!
ہسپتال میں جب عبدالرازق سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا 'مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اچانک پیچھے سے آوازیں آئیں۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون چیختے ہوئے میری طرف آرہی تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ درد کے مارے خود کو نوچ رہی تھی اور کپڑے پھٹ چکے تھے۔ مجھے کسی چیز کا اندازہ نہیں ہوا اس لیے میں نے سب سے پہلے اپنا کوٹ اتار کر اس کے چہرے پر ڈالا کیونکہ وہ بے پردہ ہو رہی تھی لیکن اس دوران تیزاب کا اثر مجھ پر ہوگیا اور میں گر پڑا۔ اس کے بعد مجھے کوئی علم نہیں کیا ہوا'
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بچانے کی کوشش کرنے والے عبدالرازق کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے ناصر قبیلے کے مشران نے انہیں ہسپتال جا کر داد دی اور کہا 'ان کی یہ بہادری ہم سو سالوں تک نہیں بھول پائیں گے'
حملہ کرنے والا مرد تھا۔ بچانے کی کوشش کرنے والا بھی مرد تھا۔ فرق فقط اتنا تھا کہ حملہ کرنے والا لعنتیں وصول کر رہا ہے جبکہ بچانے کی کوشش کرنے والا داد و تحسین سمیٹ رہا ہے۔
کوئٹہ کے سول ہسپتال میں 6 جون ڈاکٹر ماہ نور نامی ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ یہ تیزاب ایک مرد نے پھینکا اور بھاگ نکلا۔ پولیس نے ایک کارروائی میں مبینہ طور پر اسے پار کر دیا ہے۔
دوسری طرف بچانے کی کوشش کرنے والا عبدالرازق بہادری کا استعارہ بن گیا ہےہم اکثر 'مرد' کو ایک اکائی کی طرح بیان کرتے ہیں جیسے سب ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوں۔جب کوئی عورت کسی مرد کے ہاتھوں تش۔دد کا شکار ہوتی ہے تو سوال اٹھتا ہے 'مرد ایسے کیوں ہوتے ہیں؟' یا 'سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ' اور جب کوئی مرد اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچانے کو دوڑتا ہے تو اس کا ذکر عموماً حاشیے میں ہوتا ہے۔
ہمایون شاہ نامی اس ملزم نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا اس نے جو کیا وہ بظاہر ایک ایسی ذہنیت کا اظہار تھا جو عورت کو اپنے غصے، حسد یا تکبر کا نشانہ سمجھتی ہے۔ وہ ذہنیت جو طاقت کا مطلب دوسرے کو دھتکارنا سمجھتی ہے۔۔۔جبکہ عبدالرازق نے اسی لمحے، اسی جگہ کچھ اور ثابت کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ مردانگی کا مطلب گرتے ہوئے کو تھامنا ہے۔
ہمارے ہاں مردانگی کا جو تصور رائج ہے وہ بڑی حد تک غلط ہے۔ ہم نے مرد کو طاقتور بنا کر پیش کیا ہے لیکن یہ نہیں سکھایا کہ طاقت کی ڈائریکشن کیا ہونی چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طبقہ وہ بنا جو کمزور پر اپنی طاقت آزماتا ہے اور دوسرا طبقہ وہ جو اسی طاقت کو ڈھال بناتا ہے۔
ہمایون نے پہلی قسم کی مردانگی کا مظاہرہ کیا جبکہ عبدالرازق نے دوسری۔ ایک نے ثابت کیا کہ وہ کتنا خوفزدہ ہے اندر سے۔ کیونکہ تیزاب وہی پھینکتے ہیں جو کسی کو برابر کا انسان نہیں سمجھتے۔۔دوسرے نے ثابت کیا کہ انسان ہونا کیا ہوتا ہے!
ہمارے معاشرے میں بہادری کے بڑے بڑے قصے لکھے جاتے ہیں میدان جنگ، تلوار اور بندوق کی کتنی ہی کہانیاں ہم سن چکے ہیں لیکن میرے مطابق سب سے بڑی بہادری وہ ہوتی ہے جب آپ کسی کے حق میں بغیر کسی لالچ اور تعریف کے اس وقت سامنے آئیں جب سب پیچھے ہٹ چکے ہوں۔ عبدالرازق اس لمحے وہاں تھا اور اس نے وہ کیا جو بہت سے لوگ نہیں کرتے یا نہیں کر پاتے۔ وہ رکا نہیں، پیچھے نہیں ہٹا، یہ نہیں سوچا کہ 'میرا کیا کام'بلکہ اس نے بچانے کی کوشش کی۔
پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز، استانیوں، صحافیوں اور کارکنوں پر تشدد کی ایک بڑی تاریخ موجود ہے۔ ہر بار ہم سوگ مناتے ہیں بیانات دیتے ہیں، ہیش ٹیگ چلاتے ہیں اور پھر اگلے واقعے تک کسی اور کام میں مصروف ہوجاتے ہیں لیکن شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہمایون شاہ جیسے لوگ کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ عبدالرازق جیسے لوگ ہم کیوں نہیں بناتے؟ یہ تو واضح ہے کہ معاشرہ اپنے محافظوں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ہمایون جیسے لوگ افسوس ناک حد تک ہر معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن عبدالرزاق بھی تھا۔ اور عبدالرزاق کا ہونا اس امید کی کرن ہے کہ اب بھی بہت کچھ باقی ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر ابھی کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حکومت نے انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی بھیجا۔ واقعے کے بعد حکومت نے بہت کچھ کیا۔ یہ سب ضروری تھا۔ لیکن کافی نہیں کافی تب ہو گا جب کوئٹہ کے ہر ہسپتال میں کوئی عورت چاہے ڈاکٹر ہو، نرس ہو، یا مریض محفوظ محسوس کرے۔
میں یہ تحریر عبدالرازق کے لیے لکھ رہا ہوں اس لیے نہیں کہ وہ ہیرو ہے بلکہ اس لیے کہ ہم اکثر ایسے لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم حملہ آور کو یاد رکھتے ہیں۔۔ اس کا نام، اس کی تصویر، اس کا انجام سب یاد رہتا ہے لیکن بچانے والا کہیں گم ہو جاتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ جس دن ہم ہمایون شاہ کو بھول جائیں اور عبدالرازق کو یاد رکھیں اس دن یہ معاشرہ کچھ بہتر ہو گا۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے دعا ہے کہ وہ صحت یاب ہوں اور ان جیسی ہر بیٹی کے لیے جو اس ملک کی خدمت کرنے نکلتی ہے اور اپنی جان خطرے میں پاتی ہے۔
ادیب یوسفزئی
🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔
لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔
اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔
یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔
“A strong Pakistan is good for America and a strong America is good for Pakistan” - The US diplomat in Pakistan
Another ‘success story’ of Modi-Jaishankar foreign policy!
19 گریڈ کا پروفیسر جس کی جوانی علم کی روشنی پھیلتے ہوئے گزری اور اسکی موت بھی علم کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہوئی۔۔۔وہ کباڑ سے خریدی 70 موٹر سائیکل پر ڈمپر کے نیچے آجاتا ہے جبکہ چار انگریزی کے لفظ پاس کرکے 17 گریڈ کا "بابو" سرکاری افسر دو کروڑ کی لینڈ کروزر میں چھ پولیس کمانڈوز کی حفاظت میں پیاز ٹماٹر کی ریڑھیاں الٹی کرتا ہے۔
19 گریڈ کا پروفیسر استاد چھ لاکھ کی پرانی مہران نہیں خرید سکتا، 14 گریڈ کا ایس ایچ او اسلام اباد ڈی ایچ اے اور کراچی کے بحریہ ٹاؤن میں دس کروڑ کا بنگلہ خرید لیتا ہے۔
بارہ گریڈ کا پچاس ہزار روپے تنخواہ لینے والے پٹواری کا بینک بیلنس تیس تیس کروڑ روپے ہوتا ہے اور وہ سو سو ایکڑ زرعی زمینوں کا مالک بن جاتا ہے جبکہ 19 گریڈ کا پروفیسر پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دیتا ہے، ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے پاس بیٹی کی شادی کے لئے پیسے نہیں ہوتے جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ کانسٹیبل بیٹی یا بیٹے کی شادی میں پچاس لاکھ روپے اڑا دیتا ہے۔
ثابت ہوا پیسہ تعلیم میں نہیں ناجائز پاور اختیارات میں ہے۔تلخ حقیقت
Former US First Lady Dr Jill Biden’s memoir ‘View from the East Wing’, released on 2 June, is revealing about reality of American politics, where Israeli Influence & Israeli Lobby are Paramount: before a meeting of President Biden with Israeli PM Netanyahu in 2024 at height of #GazaGenocide, Dr Jill Biden had to tell her husband, America’s supposedly powerful President: ‘Be strong, stand up to Netanyahu’! No wonder, ALL US Presidents are weaklings before Israel, hence, they always pander to an ‘Israel First’ policy! @DrBiden@JoeBiden
Wrong decision at wrong time, repeating past mistakes of mishandling dissent: at a time when India is totally on the run in the region, isolated diplomatically because of their failed & flawed policies on Pakistan & Indian Occupied Kashmir, Pakistan’s Officialdom creates new crisis in sensitive Azad Kashmir imposing this silly, shortsighted ban, even invoking anti-terror laws against political dissenters!
In India’s capital region, the fire is on the 12th floor but fire truck can throw water till 6th floor. A couple days back, a couple of dozen, mostly foreign tourists died in Delhi in a hotel fire. Still, India is a ‘superpower’!
سابق وزیرخزانہ شوکت ترین شکر کریں کہ وہ پاکستان میں تھے جہاں لکڑ ہضم پتھر ہضم چلتا ہے۔ اگر وہ نارتھ کوریا، ایران ، سعودیہ ، چین یا روس میں ہوتے تو اب تک کہیں لٹکے ہوئے ہوتے جو انہوں نے خطرناک حرکت کی تھی۔
@NeoNewsUR@fawadnb
پروگرام مکمل لنک
👇
https://t.co/vmefwiiaPG
Russian President Putin lectured a Pakistan obsessed Indian journalist “I don't think Pakistan is a country that is fully under the control of China. Pakistan is a large country, and it has multi-faceted ties with different countries”.
پی آئی اے کے دو اسٹیشنز انڈیا میں بھی ہیں۔ یہ دفاتر ممبئی اور نیو دہلی میں موجود ہیں اور پاکستان کی اپنی ملکیت ہیں۔ ممبئی کے دفاتر کی قیمت انڈین روپے میں گیارہ کروڑ پچیس لاکھ جبکہ نیو دہلی میں موجود پی آئی اے کے دفاتر کی قیمت بارہ کروڑ انیس لاکھ روپے ہے۔
سئنیر صحافی و تجزیہ نگار رؤوف کلاسرا
@KlasraRauf@RabeeaSK@Muqabil_With_RK
رانا ثنا اللہ کا شکریہ کہ انہوں نے مقبول بٹ کو سب سے بڑا شہید اور مجاہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی فیملی بھی مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آئی تو پشاور میں آباد ہوئی رانا صاحب کو بتایا شہید مقبول بٹ کی کتاب شعور فردا پر نواز شریف کے دور میں پابندی لگائی گئی تھی وہ تو ختم کروا دیں
🚨🚨
For the main estate, the club pays Rs5000 a year in rent. Not per kanal. In total. That comes to Rs417 a month, or under fifty paisas per kanal, for some of the most valuable earth in Pakistan. How little is Rs5000? Consider it against the government’s upper commercial rate. The land is worth Rs218 billion so fair rent would be about Rs4.36 billion a year. Under the government’s 2023 policy, clubs can pay a tenth of market rent, but this would still come to Rs400 million a year. The club pays Rs5000.
https://t.co/8X2H8oF3VM
میرے دنیا اخبار کالم سے اقتباس
پبلک اکاونٹس کمیٹی کی موت
رئوف کلاسرا
میں پرویز مشرف کے دور سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کور کر رہا ہوں۔ پچیس برس ہونے کو آئے ہیں۔
وہاں میں نے افسران کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ 2006ء تک افسران کی ایک بہترین کلاس نظر آتی تھی؛ پڑھے لکھے‘ عمدہ انگریزی بولنے والے‘ کتابوں کے شوقین‘ اپنی وزارت کے معاملات پر مکمل گرفت رکھنے والے اور سب سے بڑھ کر پچاس سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ‘ آڈٹ افسران‘ فنانس کے نمائندوں اور میڈیا کی موجودگی میں سخت ترین سوالات کا سامنا کرنے اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والے۔
پھر آہستہ آہستہ وہ نسل ریٹائر ہونا شروع ہوئی تو بیوروکریسی میں وہ معیار نہ رہا۔ اب اکثر سیکرٹری بغیر تیاری کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آتے اور منت سماجت شروع کر دیتے ہیں کہ مہربانی کرکے آڈٹ پیرا سیٹل کر دیں‘ غلطی ہوگئی‘ معاف کر دیں۔ وہ آڈٹ پیروں کو میرٹ پر نہیں بلکہ سفارش اور منت سماجت کے ذریعے نمٹانا چاہتے۔ اراکین بھی آہستہ آہستہ مہربان ہونا شروع ہو گئے کہ ہمیں بھی سیکرٹری صاحبان سے کام پڑتے ہیں۔ یوں احتساب پس منظر میں چلا گیا اور ذاتی مفادات و ضروریات نے ترجیح حاصل کر لی۔
تاہم اس دوران بھی کچھ افسران ایسے تھے جو اپنی سروس کا جھنڈا بلند کیے ہوئے تھے۔ ایک وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا اور دوسرے ظفر محمود تھے۔
ایک دن دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ اجلاس جاری تھا اور کچھ آڈٹ پیروں پر بحث ہو رہی تھی جن کے بارے میں سیکرٹری ظفر محمود وضاحتیں پیش کر رہے تھے۔ ان میں ایک ایسا فیصلہ بھی شامل تھا جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس وقت آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک سابق سیکرٹری فنانس تھے۔
وہ ظفر محمود سے سخت سوالات کر رہے تھے اور کمیٹی کے اراکین سے کہہ رہے تھے کہ اس آڈٹ پیرا کے حوالے سے انکوائری ہونی چاہیے اور یہ طے ہونا چاہیے کہ یہ فیصلہ کس افسر نے کیا۔ ظفر محمود جو اَب تک مختلف انداز میں جوابات دے رہے تھے آخرکار مسکرائے اور آڈیٹر جنرل سے بولے: ''سر! آپ میرے سینئر ہیں‘ اس لیے میں سروس کی روایات کے تحت اپنا دفاع کر رہا تھا لیکن شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ یہ آڈٹ پیرا آپ کے اپنے دور کا ہے اور یہ فیصلہ بھی آپ ہی نے کیا تھا‘ جب آپ اس کرسی پر موجود تھے۔
یہ سُن کر پہلے تو اجلاس کے شرکا کو جیسے سانپ سونگھ گیا‘ پھر ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا اور آڈیٹر جنرل شرمندہ ہو کر رہ گئے۔
اسی طرح ایک اور دبنگ افسر جنہیں میں نے قریب سے دیکھا وہ احمد نواز سکھیرا تھے۔ شاید اُس وقت وہ نجکاری کمیشن میں سیکرٹری تھے۔ سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ایک سینیٹر نے اونچی آواز میں ان پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی۔ سکھیرا صاحب کچھ دیر مسکرا کر یہ سنتے رہے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ سینیٹر صاحب کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ رہے ہیں تو اُس راجپوت افسر نے بڑے سکون سے جواب دیا: ''سر! ہم عزت کیلئے نوکری کرتے ہیں‘ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں کیونکہ آپ اس قوم کے نمائندے ہیں۔ ہم آپ کو جوابدہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہاں سب کے سامنے ہم سے اس لہجے میں بات کریں۔ اونچی آواز میں بات کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ ہم سب کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں اور جواباً آپ سے بھی عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ سوال کریں ہم جواب دیں گے لیکن ہمیں ذلیل کرنے کا حق آپ کو نہیں ہے‘‘۔ اس جواب کے بعد اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔
میرے رپورٹنگ کیریئر میں وہ پہلے افسر تھے جنہوں نے اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا نہیں کیا‘ ورنہ کسی کو اپنے افسر کو اس انداز میں جواب دیتے کم ہی دیکھا ہے۔
اگر آڈیٹر جنرلز کی بات کی جائے تو مشرف دور کے آڈیٹر جنرل منظور صاحب اور بعد ازاں اختر بلند رانا کو میں نے اصولی مؤقف اپناتے دیکھا۔
منظور صاحب پی اے سی کے اراکین کو سفارش یا غلط بنیادوں پر آڈٹ پیرا سیٹل نہیں کرنے دیتے تھے۔ وہ خبردار کرتے تھے کہ اگر آپ نے ان پیروں کے ساتھ انصاف نہ کیا تو میرا آڈیٹر دوبارہ اتنی محنت نہیں کرے گا اور کوئی سکینڈل آپ تک نہیں پہنچ پائے گا۔
اسی طرح اختر بلند رانا نے چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ کو ان کے منہ پر کہہ دیا تھا: ''میں نے پچھلی پیپلز پارٹی حکومت اور آپ کی وزارت کے خلاف سو سے زائد رپورٹس کمیٹی میں پیش کرنی ہیں‘ اور آپ ہی آگے کرسی پر بیٹھ کر ان رپورٹس پر جج‘ جیوری اور جلاد کا کردار ادا کریں گے۔ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ وہ پھر خورشید شاہ کی کمیٹی میں نہیں آئے؛ اگرچہ بعد میں مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مل کر سپریم جوڈیشل کونسل کی مدد سے انہیں عہدے سے ہٹوا دیا لیکن داد دینی چاہیے اس افسر کو کہ اس نے آڈیٹر جنرل کا عہدہ کھو دیا مگر سمجھوتا نہیں کیا۔
نواز شریف گلگت بلتستان والوں سے شکوہ کر رہے ہیں جب مجھے زبردستی دیس سے نکالا گیا تو آپ خاموش کیوں رہے؟ یہ شکوہ انہیں اپنے شہر لاہور سے کرنا چاہئیے وہ بھول گئے کہ آج بھی انکا بھائی وزیراعظم اور بیٹی وزیراعلیٰ ہے جس جنرل باجوہ نے انہیں 2017 میں نکالا اسے 2019 میں ایکسٹنشن کس نے دی؟