جب میں کسی جانور کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے کوئی جانور نظر نہیں آتا۔ مجھے ایک زندہ وجود نظر آتا ہے۔ میں ایک دوست کو دیکھتا ہوں۔ میں ایک روح محسوس کرتا ہوں۔😇♥️
Leo🫶🏻
یہ کورین ورڈ (정)دو تین سال پہلے بحوالہ ایک book میں پڑھا تھا بہت ہی دلچسپ لگا
اس تعلق کا تجربہ اور بھی خوبصورت ہے میری خواہش ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں اس bond کو ایک بار ضرور محسوس کرے لیکن !احتیاط سے اظہار کیجئے کیونکہ ہر انسان اس کا بار نہیں اٹھا سکتا ❤️☕
Jeong (정) More than love,it’s a
quiet bond built through time, memories, and a sense of belonging. A connection that the heart feels, even when words fall short.
کبھی کبھی آپ کسی سے محبت کا اظہار نہیں کرتے، مگر اس کی موجودگی آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس کے بغیر کچھ ادھورا سا محسوس ہوتا ہے۔ یہی کیفیت Jeong کے قریب ہے۔
یعنی محبت دو دلوں کو قریب لاتی ہے، اور جیونگ انہیں ایک دوسرے کا مانوس حصہ بنا دیتی ہے۔ ❤️
ہمارے بیج نے یہ سونگ اپنے یونیورسٹی کیمپس کہ گارڈن میں گھاس پر بیٹھ کر احمد جہانزیب سے گٹار کے ساتھ live سنا اور اب تک جب بھی سنتی ہوں nostalgia فیل ہوتا ہے ❤️
قام شخص يبدو أنه من ماما افريكا بــ،،،ـرقــ،،ـة مقيم باكستاني في احد شوارع الرياض وذلك بعملية نـ،ـصب غريبة يبدو أنه استخدم البـ،،ـودرة على الضـ،،ـحيه..
شـ،،ـارك المقطع ليـ،،ـستفيد غيرك.
#السعودية
اپنی محبت دینے پر کبھی شرمندہ مت ہونا۔ یہ سوچ کر کبھی خود کو قصوروار مت سمجھنا کہ تم نے بہت کچھ کہہ دیا، بہت گہرائی سے محسوس کیا، یا تم ہی وہ شخص تھے جس نے زیادہ پرواہ کی۔
اپنی محبت اور خلوص کا اظہار کرنے سے بڑھ کر کوئی بہادری نہیں، اور اپنے جذبات و جنون کو کھل کر ظاہر کرنے سے بڑھ کر کوئی مضبوط قدم نہیں۔
وقت کے ساتھ، تمہاری محبت ہمیشہ کسی نہ کسی صورت تمہارے پاس لوٹ کر آئے گی۔🚬
ِر فاصلے تو فاصلے، گِر قربتیں تو قربتیں
گِر آزمائشیں تو آزمائشیں، گِر راحتیں تو راحتیں
ِر محبتیں تو محبتیں، گِر عداوتیں تو عداوتیں
گِر قربتیں تو قربتیں، گِر رقابتیں تو رقابتیں
گِر راحتیں تو راحتیں، گِر اذیتیں تو اذیتیں
اسلام آباد میں ذہین ترین گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی خودکشی،درخت سے جھولتی لاش نے مجھے ہلا کر رکھ دیاہے، میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ تصویر یہاں لگا سکوں ۔۔۔اس ذہین بچی کا یہ لاش اس بدبودار ،استحصالی نظام،عدلیہ،پارلیمنٹ اور نظام حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے،ایک غریب مخنت کش،دودھ فروش باپ کی ذہین ترین گولڈ میڈلسٹ طالبہ ان انسانی سمگلروں،جعل سازوں، اس بدبودار نظام کی وجہ سے خودکشی پر مجبور ہوئی ۔۔۔
باپ نے پلاٹ فروخت کرکے21 لاکھ فراہم کئے ماں نے زیور بنک میں رکھوا کر 70 لاکھ پورے کئے تاکہ ذہین بیٹی کی بیرون ملک تعلیم کا خواب پورا کیا جاسکے لیکن انسانی سمگلروں، جعل سازوں نے سب کچھ لوٹ لیا،
اگر حکمران اسلام آباد اور اٹک کو کنٹینرز سے بند کرنے سے فارغ ہوگئے ہوں، بیرونی دوروں سے فرصت ملی ہو، ٹرمپ کی تعریفیں مکمل ہوچکی ہوں اور پروٹوکول اجازت دے تو ریاست پر قابض اشرف المخلوقات ذرا ان غریب درماندہ پسے ہوئے مخلوق کی بھی خبر لیں۔
اے اللہ ہمیں معاف فرما،ہم اس ظلم مَیں شریک نہیں، ہم ان ظالموں کے سہولت کار نہیں۔۔۔ہم۔ان سے برات کا اعلان کرتے ہیں۔۔