میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا
میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی
اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے
شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو
بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی
اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
ویڈیو میں نظر آنے والوں میں سے کسی کوئی ایک جو فارم 45 پر آیا ہو؟؟؟ کوئی ایک سرکاری افسر جو میریٹ پر لگا ہو ؟
تو پھر سانحات پر افسوس کیسا ؟ جب کوئی ایک بھی کی ریٹ پر نہیں آئے گا تو عوام کے ساتھ مخلص کیوں ہوگا ؟
جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
ہنگو سے دیہاتی علاقوں سے قافلے مسلسل ابوبکر صدیق چوک کی جانب بڑھ رہے ہیں، سہیل آفریدی کا قافلہ بھی ابوبکر صدیق چوک کے قریب پہنچ گیا یے
اس وقت ہنگو کی سڑکوں پر تاحد نگاہ عوام ہی ہے
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
جنابِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی بدستور 27 ستمبر کی کال قائم رہے گی کیونکہ مطالبات پورے نہیں ہوئے
خان نے اپنی بہنوں سے جو کچھ کہا ہے اگر وہ تحریک شروع ہونے سے پہلے پریس کانفرنس کرکے بتا دیتی ہے تو بڑے بڑے برج گر جائیں گے
خان نے مکمل روڈ میپ دے دیا ہے
آپ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں یہاں ایسے کوئی حالات پیدا نہیں کیے گئے تھے یہاں تک کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا کوئی رہنما وہاں موجود نہیں تھا اور نہ ہی پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی عہدیدار وہاں موجود تھا
اسلام آباد پولیس نے جب سکیورٹی کلیئرنس کے لیے لوگوں کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے وہاں سے ہٹنے کی ہدایت کی تو سب نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور تمام مقامات خالی کروا لیے گئے
پروٹوکول کا جو طریقۂ کار طے کیا گیا تھا اس کے مطابق اس وقت کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا ویڈیو بھی موجود ہے کہ اڈیالہ جیل سے جو گاڑی روانہ کی گئی تھی اسے راستے میں کہیں بھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا
میں نے ہمیشہ گراؤنڈ سے رپورٹ کیا ہے اور جب آپ گراؤنڈ سے رپورٹ کرتے ہیں تو بہت سی حقیقتیں آپ کے سامنے خود بخود کھل کر آتی ہیں
اس دفعہ جب سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پبلک گیدرنگ نہیں کی جائے گی تو میرے دل نے مناسب نہیں سمجھا کہ میں اسلام آباد جا کر کوریج کروں
نورین خان کی ملاقات کے بعد ہمارے پاس بہت سی خبریں موجود تھیں مگر میں نے ہمیشہ عوام کے حق اور سچ کی نمائندگی کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا میں کوئی خبر فروش صحافی نہیں ہوں جو چند ویوز یا چند دن کی شہرت کے لیے عمران خان کی صحت کو خطرے میں ڈال دے
اگر صرف آپ کو چند دنوں کی حقیقت کا علم ہو جائے کہ عمران خان نے کیا کچھ کیا ہے تو آپ جتنی محبت آج عمران خان سے کرتے ہیں اس سے تین گنا زیادہ محبت کریں گے
جس دن عمران خان کی بہنیں پریس کانفرنس کریں گی اُس دن بہت سی حقیقتیں سامنے آئیں گی اور بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا
اطلاعات کے مطابق آج رات دس بجے تک عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے
آئی جی اسلام آباد سمیت پولیس کی اعلیٰ قیادت شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچ گئی
عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقلی کے انتظامات مکمل ہونے کی اطلاعات ہیں
حکومت نے سپریم کورٹ سے نظر ثانی درخواست واپس لے لی ہے۔ نہ پہلے نا اب ۔ کوئی عزر نہیں سپریم کورٹ کے ۱۸ اگست کے حکم پر عملُ نہ کرنے کا۔ عمران خان صاحب کو فی الفور شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ہو گا۔
آپ تمام کے جذبات کی بے پناہ قدر ہے
لیکن میں بطور میڈیا ایکٹوسٹ کام کرتا ہوں اور میرا کام کوریج کرنا ہے جو میں آج پہلی دفعہ تو کرنے نہیں لگا یہ تو ہمیشہ کی ہے چاہے کوئی جلسہ ہو جلوس ہو ، سیلاب ہو یا کوئی اور سانحہ
میں کارکن نہیں ہوں جناب
نورین نیازی کی عمران احمد خان نیازی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ختم ہو گئی
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس ہال میں ہوئی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی
نورین نیازی نے ملاقات کے دوران عمران احمد خان نیازی کی خیریت دریافت کی اور ان کے موجودہ حالات کے بارے میں معلومات حاصل کیں
ذرائع کے مطابق عمران احمد خان نیازی کی خیریت دریافت کرتے ہوئے نورین نیازی آبدیدہ بھی ہو گئیں
ملاقات کے بعد نورین نیازی میڈیا سے گفتگو کیے بغیر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئیں
سپریم کورٹ کا عمران خان صاحب کی فوری ہسپتال منتقلی اور فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں چیک اپ اور علاج کا انصاف پر مبنی فیصلہ قابل ستائش ہے۔ اُمید ہے اس پر عملدرآمد جلد از جلد شروع ہو جائے گا۔
سرکاری رپورٹس عمران خان صاحب کی صحت کا احوال بتا رہی ہیں کہ کیسے جیل میں ان کی صحت خراب کی گئی- یہ فیصلہ فروری میں ہی ہو جانا چاہییے تھا جب سے ہم مسلسل ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں چیک اپ اور علاج کا مطالبہ کر رہے تھے-
پاکستان تحریک انصاف عدلیہ کے فیصلے کے مطابق عمران خان صاحب کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کرے گی۔ ہمیں بھی یہی اُمید ہے کہ دوسری طرف سے بھی عدلیہ کی تکریم اور احترام کا خیال رکھا جائیگا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروانا ججز کا کام ہے، اور امید ہے کہ وہ اپنا فرض نبھائیں گے انشاء اللّٰہ۔