اگر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، تو گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کا حالیہ ڈگری سکینڈل ہی کافی ہے۔
تحریک انصاف کے ایک سابق وزیراعلیٰ نے ایک پرو وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ کو 85 نمبر سے اوپر لاکر تعینات کیا(یہ موصوف سوات ویٹرنی��ی یونیورسٹی میں تعینات تھا اور ان کو سوات یونیورسٹی سے گومل یونیورسٹی اور ایگریکلچر یونیورسٹی ڈی آئی خان کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا)، اور انہی کے دور میں مبینہ طور پر گومل یونیورسٹی سے 500 سے زائد جعلی ڈگریاں جاری ہوئیں۔ بعد ازاں جب ایک مستقل وائس چانسلر تعینات ہوا تو اس نے اس معاملے کی انکوائری شروع کی اور تمام تر سیاسی دباؤ اور بااثر شخصیات، بشمول مینا خان، کو خاطر میں لائے بغیر سلیکشن بورڈ بھی منعقد کرایا۔ جب احتساب کا عمل آگے بڑھا تو اسی وائس چانسلر کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انہیں جبری رخصت پر بھیجنے کی ��فارش کی ہے، حالانکہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں کہیں بھی ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔اسی دوران یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ وائس چانسلر نے اس پر اپنی سطح پر باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور زمہ داران کو معطل کروایا، لیکن اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک الگ انکوائری کمیٹی قائم کر دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی اسی شخص ڈاکٹر شکیب اللہ کے سپرد کی گئی جسے سابق وزیراعلیٰ نے پرو وائس چانسلر مقرر کیا تھا اور جس کے دورِ تعیناتی میں جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آیا۔ اب فائرنگ کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی جعلی ڈگریوں تک کیسی پہنچی یہ الگ داستان ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کسی مخالف سیاسی جماعت یا کالے چینلز کی کہانی نہیں، بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اپنی سرکاری دستاویزات سے سامنے آنے والے حقائق ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر تحقیقات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور الزامات کا سامنا کرنے والوں کو ہی تحقیقات کی نگرانی سونپ دی جائے، تو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور احتساب کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟
خیبر پختونخوا کی جامعات کو سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور انتظامی انتشار کے حوالے کرنا صوبے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
خان رہا ہوتے ہیں یا نہیں، یہ اپنی جگہ؛ لیکن ان کے نام پر جس انداز سے اداروں کو چلایا جا رہا ہے، اس کی قیمت پورا صوبہ ادا کر رہا ہے۔ جلد یا بدیر اس حقیقت کا ادراک صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی ہو جائے گا جنہوں نے یہ نظام قائم کیا۔
الحمدالله
الحمدللہ، پشاور کے علاقے پشتخرہ سے لاپتہ ہونے والی دونوں بچیاں ایمل ولی خان صاحب کی کوششوں سے ڈیرہ اسماعیل خان سے بحفاظت برآمد کرلی گئی ہیں۔
#شکریہ_ایمل_ولی_خان
میں اپنے دوستوں کا کس قدر ممنون ہوں انور
کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں
...
اس نے گھٹیا پن دکھایا ہے تو اس کا کیا کروں
اس میں مجھ میں فرق کیا.میں بھی اگر ایسا کروں
ايمل ولې خان او شکيل خان نه معافي نه
الله نه معافې اوغواړه توبه ګار شه تا د الله بنديان او د محمد صلی الله عليه وسلم امتيانو ته کاديانان وييلې تا له دا حق چا درکړې معصوم شاه باچا ؟
تا د ارزان شهرت دپاره دا ټوله ډرامه کړې
اصل توهين خو تا کړې دې
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے
اسلام میں عقیدۂ ختمِ نبوت بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے۔
اس کے مطابق حضور ﷺ آخری نبی ہیں
اور آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک کے لیے مکمل اور جاری
جو کچھ اس وقت ہورہا ہے، یقین کریں یہ کچھ بھی نہیں۔ جب میں خود سامنے آؤں گا اور "فیکٹس آر فیکٹس" پر تاریخ کے وہ ابواب کھولے جائیں گے جنہیں برسوں سے چھپانے کی کوشش کی گئی، تو بہت سے لوگوں کیلئے صورتحال ناقابلِ برداشت ہوجائے گی۔ لہٰذا پرسکون رہیں، تحمل سے کام لیں اور محض تماشا دیکھیں۔ یہ پلیٹ فارم نہ کوئی مذہبی چینل ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی مذہب کے خلاف یا حق میں پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ "فیکٹس آر فیکٹس" صرف تاریخ، سیاست اور حقائق کی بات کرتا ہے۔
ویسے بھی مذہب انسان اور اُس کے خالق کے درمیان ایک ذاتی تعلق ہے، اس میں کسی تیسرے فرد کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی۔ ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو انفرادی طور پر جواب دینا ہے، اس لیے دوسروں کے ایمان کی فکر کرنے کے بجائے اپنے اعمال اور اپنے کردار کی فکر کریں۔
جہاں تک ایک شخص کے گرد جاری ہنگامہ آرائی اور تنازعے کا تعلق ہے، م��ھے اس کی حقیقت کا پہلے علم نہیں تھا، جتنا اب آپ سب سے معلوم ہوا ہے۔ لہٰذا وہ اب اس ٹیم کا حصہ نہیں ہوگا۔
جڑے رہیں، ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔ آپ سب کا شکریہ۔
باچا خان بابا کے عدم تشدد اور شعور کے مشن سے لے کر ولی خان کی اصولی سیاست اور اسفندیار ولی خان کی جمہوری جدوجہد تک — یہ ایک نظریہ ہے، ایک تحریک ہے، اور ایک تاریخ ہے۔
ہمیں فخر ہے کہ آپ اسی راستے کے امین ہیں۔ یہ صرف سیاست نہیں، عوامی حقوق اور پختون وقار کی جدوجہد ہے۔
ہم آپ کے ساتھ ہیں — اصول، حق اور جمہوریت کے ساتھ۔
جو کچھ اس وقت ہورہا ہے، یقین کریں یہ کچھ بھی نہیں۔ جب میں خود سامنے آؤں گا اور "فیکٹس آر فیکٹس" پر تاریخ کے وہ ابواب کھولے جائیں گے جنہیں برسوں سے چھپانے کی کوشش کی گئی، تو بہت سے لوگوں کیلئے صورتحال ناقابلِ برداشت ہوجائے گی۔ لہٰذا پرسکون رہیں، تحمل سے کام لیں اور محض تماشا دیکھیں۔ یہ پلیٹ فارم نہ کوئی مذہبی چینل ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی مذہب کے خلاف یا حق میں پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ "فیکٹس آر فیکٹس" صرف تاریخ، سیاست اور حقائق کی بات کرتا ہے۔
ویسے بھی مذہب انسان اور اُس کے خالق کے درمیان ایک ذاتی تعلق ہے، اس میں کسی تیسرے فرد کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی۔ ہم سب نے اللہ تعالیٰ کو انفرادی طور پر جواب دینا ہے، اس لیے دوسروں کے ایمان کی فکر کرنے کے بجائے اپنے اعمال اور اپنے کردار کی فکر کریں۔
جہاں تک ایک شخص کے گرد جاری ہنگامہ آرائی اور تنازعے کا تعلق ہے، مجھے اس کی حقیقت کا پہلے علم نہیں تھا، جتنا اب آپ سب سے معلو�� ہوا ہے۔ لہٰذا وہ اب اس ٹیم کا حصہ نہیں ہوگا۔
جڑے رہیں، ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے۔ آپ سب کا شکریہ۔
سورپوش ګروپ وایي چې موږ پرې دستخط کړی دی.
وایي چې ایمل خان نه مني نو موږ یې نه منو که په سر یې خکر هم وي.
او سورپوش ګروپ دا هم وایي چې په ګوند کې دوه مخې خلک نه منو.
#aimalwalikhanourredline
@AimalWali@160Abid ایمل ولی خان نے صرف جلسوں میں بات نہیں کی بلکہ دہشتگردی اور بدامنی کے خلاف عدالتوں تک گئے تاکہ پشتون عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ یہی فرق ایک سنجیدہ سیاسی قیادت اور وقتی نعروں میں ہوتا ہے۔
#AimalWaliOurRedLine
Good bad ttp pti ptm
پی ٹی آئی ٹی ٹی پی پی ٹی ایم یعنی گودام کی پیداوار ڈی چوک کی پیداوار اور کمپنی کی پیداوار جو بھی ہو ایمل ولی خان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں
@ANPMarkaz@ANPSpox#AimalWaliOurRedLine