کسی بھی شخص کے گھر پر حملہ ہوگا تو وہ ایسےہی ردعمل کا مظاہرہ کرے گا۔ کچھ عرصہ لوگ اپنا کیرئیر ، اپنی سیاست ، اپنا مستقبل وغیرہ کا سوچتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن آگے سے کپڑا اٹھا کر دکھا دیتے ہیں۔
ایک ایک لفظ آگ میں لپٹا ہوا ہے۔
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
یا تو عاصم منیر رہے گا یا پاکستان رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ جتنا آپ پریشان ہو رہے ہو، مجھے تو کچھ دن کے مہمان لگ رہے ہیں۔
آج کے دن عمران خان ہی پاکستان ہے۔ آپ پاکستان کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتے۔
یہ جنگ حسینیت اور یزیدیت کی ہے۔ حق اور باطل کی ہے۔ باطل کا کوئی نام لیوا نہیں رہے گا۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں
عاصم منیر کے پاس دو راستے ہیں یا سرنڈر کرے یا مارشل لا لگائے۔
اگر مارشل لا بھی لگا تو یہ ایک کمزور ترین مارشل لا ہوگا۔
عاصم منیر صاحب! میلہ لُٹنے والا ہے۔ یہی کنٹینر آپ کے گلے پڑیں گے۔
میری ساری عمر تحریکوں میں گزری ہے۔ یہ تحریک تو آپ نہیں روک سکتے۔ مشورہ ہے بندوقیں پھینکیں، اور مشورہ اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ عاصم منیر کے دیرینہ ماموں بابر شاہ میرے ورکر تھے۔ اب تو وہ اور وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف کے والد بشیر الدین محمود ہمیشہ اسلام آباد میں میرے گھر آ جایا کرتے تھے۔ اگر میں گھر پر موجود نہ ہوتا تو میرے نوکر گھر پر ہوتے اور وہ آ کر ان کے پاس بیٹھے رہتے۔
اس لیے میرا مشورہ خلوصِ دل سے ہے۔
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا ):
علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی، تینوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ آپ کی ہمت اور جرات کو سلام۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں، سہیل آفریدی، آپ بھی آپ کو یہ جنگ جیتنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اتنا ڈرا ہوا کسی ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔ یہ بیچارے کنٹینر جمع کرتے رہیں گے اور احتجاج میں یہی کنٹینر ان کی شکست کا باعث ہونگے۔
Power US اسرائیل سے منسلک کمپنی ہے، جس کا بانی آج جی ایچ کیو میں موجود تھا۔ ہم ان سے ڈرون خریدیں گے۔ میرا سر اُن ہزاروں فلسطینیوں کے سامنے شرم سے جھکا ہوا ہے جو آج بھی ہماری طرف امید سے دیکھتے ہیں، اور ان لاکھوں معصوم بچوں کے سامنے جو انہی ڈرونز کی زد میں آ کر شہید ہوئے، جن کی لاشیں آج بھی ملبے تلے دفن ہیں۔
قائد اعظم نے اسرائیل کو ایک Bastard State قرار دیا تھا۔ اسی فوج نے بعد میں انہیں اغوا کیا، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
فلسطینی عوام اور آزاد فلسطین کی جدوجہد کے لیے میرے پاس آپ کو سرزنش کرنے کے لیے الفاظ نہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی پاکستانی اس فوج کے ساتھ کھڑا نہیں۔ یہ ایک ایسا عسکری ادارہ ہے جو پاکستانیوں کا استحصال، ان پر ظلم، جبر اور انہیں محکوم بنانے پر قائم ہے، اور جن پاکستانیوں کے ساتھ وہ یہ سب کرتے ہیں، انہی کے خلاف ان کے اندر ایک نسل کش ذہنیت پائی جاتی ہے۔
”وردى صرف اختيار نہیں، اک بھاری ذمہ داری ہے!"
جب طاقت اور اختیار مل جائے تو ضمیر کی آواز سننا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ ایک باپ کی اپنے بیٹے کو وہ نصیحت جو ہر عہدے دار کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
طاقت عارضی ہے، لیکن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا اور اپنے بچوں کے لیے عزت کی میراث چھوڑنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اگر کبھی کوئی حکم آئین، قانون، اور آپ کے ضمیر کے خلاف ہو... تو ایک بار ضرور سوچیں: کیا آپ اس کا جواب اللہ کو دے سکیں گے؟
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
سلیمان سہیل کو بازیاب کرو۔۔
پاکستان کو ایک وسیع و عریض قیدخانے میں تبدیل کردیا گیا ہے،ملک میں بدترین آمریت نافذ ہے ،ی وطن اختلافی آوازوں کیلئے گوانٹاناموبے اور آزادی اظہار رائے کی قتل گاہ بنا دیاگیا ہے ۔۔۔یہ ہمیں منظور نہیں ہے،
سلیمان سہیل پاکستان کی نئی نسل کے احساسات کا ترجمان ہے،سلیمان سہیل کی بازیابی کیلئے جین زی بھرپور آواز اٹھائیں۔
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
میں نے اپنے شہداء کے جنازوں میں شرکت کی ہے، فوجی جوان جو شہید ہوتے ہیں وہ ہمارے وجود کا حصہ ہیں ان کو سیاست میں نہ گھسیٹیں، ان کی شہادت کے بعد ایک پورا خاندان بے آسرا ہوتا ہے۔
ہاں ہم تو جاتے ہیں جنازوں کو کندھا دیتے ہیں لیکن ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جو ہمارے چھبیس نومبر کو کارکن شہید ہوئے ان کے جنازوں میں کس نے شرکت کی؟
ہمارے جن شہداء کو دہشتگرد شہید کرتے ہیں وہ ان کی لاشیں نہیں دیتے قبضے میں لے لیتے ہیں ہمارے جو چھبیس نومبر کو کارکن شہید ہوئے ان کی لاشیں بھی ہمیں نہیں دی جارہی تھیں، ان میں ہم کیا فرق کریں؟ دہشتگرد ہمارے فوجی شہداء نہیں دیتے یہ ہمارے سیاسی کارکن کی لاشیں نہیں دیتے تو ان میں فرق ہونا چاہئے ؟ ابھی اعجاز ستی کی باڈی نہیں دی جارہی تھی لکھوایا گیا کہ کینٹ میں جنازہ نہیں کرو گے تب ورثاء کے حوالے کی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
”سادہ کپڑوں میں کوئی بھی آئے گا تو ہر بندے کے ذہن میں ہوگا کہ یہ دہشتگرد ہے یا ڈاکو ہے، کوئی نہیں سوچے گا کہ یہ ادارے کا بندہ ہے،آج سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگوں نے ہمارے پبلک ہیلتھ منسٹر پر حملہ کیا، فائرنگ کی، ویڈیو موجود ہے،صوبائی کابینہ کے ممبران ہی محفوظ نہیں ہیں تو عام شہری کیسے محفوظ ہوگا؟“-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
یہ عمران خان کی بہن کے بیڈ روم کا دروازہ ہے۔ جو توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ پورے ملک میں کوئی غیرت مند ہے جس نے اس کی واضح مزمت کی ہو۔ کیوں کہ کل کو ان غیرت مندوں نے بہت شور ڈالنا ہے۔ آج انکی لسٹ بنا لیں۔ جب یہ شور مچائیں تو یہ ٹوٹا ہوا دروازہ انکے منہ پر ماریں۔
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
WTF IS GOING ON IN PAKISTAN!
They arrest the former Prime Minister Imran Khan, put him in solitary confinement for years, do the same to his wife, then start arresting his family
And now arrest his sister, who's in her 70s, because she's speaking out in support of her brother! the former PRIME MINISTER!!!
Enough is enough! THE FAMILY HAS BEEN THROUGH ENOUGH!
The military regime of Asim Munir abducted Imran Khan’s whole family. His three sisters their children even little infants. This is cruel like Hitler. The world must speak. Shameful how western democracies close their eyes on all these violations of rule of law democracy human rights and freedom of speech. In Pakistan they are rather empowering this regime. The world must speak.
🚨عمران خان کی تینوں بہنیں اور ان کے بچوں کو پاکستان پر مسلط یزیدیت نے لاہور سے اغوا کر لیا ہے۔
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔ ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔”
- عمران خان، نومبر 2025
#FascismUnderAsimLaw
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
عاصم منیر، گدی تو آپ کو چھوڑنی پڑے گی! آپ کی طاقت نہتی 70 سالہ نہتی عورتوں پر ہی چلتی ہے! جو طاقت یہاں دکھا رہے ہو یہ بلوچستان یا جنوبی پختون خواہ میں دکھاؤ نا!
میں جی ایچ کیو نہیں ہوں جو زمینوں پر قبضہ کرے۔ تمہارے جھوٹے الزاموں کا بھی مقابلہ کروں گا۔ کل ہی اوقاف کے نوٹس کے خلاف دعوا دائر کرونگا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً نوجوانوں یہ اس GHQ کی ناجائز مَلَت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ہے۔
27 کو اسلام آباد پہنچیں!