لاہور میں یہ سرکاری ٹیچرز تین دن اور دو راتوں سے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں مگر مذاکرات تو دور کوئی بات سننے تک نہیں آیا۔ میڈیا پر بھی ان مظاہرین کی کوریج کا زمکمل بائیکاٹ ہے۔
اساتذہ کی پنشن اور گریجویٹی بنتی تھی 50 لاکھ ۔ پنجاب سرکار نے 20 لاکھ کر دی۔ ساری عمر انہیں کم تنخواہ دی کہ آپ کو پنشن دیں گے پنشن کی باری آئی تو وہ پیسے ضبط کر لئے۔ دوسرا وفاقی ملازمین کی تنخواہ ہم سے ڈبل کیوں
ہمیں بھی دیں۔
تیسرا ماہانہ پینشن پر جو ڈاکا پڑا اس کو واپس لیں۔
خواتین اساتذہ کی دھرنے میں شرکت ان لوگوں کے لئے شرم کا مقام جو سکولوں سے نہیں نکلتے اور یہ بھی کہتے کہ کیا کر رھی ھے یونین۔۔۔۔
میڈم سیدہ شفقت وائس چیئرپرسن راولپنڈی ٹیچر یونین فیمل ونگ۔۔
سلام آپکو ہم سب کی طرف سے
#LahoreProtest#WhyTeachersOnRoads
پنجاب حکومت کی ترجیحات اُس وقت سوالیہ نشان بن جاتی ہیں جب اپنے ہی سرکاری ملازمین 30٪ ڈسپیرٹی الاؤنس، لیو انکیشمنٹ، پنشن اور رول 17 اے جیسے آئینی و قانونی حقوق کے لیے سڑکوں پربیٹھنے پر مجبور ہوں۔ ریاست اگر اپنے ملازمین کی سننے کو تیار نہ ہو تو نظام کی مضبوطی محض دعویٰ رہ جاتی ہے۔
آج لاہور میں پنجاب کے ہزاروں ملازمین نے احتجاج کیا لیکن کسی بڑے چینل نے اس کو کوریج نہیں دی کیا یہ آزادی صحافت ہے؟؟
جس ملک میں آزادی رائے کو دبایا جائے وہاں مظلوم آواز کبھی بھی ایوانوں تک نہیں پہنچتی...
تاریخ میں اس نام نہاد جمہوری دور کو ہمیشہ یاد رکھے گا
#EqualpayforPunjab
ایک سوال کا اہلیان پنجاب سچ میں جواب دیں
مریم نواز صاحبہ اب تقریباً ڈیڑھ سال سے آپ کی وزیراعلی ہیں آپ کی زندگی گھر کے حالات اور اردگر علاقے میں کیا فرق اب تک پڑا ہے ؟
صحت تعلیم دیگر مسائل حل ہو رہے ؟
#EqualPayForPunjab