وطن کے محبین کے لیے بلاشبہ سقوطِ بنگال الم ناک سانحہ ہے مگر ان میں سے اہلِ دانش یہ حقیقت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بنگالیوں کو اس سانحے کی بدولت ایسے نصاب سے بھی آذادی نصیب ہوئی جو اپنے نام کے پیچھے "فارمر آئی سی ایس" بطورِ اعزاز لگانے والوں کو قومی ہیروز بتاتا ہے۔
قدرت اللہ شہاب نے "شہاب نامہ" میں یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ان کی سروس کے دوران ایک ��وز وزیرِ خزانہ غلام محمد صاحب کے کمرے میں کراچی کی نئی تعمیر شدہ امارتوں کے لیے سنیٹری کے سامان کی ترسیل کے حوالے سے میٹنگ تھی۔جب کوٹہ منظور ہوا تو وہاں موجود وزیرِ تعلیم
مولوی فضل الرحمٰن نے تجویز پیش کی کہ سامان کا ایک حصہ ڈھاکہ کو دے دیا جائے۔ اس تجویز کا سرکاری وزراء نے خوب مزاق اڑایا اور ایک صاحب کہنے لگے کہ بنگالی لوگ تو کیلے کے گاچھ کی اوٹ پر بیٹھ کر رفع حاجت کرنے والے لوگ ہیں، انہیں کموڈ اور واش بیسن کی کیا ضرورت؟
شہاب صاحب مذید لکھتے ہیں
شاھی ریاستوں کی اب پھٹ رہی ہے
کیونکہ عرب میں پہلا عوامی انقلاب کامیاب ہوا ہے
سب قابضین کو خطرہ ہو گیا ہے
اللہ کریم مجاہدین کو ان کی سازشوں سے محفوظ رکھے
اور سارے عرب کو ان قابضین سے چھٹکارہ عطا فرمائے
#نوائےسحر
اس ملک کا المیہ یہ ہے
روس نواز کیمونسٹ خدائی خدمت گار ہیں
آتا ترک کا فین آمر یہاں صوفی اسلام لاتا تھا
ایک حلف توڑنے والا غدار فوجی ڈکٹیٹر اسلام کے نام پر ریفرنڈم کرواتا پایا گیا
اس کی نظریاتی اولاد آج بھی حکمران ہے
بھٹو سوشلسٹ اسلام لاتا مر گیا
ایک اور بہروپیا چین و👇
#نوائےسحر