آنسو چَهلک چَهلک کے ستائیں گے رات بهر
موتى پَلک پَلک میں , پِرويا کریں گے هم
مل کر جدا ہوئے تو , نا سويا کریں گے هم
اک دوسرے کى ياد میں رويا کریں گے هم
🌓
لے چلا ہے جو ہمیں تو دل کی اس دنیا میں اب
روشنی ایسی دکھا، ہر سمت جو پھیلی رہے
تیرے جلووں سے سجی یہ محفلِ تنہائی رہے
حسرتِ دیدار میں ہر پل پگھلتے ہی رہے
دردِ دل ایسا ملا ہے جو کبھی کم نہ ہوا
کوئی سودائی یہاں ہم سا بھی تو پیدا نہ ہوا
دل کسی وجہ سے دُکھی ہے مگر
کچھ بھی ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
ذہین اُلجھا ہوا ہے کچھ دن سے
لیکن اِتنا نہیں کہ تُم سے کہیں
تم کو آتا نہیں کہ ہم سے کہو
ہم سے ہوتا نہیں کہ تُم سے کہیں
جواد شیخ
🌓
ایک تو میں ہجر سر پر اٹھائے پھرتا ہوں
دوسرا راستے میں یہ دل گنوائے پھرتا ہوں
آئینے سے اب میرا کوئی تعلق ہی نہیں رہا
بس ایک صورت ہے جو آنکھوں میں بسائے پھرتا ہوں
شام ہوتے ہی دیے یادوں کے جل اٹھتے ہیں
میں اپنے ہی اندر اک بستی جلائے پھرتا ہوں
🌓
@_1Anu زندگی ان لوگوں کے لیے جوا ہوتی ہے جن کا کوئی مقصد۔ ہیں ہوتا ۔۔کوئہ عمل کسی مقصد کی تکمیل کے لیے نہیں ہوتا۔۔۔ ان لوگوں نے اپنی زندگی قسمت اور لوگوں کے حوالے کی ہوتی ہے۔۔۔
ایسے لوگوں کی شادیاں جوانی میں یوں یا ادھیڑ عمری میں۔۔ ان کی ازدواجی زندگی یا ریلیشن شپ ہمیشہ ذلت نما ہوتا ہے
راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں
وہ بھی نہ اپنے گھر گیا ہم بھی نہ اپنے گھر گئے
وقت ہی جدائی کا اتنا طویل ہو گیا
دل میں ترے وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے
🌓
*حد سے زیادہ حسین چاندنی*
چاند اترا ہے فلک سے کچھ اس ادا سے
کہ رات بھی شرما گئی ہے حیا سے
پانی پر اس کا عکس ہے دوسرا چاند بنا
جیسے خوابوں نے حقیقت کو چھو لیا
خاموش جھیل، دھند میں لپٹے کنارے
چاندنی نے چھو دیے ہیں سارے نظارے