پاور پلانٹس کو گزشتہ 8 برس کے دوران "کپیسٹی چارجز" کی مد میں کتنے ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں؟ پاور پلانٹس کو کپیسٹی چارجز کی مد میں کی گئی ادائیگیاں ڈالرز میں کتنی بنتی ہیں؟ مالی سال 2017-18ء سے مالی سال 2025ء تک کے تمام اعداد و شمار کی تفصیل۔۔۔
مریم نواز نےکہا کہ وہ تنخواہ نہیں لیتیں پھر بھی کام کا بہت پریشر لیتی ہیں۔
مریم صاحبہ، تنخواہ لے لیں۔ 11 ارب کا جہاز بیچ کر عوام کو بجلی، پیٹرول پر ریلیف دیں۔
پروٹوکول کی گاڑیوں پر کروڑوں کا پیٹرول تنخواہ کے علاوہ۔ اسے گننا ہے یا نہیں؟
Complete vlog:👇
https://t.co/j99kfKB8VR
رمضان میں مہنگائی کا یہ جھٹکا نہیں بلکہ زلزلہ ہے جو کھانے پینے کی ہر شے کو مہنگا کر دیگا ایسا لگتا ہے کہ رمضان سے پہلے تمام معاملات کسی بہت طاقتور شیطان کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں جو پاکستان کے مسلمانوں کو روزے رکھنے کی سزا دیگا ہم کمزور لوگ کوشش کرتے رہیں گے کہ شیطان کامیاب نہ ہو
گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 29 فلسطینی شہداء کی لاشیں غزہ کے ہسپتالوں میں منتقل کی گئیں۔ ان میں 25 شہداء ایسے ہیں جن کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں جبکہ 8 زخمی بھی ہسپتال لائے گئے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی جنگ کے آغاز یعنی سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اب تک 71 ہزار 266 فلسطینی شہید جبکہ 171 ہزار 219 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزارت صحت نے بتایا کہ بڑی تعداد میں متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ شدید تباہی اور میدان میں خطرناک صورتحال کے باعث ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں تاحال ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ اسی تناظر میں وزارت صحت نے واضح کیا کہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد قابض اسرائیل کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 414 فلسطینی شہید اور ایک ہزار 142 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دوران ملبے تلے دبے 679 لاپتہ افراد کی لاشیں بھی نکالی گئیں۔ وزارت صحت نے مزید بتایا کہ 19 دسمبر سنہ 2025ء سے 26 دسمبر سنہ 2025ء کے درمیان 292 فلسطینی شہداء کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل کیا گیا۔ یہ اضافہ شہداء کی شناخت مکمل ہونے اور شہداء کی فہرست کی منظوری دینے والی کمیٹی کی جانب سے باضابطہ تصدیق کے بعد کیا گیا۔ قابض اسرائیلی فوج امریکہ اور یورپی ممالک کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کے عوام کے خلاف بدترین نسل کشی میں مصروف ہے۔ اس جارحیت میں قتل عام، لاکھوں لوگوں کو بھوکا رکھنا،وسیع پیمانے پر تباہی، جبری بے دخلی اور من مانی گرفتاریاں شامل ہیں۔ قابض اسرائیل عالمی برادری کی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے جارحیت روکنے کے احکامات کو بھی مسلسل نظرانداز کر رہا ہے۔ اس نسل کشی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں جن کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ شدید قحط کے باعث متعدد جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور وسیع پیمانے کی تباہی نے غزہ کے کئی شہروں اور علاقوں کو نقشے سے مٹا دیا ہے
امن معاہدے کے بعد گزشتہ 78 دنوں سے غزہ میں جینوسائیڈجاری ہے،کیوں؟؟؟
کہاں ہیں ٹرمپ کی خوشامد کرنے والے اور ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام کے اعلانات کرنے والے شہباز شریف؟؟
کہاں ہیں امن معاہدے کے ضامنین، گارنٹرز؟؟؟
انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس امریکی اہداف، اسرائیلی مقاصد کی تکمیل کیلئے ہے،افواج پاکستان کی تعیناتی برداشت نہیں کرینگے۔
@Pak_PalForum
صرف ایک گھر کے لیے لاہور سے رائے ونڈ موٹر وے تعمیر کی جائے گی!! کھاتے ہیں تو لگاتے بھی اپنے پر ہی ہیں! عالیہ حمزہ
@aliya_hamza#MaryamNawaz#ShehbazSharif
https://t.co/BmmNQTHLA7
غیر ملکی سیاح کے 6 ہفتے انڈیا اور تین ہفتے پاکستان کا ٹور کرنے کے بعد تاثرات
انڈیا کا کیپٹل دہلی بہت گندا ھے اور بہت Smell آتی جبکہ پاکستان کا کیپٹل اسلام نہایت خوبصورت اور صاف ستھرا ھے انڈیا میں فراڈ بہت کیا جاتا جبکہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ھوتا ❤️