ایسا دروازہ بنیں جس سے خیر آئے۔
اگر دروازہ نہ بن سکیں، تو ایسی کھڑکی بنیں جس سے روشنی اندر اترے۔
اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو، تو ایسی دیوار بن ��ائیں جو تھکے ہوئے وجود کو سہارا دے۔
یا اللہ رحم: حوا کی ایک اور بیٹی سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہو گئی ، کل مورخہ 9 جون 2026 کو علاقہ ہیئر میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔۔ شام 6 بجے کے قریب محمد یاسر ولد ناصر علی نے پولیس کو اطلاع کی کہ اسکی بہن ثوبیہ ناصر جسکی شادی 4 سال قبل ہوئی اور اسکے 2 بچے تھے ۔۔ اسکے سسرال والوں نے فون کرکے یاسر اور اسکے گھر والوں کو اطلاع دی کہ آپ کی بہن نے پنکھے سے لٹک کر خو.د .کشی کر لی ہے اور وفات پا گئی ہے ۔ سب گھر والے دوڑے اپنی بہن کے سسرال پہنچے تو دیکھا انکی بہن مردہ حالت میں پڑی تھی ساتھ گئی خواتین نے بغور دیکھا تو ثوبیہ کے جسم پر تشد.د کے کئی نشانات تھے اسکے ہاتھوں ا��ر بازوؤں پر چوٹوں کے نشان تھے جسم پر ناخنوں سے نو.چنے کے نشانات اور پیروں پر ایسے نشانات تھے جیسے کرنٹ زدہ کے ہوتے ہیں ۔۔۔محمد یاسر کے مطابق ہماری بہن کو شروع میں اسکے شوہر معین نے ٹھیک رکھا لیکن کچھ عرصہ سے بہن کے سسرالی اس پر دباؤ ڈالتے تھے کہ جاکر ماں باپ اور بھائیوں سے پیسے لاؤ۔مدعی محمد یاسر کے بقول ۔۔میں نے خود کچھ روز قبل 2 لاکھ روپے انکے گھر جاکر معین کے حوالے کیے ۔ اب انہوں نے پھر ثوبیہ سے مطالبہ کیا کہ ہم سے رقم مانگے اسکے انکار پر سب گھر والوں نے ملکر ہماری بہن کو موت کے گھاٹ اتارا اس پر تشد۔د کیا گیا اور کرنٹ بھی لگایا گیا اور پھر اس واقعہ کو خو۔د۔ کشی کا رنگ دینے کے لیے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیا ۔
جوں ہی محمد یاسر نے 15 پر کال کی ثوبیہ ناصر کا شوہر وہاں سے بھاگ گیا ، پولیس موقع پر پہنچی تو سب سسرالی رشتہ داروں نے شور مچا دیا کہ ثوبیہ نے خو۔د ۔کشی کی ہے ۔ والدین اور بھائیوں کی بار بار درخواست کے باوجود رات گئے تک سسرالی رشتہ دار پوسٹ مارٹم پر آمادہ نہ تھے ۔۔۔۔ ثوبیہ ناصر کے والدین اور بہن بھائیوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام پولیس سے ثوبیہ ناصر کی موت کی میرٹ پر تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے
یا اللہ رحم: حوا کی ایک اور بیٹی سسرالیوں ��ے ظلم کا شکار ہو گئی ، کل مورخہ 9 جون 2026 کو علاقہ ہیئر میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔۔ شام 6 بجے کے قریب محمد یاسر ولد ناصر علی نے پولیس کو اطلاع کی کہ اسکی بہن ثوبیہ ناصر جسکی شادی 4 سال قبل ہوئی اور اسکے 2 بچے تھے ۔۔ اسکے سسرال والوں نے فون کرکے یاسر اور اسکے گھر والوں کو اطلاع دی کہ آپ کی بہن نے پنکھے سے لٹک کر خو.د .کشی کر لی ہے اور وفات پا گئی ہے ۔ سب گھر والے دوڑے اپنی بہن کے سسرال پہنچے تو دیکھا انکی بہن مردہ حالت میں پڑی تھی ساتھ گئی خواتین نے بغور دیکھا تو ثوبیہ کے جسم پر تشد.د کے کئی نشانات تھے اسکے ہاتھوں اور بازوؤں پر چوٹوں کے نشان تھے جسم پر ناخنوں سے نو.چنے کے نشانات اور ��یروں پر ایسے نشانات تھے جیسے کرنٹ زدہ کے ہوتے ہیں ۔۔۔محمد یاسر کے مطابق ہماری بہن کو شروع میں اسکے شوہر معین نے ٹھیک رکھا لیکن کچھ عرصہ سے بہن کے سسرالی اس پر دباؤ ڈالتے تھے کہ جاکر ماں باپ اور بھائیوں سے پیسے لاؤ۔مدعی محمد یاسر کے بقول ۔۔میں نے خود کچھ روز قبل 2 لاکھ روپے انکے گھر جاکر معین کے حوالے کیے ۔ اب انہوں نے پھر ثوبیہ سے مطالبہ کیا کہ ہم سے رقم مانگے اسکے انکار پر سب گھر والوں نے ملکر ہماری بہن کو موت کے گھاٹ اتارا اس پر تشد۔د کیا گیا اور کرنٹ بھی لگایا گیا اور پھر اس واقعہ کو خو۔د۔ کشی کا رنگ دینے کے لیے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیا ۔
جوں ہی محمد یاسر نے 15 پر کال کی ثوبیہ ناصر کا شوہر وہاں سے بھاگ گیا ، پولیس موقع پر پہنچی تو سب سسرالی رشتہ داروں نے شور مچا دیا کہ ثوبیہ نے خو۔د ۔کشی کی ہے ۔ والدین اور بھائیوں کی بار بار درخواست کے باوجود رات گئے تک سسرالی رشتہ دار پوسٹ مارٹم پر آمادہ نہ تھے ۔۔۔۔ ثوبیہ ناصر کے والدین اور بہن بھائیوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام پولیس سے ثوبیہ ناصر کی موت کی میرٹ پر تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے
شیخ عریفی سے ایک صاحب نے کہا کہ "میں ساری خرافات سے تائب ہوچکا ہوں؛"
"سوائے اپنی معشوقہ کے ، کہ وہ میرے دل سے نکل ہی نہیں رہی ، کوئی حل بتلائیے"
شیخ نے کہا ، "کہ دعا کیا کرو ممکن ہے اس سے نجات مل جائے."
اس نے کہا: "آپ ہی کوئی دعا بتلا دیجیے."
شیخ نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو:( اللھم اجعل في قلبي إيمانا و في سمعي إيمانا و في بصري إيمانا )
اے اللہ! میرے قلب و نظر اور سمع و بصر میں ایمان داخل فرما دے.
وہ شخص انتہائی سادگی سے بولا کہ یا شیخ !
میری محبوبہ کا نام ہی ایمان ہے ۔۔۔😃😂😂😂😂
ٹی وی کے مقبول ڈرامے "پری زاد" میں دکھائے گئے محل نما گھر کا اصل مالک گرفتار ۔۔۔ خیبر پختونخواہ حکومت میں گریڈ 12 کا ملازم (ہیڈ کلرک) نکلا-
مشہورِ زمانہ ڈرامے "پری زاد" میں دکھائے جانے والے اسلام آباد کے جس عالی شان محل نما گھر کو لوگ ایک افسانوی رئیس کی ملکیت سمجھتے تھے، اس کا اصل مالک خیبرپختونخوا کے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کا ایک گریڈ 12 کا ہیڈ کلرک (بابو) قیصر اقبال نکلا-
یہ کردار 40 ارب روپے کے کوہستان میگا سکینڈل کی تحقیقات میں سامنے آیا اور جب اس کے اثاثوں کی جانچ ہوئی تو پری زاد ڈرامے میں استعمال ہونے والا محل اس شخص کا نکلا-
اس مرکزی ملزم سی اینڈ ڈبلیو کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال نے ایک ارب 23 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے منجمد اثاثے احتساب عدالت میں سرنڈر کر دیے ہیں۔جس میں 56 کروڑ روپے نقد، ایک کلو سونا، 5 قیمتی گاڑیاں، اور ہزاروں ڈالرز و پاؤنڈز شامل ہیں-
سوچیئے, یہ خیبرپختونخوا کے صرف ایک کلرک کی لوٹ مار ہے...
@Badass1ZQ1 Shadi waly ki age b likhni chahiye phr behter jawab dia ja skta ha, normally bahir jany Wala theek rha, kiun k 15 lac me karobar b koi acha nh hoga Pakistan me.
ھمیں کسی سے کوئ بدلہ لینا ھے نا انتقام ۔۔
لگ بھگ پانچ دھائیوں پر محیط سیاسی کیرئیر کے دوران طلبا سیاست سے لیکر قومی سیاست تک ان گنت سیاسی حریف سامنے آۓ ، ھزاروں واقفان ِ حال جانتے ھیں کہ شدید اختلاف کے باوجود کسی سے میرا تعلق کبھی خراب نہیں ھوا بلکہ دو طرفہ احترام کا رشتہ برقرار رھا ۔۔!!
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی میں دائر شدہ مقدمہ میرا ذاتی نہیں ھے بلکہ بلاتفریق جماعت یا گروہ بندی ھر اس شخص کا مقدمہ ھے جسے بدنیتی اور سازش کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا جاتا ھے ۔۔۔اسے کہیں رُکنا چاھئیے ۔۔
از راہ کرم میرے نام ، میرے خاندان کے نام یا میرے کسی مینیجر کے نام کانسٹیٹیوشن ون – اپارٹمنٹس میں سرمایہ کاری یا کسی ملکیت کا ثبوت پیش کریں ، اپنی جان چھڑائیں ورنہ قانون کا سامنا کریں
زھر آلود جھوٹے الزامات لگانے والوں کیخلاف کاروائ جاری رھے گی ، بہتان تراشی کرنے والے بہت سے اکاؤنٹس شناخت ھو چکے ھیں ، نتیجہ جلد سامنے آنا شروع ھو جائیگا
ان اکاؤنٹ ھولڈرز کے اکاؤنٹس کی تحقیق سے ثابت ھو چکا ھے کہ ان سے غلطی نہیں ھوئ بلکہ یہ عادی مجرم ھیں ، ویوز ، پیسوں اور اپنے مالکان کے حکم پر معروف لوگوں کی پگڑیاں اچھال کر انھیں گندہ کرنا انکا دھندہ ھے ۔۔۔
یہ تنقید یا اختلاف راۓ نہیں بلکہ کردار کشی کی منظم بیہودہ مہم اور بہتان تراشی ھے !!
بہت جلد انکے خلاف ان شا اللّٰہ پنجاب ڈیفیمیشن قانون کے تحت بھی قانونی چارہ جوئ کا آغاز ھونے جا رھا ھے ۔
آپ اس یہ کیوں نہیں نتیجہ اخذ کرتے کے کہ ھماری سڑکوں کواستعمال کرنے والے شہری ٹریفک قانون کی پابندی کرنا اپنی توھین سمجھتے ھیں_ کسی بھی مصروف سڑک پہ کھڑے ھو کر مشاھدہ کریں کہ کتنے لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ھیں_ غیر مصروف سڑک پہ تو قانون کی پابندی کرنے کا سوال ھی نہیں پیدا ھوتا- چنگ چی ایک پاپولر سواری ھے، 80% سڑکوں پہ بغیر رجسٹریشن کے چل رہی ھے یہ حال ٹریکٹر ٹرالی کا ھے_ یہ صرف ایک مثال ھے_ کسی نے ٹھیک کہا کسی ملک میں نظم ضبط اور قانون کے احترام کا اندازہ لگانا ھو ��و اسکی سڑکوں پہ عوام کا طرز عمل دیکھیں_ پرانی خراب عادتیں لاڈ پیار سے ٹھیک نہیں ھوتیں قانون کے رٹ نافذ کرنے سے ھوتی ھیں _ ھیلمٹ کتنے فیصد لوگ پہنتے ھیں ؟ کتنے فیصد لوگوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ھے_ میرے ویر اے پاکستان اے ڈنمارک نہیں -
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی وہ صاف شفاف آسمان کی طرح تھے اور ہیں کہ جن کی طرف جس جس نے جب جب بھی تھوکنے کی کوشش کی تو تھوک خود ان کے منہ پر آ گری
Nation Always Love & Respect Faez Isa
وہ شخص جو صحافی ہونے کا دعویدار ہو لیکن اس کے پاس مخالف کو جواب دینے کیلئے مناسب الفاظ نہ ہوں تو یہ صحافت کی توہین ہے ایک صحافی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سخت سے سخت بات بھی مناسب الفاظ کے ذریعے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اگر اس کے منہ میں جھاگ اتر آئے اور وہ گالیوں کو ڈھال بنانے کی کوشش کرے تو وہ صحافی نہیں ٹرول ہے
سابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ صاحب کا Right to Reply کے تحت حق ہے کہ وہ جواب دیں اور انہوں نے یہ حق استعمال کیا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو ان کا جواب پسند نہ آیا ہو لیکن اسے ”بیانیہ بدلنے کی کوشش“ قرار دینا کیسے درست ہے؟
ویسے ��پنی ہی پوڈکاسٹ کو ”بیانیہ“ تسلیم کرنا کیا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ آپ حقائق پیش کرنے کے بجائے بیانیہ تشکیل دیتے ہیں؟
چلیں مان لیا کہ آپ نے ایک بیانیہ پیش کیا، جس کا جواب قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے بذریعہ صحافی آپ تک پہنچا دیا۔ صحافتی اصول و اقدار کے حوالے سے مناسب تو یہ ہوتا کہ آپ صرف ان کا مؤقف پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے پلیٹ فارم پر پیش کریں اور فیصلہ ناظرین پر چھوڑ دیں۔
بصورتِ دیگر، اس خدشہ کو تقویت ملتی ہے کہ یہ عمل صحافت کے بجائے ایک فریق بن کر محترم قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے خلاف باقاعدہ مہم ہے۔