خیبر پختون خواہ میں غنڈہ راج لگانے کے بعد وزیر اعلی سہیل آفریدی،سپیکر بابر سلیم سواتی،جنید اکبر ایم این اے و صدر پی ٹی آئی خیبر پختون خواہ،ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اغوا کیا ہوا ہے!!
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی بیرئیر ہٹانے کے ٹرائل کی عجیب و غریب کہانی
10 ماہ سے جیل میں قید دونوں وکلا کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل نے ایسے اسپیڈ پکڑی ہوئی ہے آپ حیران ہو جائیں گے گھنٹوں میں فیصلہ بھی آسکتا ہے ۔۔۔ اور اس کے مقابلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرائل کورٹ کے جو آرڈر ایمان و ہادی چیلنج کر رہے ہیں وہاں بریک لگی ہوئی ہے
پچھلے 23 دن کی کہانی ملاحظہ کریں کسی عدالت کا آرڈر موجود نہیں اس کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل جاری ہے وکلا کے بقول ان کی مشاورت آزادانہ نہیی ہو پا رہی نا التوا دیا جا رہا ہے نا ہائی کورٹ میں criminal revisions مقرر ہو رہیں ہیں ایک ہوئی اس پر اسٹے آرڈر نہیں ہوا اب ایسے لگتا ہے یہ ہائی کورٹ میں غیر موثر ہو جائیں گے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پہلے آجائے گا
29 ستمبر ویڈیو لنک پیشی ہوئی آواز کلئیر نہیں آرہی تھی بہرحال عدالتی نظیروں کے برعکس کاپیز وکلا کو دیکر 6 اکتوبر فرد جرم کی تاریخ رکھی گئی
6 اکتوبر کو پھر ایمان ہادی کس پیش نہیں کیا گیا عدالت کو بتایا گیا وکلا کی جیل میں ملاقات بھی نہیں ہوئی مشاورت بھی نا ہو سکی
7 اکتوبر کو دو درخواستیں وکلا نے دائر کیں ایک کاپیز ملزمان کو فراہم نہیں کی گئیں دوسرا ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے ویڈیو لنک پر آواز کے بھی مسائل تھے اس کے باوجود عدالت نے فرم جرم عائد کر دی حالانکہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کہہ چکی ہے فرد جرم ملزمان کی عدالت موجودگی میں ہی لگنی ہے
9 اکتوبر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اے ٹی سی کورٹ کے فرم جرم عائد کرنے کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا جو 10 دن بعد 19 اکتوبر مقرر ہوا اسٹے بھی نہیں دیا گیا
9 اکتوبر جج طاہر عباس سپرا چھٹی پر تھے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سن کر اگلے روز کے کیس ملتوی کر دیا
10 اکتوبر پولیس کی جانب سے سیکورٹی نا دینے کی وجہ سے ایمان و ہادی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا عدالت نے ویڈیو لنک حاضری لگا کر گواہوں کے بیان ریکارڈ کئے دہشتگردی کی دفعات نکالنے کی درخواست بھی مسترد کردی گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے سینئر وکیل کی عدم موجودگی کے باوجود سماعت ملتوی نہیں کی گئی
12 اکتوبر انسداد دہشت گردی عدالت کے آرڈرز اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہو چکے تھے اے ٹی سی میں معمول کی کاروائی کے بعد کیس 14 اکتوبر تک ملتوی ہو گیا
14 اکتوبر ملتوی کرنے کی درخواست عدالت نے مسترد کردی گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے گئے وکلا و ملزمان ویڈیو لنک سے چلے گئے
15 اکتوبر کسی دوسری عدالت میں کیس ٹرانسفر کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہوئی جو ابھی تک مقرر نہیں ہوئی
15 اکتوبر کو ایس پی نے لکھا جیل ثراہل کر لیں عدالت نے کہا ٹھیک ہے کل سے جیل ٹرائل کریں گے چیف کمشنر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا
16 اکتوبر جیل ٹرائل کو چیلنج کیا گیا عدالت سے التوا کی درخواست دائر کی گئی لیکن عدالت نے اسٹیٹ کونسل کی لسٹ منگوا لی
19 اکتوبر عدالت کی جانب سے تیاری کے لیے وقت نا دینے پر زینب جنجوعہ نے وکالت نامہ واپس لے لیا
19 اکتوبر ہائی کورٹ میں کیس لگا 21 اکتوبر آرڈر آیا صرف نوٹس ہوا اسٹے نہیں ہوا
20 اکتوبر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر ہوئی 22 اکتوبر آج لگی لیکن ڈویژن بنچ ہی کینسل ہو گیا
20 اکتوبر کو مشاورت کے لیے وقت نہیں دیا گیا عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد سے اسٹیٹ کونسلز سے نام مانگ لئے
21 اکتوبر اسٹیٹ کونسل تعینات کر دیا گیا آج 22 اکتوبر اسٹیٹ کونسل جیل میں جرح کریں گے کیس جلد اختتام پذیر ہونے کا امکان ہے
میرا موقف ہے کہ خیبر پختونخواہ میں منتخب حکومت ہٹانے والے، عمران خان کے مینڈیٹ سے پہلے دن سے ہی ناخوش تھے۔ خیبر پختونخواہ کے کارکنان اور لیڈران نے مثالی جدوجہد کی اور دلیرانہ قربانیاں دیں۔ یہ بلیم گیم کا وقت نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کے لئے یک آواز ہونے کی ضرورت ہے۔
آئین کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے اندر قریب ترین عدالت میں آپ نے کسی ملزم کو لازمی پیش کرنا ہے۔ لیکن یہاں پیش تو کرنا دور کی بات، بتایا تک نہیں جا رہا کہ سہیل آفریدی کہاں ہے۔ یہ اغوا ہے اور چیف منسٹر کا اغوا ہے، اسپیکر کا اغوا ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ عام آدمی کے لیے انصاف کتنا میسر ہے۔
عاصم منیر! جو حشر تمہارا ایران کی سپریم کونسل کے سربراہ اور ایرانی صدر نے کیا ہے، تم اب کس منہ سے واپس آؤ گے؟
یہی نتیجہ ہونا تھا امریکہ کی غلامی کا۔ اب ذرا سوچنا کہ اپنی قوم تمہارے ساتھ کیا کرے گی!
آئی ایس آئی کا کالا چینل میرے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے کہ کوئی باہر بیٹھ کر میرا ٹویٹر اکاؤنٹ چلا رہا ہے!
عاصم منیر، یہ کن کاموں میں پڑ گئے ہو؟
سانحۂ ملتان۔ ایک یتیم بچے کا قتل۔ یہ جرنیلی سوچ ہے۔ جیسے کور کمانڈر نے سانحۂ اے پی ایس کے بعد ایک ماں سے کہا تھا کہ تم جا کر اور بچے پیدا کرو۔ اُس کو بھی یہی سزا ملنی چاہیے۔
سپریم کورٹ کے آئین میں دئیے اختیار کو سادہ قانون سازی کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کو دینے کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں عجیب ہو گیا بنچ بغیر کسی جوڈیشل آرڈر کے ہی تبدیلی کی روش چل پڑی
تین ستمبر کو جسٹس ارباب محمد طاہر نے اس کیس کی سماعت کرکے نوٹس کیا کیس ستمبر کے آخری ہفتے میں لگانے کا حکم دیا
29 ستمبر کو بغیر کسی وجہ / اعتراض / جوڈیشل آرڈر کے کیس جسٹس عمیر مجید ملک کے بنچ میں لگ گیا اب وہ سن رہے ہیں
دوسرا معاملہ یہ ہے کہ 5 مارچ کو حکومت نے یہ قانون سازی کی ۔۔۔ اور حیران کن طور پر آج 21 اکتوبر کو وفاقی حکومت اور نیب نے اسلام آباد ہائیکورٹ جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگا لیا قانون سازی بھی ماہ پہلے کی ہو چکی جواب کے لیے وقت مانگ رہے ہیں عجیب ہی ہے
بظاہر عمران خان کے 190 ملین پاؤنڈ کیس کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے مبینہ طور پر یہ قانون سازی ہوئی ہے
کہانی کچھ یوں ہے کہ
5 مارچ کو نیب آرڈیننس میں حکومت نے ترمیم کی جس کے تحت ہائیکورٹ کے بعد نیب کیسز سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت جانے کا دوسری اپیل کا قانون بنایا گیا اب یہ قانون وکیل اظہر صدیق ایڈوکیٹ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہے جس میں اہم قانونی نکتہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ " 27 ویں آئینی ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کو 175 ایف کے تحت صرف آئینی معاملات دیکھنے کے لئے بنایا گیا تھا اب حکومت نے سادہ قانون سازی کرکے نیب کرمنل کیسز بھی آئینی عدالت کو بھیج دئیے حالانکہ ہائی کورٹ کے بعد نیب کیسز میں آرٹیکل 185 میں یہ اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے اس کو 32 اے میں نیب ترمیم کرکے سادہ قانون سازی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا "
سہیل آفریدی کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلی بنانے کی جو سازشیں کر رہے یا خواب دیکھ رہے ہیں،وہ کان کھول کر سن لیں،عمران خان کا دلیر اور بہادر سپاہی،شیر ماں کے شیر دل بیٹے سہیل آفریدی کے علاوہ کوئی اور وزیر اعلیٰ نہیں بنے گا،جب تک عمران خان صاحب کسی اور کو نامزد نہ کر دیں
اہم سوال اب یہ ہے کہ عمران خان کی بہنوں کی 20 اکتوبر اور آج 21 اکتوبر کی حراست کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟؟
ایک ماہ کا تھری ایم پی او مکمل ہو چکا کیا انتظامیہ نے اس میں توسیع کر دی ؟؟؟ اگر توسیع کر بھی دی ہے تو ان کی فیملی وکلا کو آگاہ کیوں نہیں کیا جا رہا ؟؟؟
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر موجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
ایم این اے اقبال آفریدی کا پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک سے ٹلیفیونک رابطہ۔
بہت جلد گورنر راج کے خلاف بھرپور احتجاج ہوگا اور اس کے بعد لانگ مارچ شروع کرنے کے حوالے سے آج اہم فیصلہ ہوگا۔
#GovernorRajRejected#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پشاور ہائیکورٹ میں موجود
پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواستوں پر سماع بیرسٹر گوہر علی خان کی صوبے می تحریک انصاف کےخلاف جاری انتقامی اقدامات روکنے کی استدعا مسترد
کیس کی اگلی سماعت کی جلد تاریخ دینے کی استدعا مسترد
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
میری والدہ اور میری خالاؤں، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کو MPO (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) کے تحت غیر قانونی طور پر حراست میں لیے ہوئے 30 دن گزر چکے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں اپنی حراست کے دوران، انہیں اپنے اہل خانہ اور قانونی مشیر (وکیل) تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
کسی بھی شخص، بالخصوص خواتین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ چونکہ اب حراستی حکم نامے کی مدت ختم ہو رہی ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر رہا کیا جان چاہیے۔ @KhanShershah
آج پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کے سامنے گوہر علی خان صاحب، اچکزئی صاحب، علامہ ناصر صاحب، اختر مینگل صاحب، شاندانہ گلزار صاحبہ اور دیگر کی آئینی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ غیر آئینی ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف ہمارے دلائل وڈیو کلپ میں موجود ہیں۔ صوبے میں بربریت کا راج ہے۔ عدالت سے کچھ ملنے کی امید ہو یا نہ ہو ہمیں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہے۔ عدالتیں آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ عدالت میں اٹھائی گئی آواز پوری دنیا میں سنی جاتی ہے۔ یہ آواز تاریخ کا حصہ بنتی ہے۔ ظلم کے سامنے خاموش ہو جانا بھی ظلم کی تائید ہے۔ آخری فیصلہ سیاسی میدان ہی میں ہو گا۔
ہمارے لیئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے وزیر اعلیٰ اغواء اسپیکر اغواء وزراء اغواء
دو تہائی اکثریت پر شب خون مارکر ہمارے حکومت کو ختم کیا گیا
اور ہمارے زمیداران کی کوئی پالسی واضح نہیں
پی ٹی آئی کو یہاں تک پہنچانے میں مرکزی لیڈر شپ کی ناقص پالیسی بنانے والے زمیدار ہیں