بالاکوٹ اور گرد و نواح کے غیور عوام سے مدد کی اپیل
تصویر میں نظر آنے والا نوجوان کا نام عبدالھادی یا عبدالباری ہے۔
باری نام کا امکان زیادہ ہے۔
باری کا کہنا ہے کہ میرے والدین میں ناراضگی ہوئی تھی،امی ہم دو بہن بھائیوں کو ساتھ لیکر اسلام آباد کے ایک شیلٹر میں آگئی تھی۔ امی کو وہاں رکھا گیا اور ہم دو بہن بھائی کو کراچی کے شیلٹر منتقل کردیا گیا۔ سال 2007/8 میں ہم داخل ہوئے تھے۔ آج تک ماں سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔میں پانچ سال کا تھا اور بہن ڈھائی سال کی۔
مجھے تو آج تک اپنا نام ہادی بتایا گیا تھا لیکن جب بڑا ہوکر سال 2025 میں میں نے اپنی فائل نکالی تو اسمیں میرا نام باری لکھا تھا اور بہن کا نام رابعہ لکھا تھا۔
بہن بھی بڑی ہوچکی ہے،وہ بھی شیلٹر میں منتظر ہے۔
والد کا نام مجھے محمد شفیق یاد ہے،والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔
ہم دو بہنیں اور تین بھائی تھے انکے نام یاد نہیں۔میری فائل میں علاقہ بالاکوٹ لکھا ہے شاید والدہ نے لکھوایا ہوگا۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ جب ہم ابو کے ساتھ گھر سے کہیں جانے کے لئے نکلتے تھے تو پہاڑ میں سڑک ہوتی تھی اور نیچے دریا بہہ رہا ہوتا تھا۔
خدا کے لئے ہم بہن بھائی کو خاندان سے ملوائیں ہم بہت مشکل می�� ہیں۔ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہمارا بھی کوئی ہو۔
برائے مہربانی انسانیت کی خاطر زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
18 june 2026
#waliullahmaroof #balakot
سر
میرے تجربے کے مطابق زندگی انسان کو کم از کم تین بار اپنی قسمت سنوارنے کا / ترقی کرنے کا موقع دیتی ہے
اب اس انسان پر ہے کہ وہ کیسے اس موقع کا فائدہ اٹھاتا ہے
پنکھے سے ونڈ ٹربائن تک:
پاکستانی صنعت کے لیے اربوں ڈالر کی نئی منزل
پاکستان کی فین انڈسٹری گزشتہ کئی دہائیوں سے ملکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کی کامیاب ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستانی کمپنیوں نے نہ صرف ملک بھر میں لاکھوں گھروں، دفاتر اور صنعتوں کو پنکھے فراہم کیے بلکہ اپنی انجینئرنگ مہارت، معیار اور مسابقتی قیمتوں کے ذریعے عالمی منڈیوں میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔
آج دنیا ایک نئے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ توانائی کا شعبہ تیزی سے قابلِ تجدید ذرائع کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور ونڈ پاور اس تبدیلی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ ایسے میں پاکست��ن کی فین انڈسٹری کے پاس ایک تاریخی موقع موجود ہے کہ وہ اپنی موجودہ مہارت، انفراسٹرکچر اور تجربے کو استعمال کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ونڈ ٹربائنز کی تیاری میں قدم رکھے اور ایک نئی اربوں ڈالر کی صنعت کی بنیاد رکھے۔
پاکستانی صنعت کاروں کے پاس بلیڈ ڈیزائن، موٹر مینوفیکچرنگ، شافٹس، بیرنگز، میٹل فیبریکیشن، اسمبلی لائنز اور انجینئرنگ ڈیزائن کا وہ تجربہ پہلے سے موجود ہے جو ونڈ ٹربائن انڈسٹری کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس شعبے میں کئی دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم سرمایہ کاری کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے۔
لیکن اصل بات صرف ونڈ ٹربائن بنانے کی نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان خود اس صنعت کے لیے ایک بہت بڑی مقامی مارکیٹ بن سکتا ہے۔
پاکستان دنیا کے بڑے ڈیری اور لائیو سٹاک ممالک میں شامل ہے۔ ملک میں کروڑوں مویشی موجود ہیں، ہزاروں کمرشل ڈیری فارمز کام کر رہے ہیں اور روزانہ کروڑوں لیٹر دودھ پیدا کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ملک کا بڑا حصہ آج بھی جدید کولڈ چین، فارم کولنگ سسٹمز اور توانائی کے قابلِ اعتماد ذرائع سے محروم ہے۔
دیہی علاقوں میں ہزاروں ڈیری فارمز ایسے ہیں جہاں دودھ پیدا تو ہو رہا ہے لیکن اسے فوری طور پر ٹھنڈا کرنے کی سہولت موجود نہیں۔ اس وجہ سے دودھ کے معیار، شیلف لائف اور کسانوں کی آمدن پر براہِ راست منفی اثر پڑتا ہے۔ اگر فارم لیول پر سستی اور ��قامی طور پر تیار کردہ ونڈ ٹربائنز دستیاب ہوں تو ہزاروں ڈیری فارمز اپنی بجلی خود پیدا کر سکتے ہیں، دودھ کولنگ سسٹمز چلا سکتے ہیں اور جدید کولڈ چین کا حصہ بن سکتے ہیں۔
آنے والے برسوں میں پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کو Semi-Controlled Environment فارمز کی جانب جانا ہوگا۔ شدید گرمی، ہیٹ سٹریس اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مویشیوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ جدید فارمز میں وینٹیلیشن سسٹمز، کولنگ فینز، فوگرز، آٹومیٹڈ واٹر سسٹمز، ملک کولنگ یونٹس اور ماحولیاتی کنٹرول کے دیگر نظام ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تمام نظام مسلسل اور کم لاگت بجلی کے متقاضی ہیں، جس کے لیے ونڈ انرجی ایک مؤثر حل بن سکتی ہے۔
پاکستان کو قدرت نے ایک اور بڑا فائدہ بھی دیا ہے۔ کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، گھارو، جھمپیر، بدین اور بلوچستان کے ساحلی علاقے دنیا کے بہترین ونڈ کوریڈورز میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں پہلے ہی اربوں ڈالر کے ونڈ پاور منصوبے کام کر رہے ہیں۔ جب عالمی کمپنیاں پاکستان کی ہوا سے بجلی پیدا کر سکتی ہیں ��و پاکستانی صنعت کار مقامی ونڈ ٹربائن کیوں نہیں بنا سکتے؟
اس کے ساتھ ساتھ افریقہ، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں لاکھوں فارم، دیہی کاروبار، چھوٹی صنعتیں اور آف گرڈ کمیونٹیز کم لاگت توانائی کے حل تلاش کر رہی ہیں۔ یہ وہ مارکیٹیں ہیں جہاں "Made in Pakistan" ونڈ ٹربائنز کامیابی سے برآمد کی جا سکتی ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی فین، موٹر، الیکٹریکل، انجینئرنگ، زرعی مشینری، ڈیری ایکوپمنٹ اور قابلِ تجدید توانائی سے وابستہ تمام کمپنیوں کو اب مل کر ایک نئی صنعتی سمت اختیار کرنی چاہیے۔ یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں، انجینئرز، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو مشترکہ طور پر مقامی ونڈ ٹربائنز کی تحقیق، ڈیزائن، پروٹوٹائپنگ اور پیداوار پر کام شروع کرنا چاہیے۔
جس طرح پاکستان نے پنکھوں، کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات اور ٹیکسٹائل میں عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی، اسی طرح ونڈ ٹربائنز، ڈیری کولڈ چین اور زرعی توانائی کے شعبے میں بھی عالمی مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ صرف ایک نئی صنعت نہیں بلکہ پاکستان کے توانائی، زراعت، لائیو سٹاک، ڈیری، برآمدات اور روزگار کے مستقبل کا ایک نیا باب ہے۔
ہوا ہماری ہے، انجینئرنگ ہماری ہے، مارکیٹ ہماری ہے، کسان ہمارے ہیں — اب وقت ہے کہ پاکستان اپنی پہلی عالمی ونڈ ٹربائن انڈسٹری کی بنیاد رکھے۔
آج کا پنکھا ساز، کل کا ونڈ ٹربائن ساز۔
Save Farmer – Save Pakistan
Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan)
میں 22 سالوں سے اسرائیلی میڈیا کو فالو کر رہا ہوں۔ پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ اسرائیل میں کہرام مچا ہوا ہے۔ جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔
سیاستدانوں سے لے کر صحافیوں تک سب رو رہے ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف شکست سے اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
کچھ کا خیال ہے کہ ہمیں ہر صورت ایران پر دوبارہ کاری ضرب لگانی چاہیے چاہے نتیجہ کوئی بھی ہو۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایران پر کاری ضرب لگانے کا وقت گزر چکا ہے۔ امریکہ کی سپورٹ کے بغیر ہم ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کریں گے تو پہلے سے بھی زیادہ ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوں گے۔
کچھ متحدہ عرب امارات کی مثال دے رہے ہیں کہ کیسے اسرائیل کا سب سے نزدیکی عرب اتحادی جہاز می ڈالرز کے بکسے رکھ کر تہران گیا اور پیش کیے۔ کہا یہ طاقت کے محور کی تبدیلی کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ کہہ رہے ہیں تہران اب طاقت کا نیا مرکز ہے۔
سینیٹر دنیش کمار نےکہا کہ قرآن نے سود لینے سے منع کیا لیکن پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نظر ہورہا ہے۔سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے کہا ہم بجٹ کا 50 فیصد سود پر خرچ کررہے ہیں۔دنیش کمار نےکہا قرآن نے سود لینے سے منع کیا ہے، ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پیٹرول اسمگلنگ کرکےلانا بہت مشکل کام ہے، کون اتنا مشکل کام کرنا چاہےگا، اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیا جاتا ہے، جو ایران کے بارڈر سے پیٹرول لاتے ہیں وہ کن مشکلات سےگزرتے ہیں، دنیش کمار نے زور دیا کہ حکومت ایران سے پیٹرول لانےکو لیگل کرلے۔
#TOKAlert #Interest #Budget
صدرِ مملکت نے عائشہ حمیرا چوہدری (بی ایس-22) کی بطور رکن FPSC تقرری کی منظوری دے دی۔ موصوفہ احسن اقبال کی بہن ہیں۔ انہوں نے نومبر ٢٠٢٦ میں ریٹائر ہونا تھا-اب نومبر ٢٠٢٩ میں ہوں گی!خاتون ٢٢ویں گریڈ کی پنشن بھی لیں گی اور بطور ممبر FPSC تنخواہ اور مراعات بھی-
بجلی صارفین کیلئے نئی خوشخبری،
پاور ڈویژن کا صارفین کو ریلیف اور سہولت فراہم کرنے کی جانب اہم قدم
ملک بھر میں بجلی کے بلوں کا نیا اور آسان فارمیٹ متعارف کرادیا گیا
ڈسکوز نے وزارتِ توانائی کی ہدایت پر بجل بلوں کا نیا ڈیزائن جاری کر دیا
نئے ڈیزائن میں صارفین کے لیے بل سمجھنا مزید آسان ہو گیا
صارفین اب کھپت، بل کی تفصیلات اور ادائیگی کی معلومات دیکھ سکیں گے
نیا فارمیٹ سادگی، شفافیت اور بہتر صارف تجربے کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے
صارفین کی شکایات کے بعد بل فارمیٹ کو مکمل طور پر ازسرِنو ترتیب دیا گیاہے
پرانا بل غیر ضروری معلومات، تکنیکی اصطلاحات، پیچیدہ ترتیب کے باعث سمجھنے میں مشکل تھا
نئے فارمیٹ میں رقم، مقررہ تاریخِ اور بجلی کے استعمال کی تفصیلات نمایاں ��رج ہیں
نئے بل میں معلومات کو منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے
صارف اب ایک نظر میں اپنی بلنگ کی مکمل صورتحال جان سکے گا
نئے بجلی بل میں بصری پیچیدگی کم کر دی گئی ہے
نیا فارمیٹ تمام طبقوں کے صارفین کے لیے زیادہ قابلِ فہم بنایا گیا ہے
جدید سہولت کے تحت نئے بجلی بلوں میں کیو آر کوڈکو بھی شامل کیا گیا ہے
صارفین اضافی معلومات اور ڈیجیٹل سروسز تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے
نئے بجلی بلوں کی تشکیل صارفین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کی روشنی میں کی گئی
پاور سیکٹر میں شفافیت، بہتر خدمات اور اصلاحات کا عمل جاری رہے گا