ایاک نعبدو و ایاک نستعین
اے اللہ تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں 😍
عمران خان کے صف اول کی کھلاڑی
Coffee in one hand, confidence in another
غور سے سنیں! امپورٹد حکومت اور ہینڈلرز کی میٹنگ ایسی ہوتی ہوگی
نیٹ فلیکس سے کمال کا کلپ ہاتھ لگا ہے لیکن یہ پٹواریوں کو سمجھاے گا کون؟؟؟؟ یہ تو انگلش میں ہے کل بولیں گے میاں صاحب کی سرخروئی کی کوئی بات ہو رہی ہے
تمہیں کیا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم جانتی نہیں ہے کہ آج قاسم سوری، علی امین گنڈاپور، علی اعوان، حماد اظہر، مراد سعید مطلوب کیوں ہیں؟
فرخ حبیب، حسان نیازی لاپتہ کیوں ہیں؟
تمہیں کیا لگتا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ جیسی درجنوں خواتین جیلوں میں کیوں ہیں؟
عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید کونسی گستاخی کی قیمت چکا رہے ہیں؟
اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان، جنید اکبر جیسے زیر عتاب کیوں ہیں؟
بات اگر ایک عمارت کی تکریم کی ہوتی تو پریس کانفرنسوں والے معاف نہ ہوتے۔ بات اگر کسی ادارے کی تعظیم کی ہوتی تو اس کو سرِ عام گالیاں دینے والے آج منظورِ نظر نا ہوتے. بات اگر “ملک کی سالمیت” کی ہوتی تو ڈان لیک والو، ممبئ حملوں کا الزام اپنی ایجنسیوں پر لگانے والو کے لیے لیول پلئنگ فیلڈ نا سجائ جارہی ہوتی۔
بات جرم کی ہوتی تو عدالتوں میں فیصلے ہوتے۔ ثبوت آتے، دلائل دیے جاتے۔ نو مئی کا تو محظ بہانہ ہے، اصل بات کسی کی انویسٹمنٹ کی ہے۔ بات کسی کی خوشنودی کی ہے۔ بات کسی کی انا کی ہے۔
بات تو ان دکانوں کی ہے جو بند ہوجاتی ہیں اگر ‘آوٹ آف سیلیبس’ قاسم سوری کرسی پہ بیٹھ جاتا ہے۔ اگر علی امین تمہارا جبر سہتے ہوئے قہقہے لگاتا ہے۔ اگر علی اعوان ۱۸ مارچ کو تمہاری گولیوں کے سامنے پلک بھی نہیں جھپکتا۔ اگر حماد اظہر اپنے کاروبار کو تالے لگنے پہ تمہارے قدموں میں نہیں گرتا۔ اگر فرخ حبیب بے خوف ہوکر کالے ڈالوں کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر یاسمین راشد تمہاری ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں کی اگلی کھیپ کے لیے راستہ نہیں چھوڑتی۔ اگر عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ، صنم جاوید تمہیں صنفِ آہن کی اصل تعبیر بن کر دکھا دیتی ہیں۔ اگر عمر چیمہ، محمود الرشید، اعجاز چوہدری بڑی محنت سے بنائے اس متعصبانہ تاثر کو زائل کردیتے ہیں کہ پنجاب کبھی حاکمِ وقت کے خلاف نہیں کھڑا ہوتا۔
اگر اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان اپنی تمام تر نرم خوئ کے باوجود اصول پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ اگر جنید اکبر تمہاری چالوں کو تمہی پر الٹ دیتا ہے۔ بات اس جسارت کی ہے جو ان ہزاروں کارکنان نے کی جنہیں تم نے کبھی اپنے اصل مجرموں سے سوال پوچھنے کا حق نہیں دینا تھا۔
بات تو ان گناہوں کی ہے جن پر پردہ ڈالنا مطلوب ہے۔ بات اس غداری کی ہے جو ملک کے منتخب سربراہ سے کی گئی۔ بات اس قتل کی ہے جہاں قاتلوں کو یقین تھا کہ ان کے جُبہ پر لگی خون کی چھینٹوں کی جانب کوئ اشارہ نا ہوگا۔ بات اُس عالمی سیاست کی ہے جہاں ہمارے جیسے ملکوں کی عوام کو ایندھن بنا کر افراد کی طاقت کو دوام بخشا جاتا ہے۔ وہ سیاست جس میں قابلِ قبول وہی عناصر ہیں جو بند کمروں میں تسلی دیتے ہیں کہ تم قتل کیے جاؤ ہم زبانی کلامی مذمت سے آگے نا بڑھینگے۔ وہ سیاست جو اپنے کاروباری مراسم کو ان پر ترجیح دیتی ہے کہ جو ۷۶ سال سے اپنے مُردے بھی پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ وہ سیاست جو اپنی سرزمین کی تقسیم کے نعرے پر قائم ہے۔ وہ سیاست جو دین کی دستار سے اپنے تر دامن ڈھانپتی ہے۔
اسی سیاست سے ہی تو تمہاری طاقتوں کو دوام ہے۔ اسی میں تو ڈیلیں ہوتی ہیں۔ باریاں لگتی ہیں۔ مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ نوراکشتی ہوتی ہے۔ اسی کی بدولت تو تم سی قوتوں کو قبولیت ملتی ہے۔
اُس سیاست کی پروردہ کسی طاقت کو کیونکر ریاستِ مدینہ کا کوئ نام لیوا گوارا ہوگا۔ کسی کا ایبسلوٹلی ناٹ کہنا قبول ہوگا۔
کیسے وہ لوگ قبول ہونگے جو اپنے حق کا سوال کرنا جانتے ہیں۔ جو مقابلہ کرتے ہیں، جو ڈٹ جاتے ہیں۔ جو ملک کو اپنی میراث اور عوام کو اپنی رعایا نہیں سمجھتے۔
تمہیں کیا لگتا ہے قوم نہیں جانتی کہ تمہیں مطلوب قاسم سوری، علی اعوان، علی امین، حماد اظہر، مراد سعید نہیں ہیں تمہیں مطلوب وہ شعور ہے جس نے انہیں تمہاری طاقت کے آگے حرِف سوال بلند کرنے کی جرات عطا کی۔ تمہیں مطلوب ان کی فکری آزادی ہے۔ تمہیں مطلوب وہ ادراک ہے جس سے تم نے انہیں بے بہرا رکھنا تھا۔۔ یہ ادراک کہ وہ ریاست کا استعارہ ہیں، کوئ ایک فرد، چند عہدیدار نہیں!
Chairman Imran Khan’s message:
My arrest was expected & I recorded this message before my arrest.
It is one more step in fulfilling London Plan but I want my party workers to remain peaceful, steadfast and strong.
We bow before no one but Allah who is Al Haq. We believe in La illaha Ilallah
#لندن_پلان_نامنظور
صحافت کے عالمی دن کے موقع پہ پاکستانی صحافیوں کے کردار و افکار کی اس سے بہتر عکاسی نہیں ہوسکتی ۔ملاحظہ فرمائیں ہمارے صحافیوں نے کس قدر منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔
یہ رہے اینٹی اسٹبلیشمنٹ اور ائین کے کسٹوڈین اور تہتر کے ائیں کے خالقوں کی پارٹی کے نیتا
تم سے نہ ہو پائے گا حالانکہ سوال تو یہ بنتا ہے اپ نے بھی کابینہ ڈویژن کے اجلاس میں بیٹھ کر عدالت کے فیصلے کو جوتی کی نوک پر رکھا ہے؟؟؟
اس جذبے کو کیسے شکست دے سکوں گے؟؟؟
جیالوں کے بہادری کے خود ساختہ کہانیاں سنی تھی لیکن یہ یوتھئے ممی ڈیڈی برگر بدتمیز بچے ہی بہادری کے داستانیاں رقم کر رہے ہیں اور جیالوں سے دستہ بدستہ گزارش ہے کہ اگر اتنے بہادر تو تمہارا لیڈر یوں پھانسی نہ چڑھتا لہذا قد کے مطاطق بات کریں
زخموں اور تھکاوٹ سے بھرپور مگر چہرے پر مسکراہٹ تو شاعر کچھ یوں کہتا ہے پھر۔
زخموں سے بدن گلزار سہی تم اپنے شکستہ تیر گنو۔
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے۔
مذہب کی آڑھ لے کر اب عوام پہ دیوث سور چھوڑے جائیں گے، لیکن آپ نے ڈانگ وہی پرانے والی ہاتھ میں رکھنی ھے جس سے پہلے کھوتے، زیبرے، لگڑبگڑ وغیرہ بھگائے گئے ہیں۔
کمپنی پر انڈیا کے جانب سے ان گھٹیا ترین الفاظ کی مذمت کی جاتی ہے۔ پاکستان زندہ اباد
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
یہ چاروں کو کوئی جانتی ہیں کیا کسی کو پتہ ہے کہ ان چاروں لڑکیوں کی ویڈیوں نیوٹرل کے ساتھ مارکیٹ میں آئی ۔
آگر ہر آدمی آپ جیسے بن جائے تو تم میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا ۔
اخے خان کو سیاست نہیں اتی !!
سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ پولیس قیدی لیجا رہی ہے یا تحریک انصاف سرکاری وسائل پر الیکشن کیمپین کر رہی ہے۔۔
ہر اٹھتا قدم الیکشن کی بھرپور تیاری ہے
خان پاکستان کیلئے ناگزیر ہے
آنکھیں بند کیجئے اور ویڈیو چلائیں اگر مورگن فری مین سے بھی بہتر نہ لگا تو میں جرم دار ۔۔۔۔۔
بے شک انمول ہیرا تھا ۔۔
اردو زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر گرفت
ریسٹ ان پیس