@MNasAwan555 2009 سے yahoo کی ایک میل آئی ڈی ہے میرے پاس۔ اس وقت زیادہ مشہور یاہو ہی ہوتا تھا اس سے بھی پہلے۔ پر فیس بک پہ بھی اسی آئی ڈی سے آج بھی ایک ہی اکاؤنٹ چلا رہا ہوں۔
البانیہ برائے فروخت نہیں ہے۔۔۔۔!!!
البانیہ کی عوام ملک کی زمین کا ایک حصہ اسرائیل کو فروخت کیے جانے پر سڑکوں پر نکل آئی، تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے پھوٹ پڑے۔
مجھے ٹیومر ہے اور میرا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ۔میں امت مسلمہ کے عظیم لیڈر عزت ماب جناب ولی عہد محمد بن سلمان صاحب سے مدد کی اپیل کرتا ھوں
میرے بابا میرا علاج بیرون ملک نہیں کروا سکتے کیونکہ میں ایک مزدور کا بیٹا ھوں
امید ھے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے 🙏
@AmbassadorNawaf
👀 میں مردہ باد 👀
آج فیروز پور روڈ لاہور پر مائیکل اپنے لوڈر رکشہ پر جاتا دکھا، اظہار راۓ کے لیے موجود گھٹیا ترین حالات میں بھی کیا شاندار طریقہ ڈھونڈا ہے مائیکل نے احتجاج کا۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ عام آدمی سے مکمل طور پر کٹا ہوا “بچہ جمہورا نظام” مائیکل کے یہ فلیکس بھی برداشت نہیں کر پاۓ گا۔ اللہ ہمارے سائکلیں کھینچتے، بوریاں لوڈ کرتے، مزدوری کرتے، کھیت سینچتے، اپنے خاندان کے لیے خواب دیکھتے مائیکلوں کی خیر رکھے، زندہ رہنے کے حالات تو نہیں رہے لیکن شام کے سب پروگراموں میں ملک اونچی اڑان بھرتا ہے ہر روز۔اسی لیے مائیکل نے لکھ دیا کہ سب زندہ باد بس میں مردہ باد۔
راجن پور کے شہر کوٹ مٹھن سے اگر چاچڑاں شریف کی طرف جائیں تو بے نظیر برِج پر چڑھنے سے پہلے دائیں ہاتھ پر ایک کچا راستہ مڑتا ہے جہاں دریا پار کرنے کے لیے ایک عارضی پل قائم تھا۔ اِس پُل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ ایک حیران کُن منظر آپ کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔لگے گا جیسے یہاں ماضی میں کوئی بحری لڑائی لڑی گئی ہو اور دشمن اپنے جہاز چھوڑ کہ بھاگ کھڑا ہو۔یہاں آپ کو لہلہاتے اور سر سبز کھیتوں کے کنارے کیچڑ میں دھنسا ہوا ایک دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آئے گا، یہ انڈس کوئین ہے۔ سابقہ ریاست بہاولپور کا ستلج کوئین ۔ جس سے کچھ دور ایک سٹیمر اور دو کشتیاں بھی اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں۔تاریخی کہانی کچھ یوں ہے کہ برِصغیر میں جب انگریز راج قائم ہوا تو سندھ سے پنجاب تک پُختہ سڑک اور ریلوے لائن نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے سامان واجناس کی نقل وحمل کے لیے دریائے سندھ میں دُخانی جہاز متعارف کروائے- دریائے سندھ کی روانی کا فائدہ اٹھا کر اِن جہازوں کے ذریعے صوبہ سندھ اور پنجاب کے بیچ تجارت کو فروغ دیا گیا۔ حیدرآباد میں گدو بندر بھی دراصل دریائے سندھ پر موجود ایک بندر گاہ تھی جہاں ''انڈس فلوٹیلا کمپنی'' کے دُخانی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے- قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت تین دریا ستلج ، بیاس اور راوی بھارت کے حوالے کر دیے گئے تو ستلج کی گود سونی ہو گئی ۔ ادھر ریاستِ بہاولپور کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد نواب صادق خان عباسی نے پانی میں چلنے والا یہ جہاز ’’ستلج کوئین‘‘ حکومت پاکستان کو دے دیا۔ ستلج کوئین کو حکومت پاکستان نے ''غازی گھاٹ'' پر منتقل کیا اور اسے ڈیرہ غازی خان اور مُظفر گڑھ کے بیچ دریائے سندھ میں چلانا شروع کر دیا۔ سِندھو ندی میں آنے کے بعد یہ ستلج سے ''انڈس کوئین'' ہو گیا۔ غازی گھاٹ کے مقام پر پانی کے تیز بہاؤ کے پیشِ نظر انڈس کوئین کو 1996ء میں کوٹ مٹھن منتقل کر دیا گیا جہاں یہ مِٹھن کوٹ سے چاچڑاں کے درمیان پوری شان و شوکت سے چلتا رہا حتیٰ کہ 1996ء میں ہائی وے ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی عدم توجہی کا شکار ہو کر چلنے کے قابل نہ رہا اور تب سے لے کر اب تک دریائے سندھ کے کناروں سے بھی دور میدانوں میں پڑا ہے۔مقامی افراد کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ وہ جہاز ہے جِسے نواب آف بہاولپور، نواب صُبحِ صادق نے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو تحفہ میں دیا تھا۔ فرید کی نگری (کوٹ مٹھن) اور چاچڑاں شریف کے درمیان ٹھاٹھیں مارتا دریائے سندھ بہتا ہے جس کی وجہ سے خواجہ صاحبؒ سے ملاقات کرنے والے مریدین کو دشواری پیدا ہوتی تھی اور خواجہ صاحبؒ کو بھی چِلہ کشی کے لیے روہی (چولستان) جانا پڑتا تھا اس لیے نواب آف بہاولپور نے یہ بحری جہاز خواجہ صاحبؒ کو تحفتاً دے دیا تھا جو کافی عرصہ استعمال میں رہا۔ اس جہاز نے اپنا آخری سفر 1996 میں کیا۔اس بحری جہاز کے تین حصے تھے۔ نیچے والے حصے میں انجن، جنریٹر اور اوپر ملازمین کے کمرے تھے۔ درمیانی حصہ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے تھا، ایک حصہ عورتوں اور ایک مردوں کے لیے مختص تھا۔ درمیانی حصہ کے اوپر لوہے کی چادر کا شیڈ بنا ہوا ہے اور شیڈ کے اوپر سب سے اوپر والے حصہ میں مسافروں کے لیے ایک چھوٹی سی مسجد اور سامنے والے حصہ میں بالکل آگے کپتان کا کمرہ بنایا گیا تھا جس میں جہاز کو چلانے والی چرخی لگی ہوئی تھی جو جہاز کی سمت کا تعین کرنے میں استعمال ہوتی تھی ۔ تین منزلہ اس جہاز میں ایک ریستوران بھی تھا جس سے بیک وقت 400 مسافروں کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ قریباً پینتالیس سال پہلے اس جہاز میں آگ لگنے کے باعث یہ سہولت ختم کر دی گئی۔2010 کے سیلاب میں پانی اس جہاز کے اوپر سے گذر گیا اور یہ جہاز کیچڑ سے لت پت ہو گیا اب بھی اس کا انجن کیچڑ سے ڈھکا ہوا ہے۔ خانوادہِ فریدؒ سے تعلق رکھنے والے مذہبی اور سیاسی رہنما خواجہ عامر فرید کہتے ہیں کہ ہم نے ریاست بہاولپور کی یادگاروں، بہاولپور ریاست کے عوام، ریاست کے آثار قدیمہ، ریاست کی تاریخی عمارتوں اور اداروں کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا ہے، اس کی ایک مِثال انڈس کوئین ہے جسے مکمل بے پروائی کے ساتھ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔بے نظیر برج کے بعد اب مسافروں کی منتقلی کے لیے اس جہاز کی ضرورت تو نہیں رہی لیکن دوبارہ مرمت کر کہ اِسکو سیاحوں کی سیر کی غرض سے سِندھو ندی میں چلایا جا سکتا ہے۔ یا پھر دریا کنارے لنگر انداز کر کہ تھوڑا سا سرمایہ خرچ کر کہ اسے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ جہاز اگر لاہور میں ہوتا تو آج جگمگ کرتا پانیوں میں چلتا ایک خوبصورت بوٹنگ ریسٹورنٹ ہوتا۔
*وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*
*وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں دیتے۔*
*وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں کرتے۔*
*وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔*
*وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔*
*وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*
*وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کو* *خوشحال بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بناتے۔*
*وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟*
*وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ھے۔*
*ان کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،*
*جس کے لیے ضروری ھے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،*
*جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔*
*انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔*
*اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔*
*عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟*
*عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟*
*کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔*
*اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔*
*آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔*
*آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔*
*آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔*
*ان سب نکات کو آپ کسی سیاسی جماعت کا سپورٹر بن کر نہیں*
*بلکہ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!*
*آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا*
*یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے مگر آپ کو نظر نہیں آتا۔*
اور اس "وہ" میں وہ سارے شامل ہیں جو ہمارے اوپر حکمرانی کرتے ہیں ۔۔
یہ میرا بھائی ہے اسے ٹیومر علاج پاکستان میں ممکن نہیں اگر ھم گھر سمیت سب کچھ بیچ دیں تو بھی علاج نہیں کروا سکتے
سنا ھے ریاست ماں کی طرح ھےاگر ایسا ھے تو آج ھم ماں کو پکار رھے ہیں کیا ریاست ماں بن کر بچوں کی پکار سنے گی
کیا ماں کے پاس بچوں کے لیے وقت ہے ؟
@CMShehbaz
03279783395
""ایک صارف نے 11 یونٹ بجلی کے خرچ کئے، جس کا بل 404 روپے آیا جو بہت زیادہ ہے ۔ اب حکومت نے ایک فکسڈ چارجز 1688 روپے اس پر لگا دئیے، بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی، پھر ایف سی سرچارج 35 روپے، فیول پرائس 37 روپے، سیلز ٹیکس 385 روپے اور اس طرح کچھ اور چارجز لگا کر بل 2600 روپے سے بھی زیادہ کر دیا، یعنی 400 روپے کی بجلی خرچ کی اور بل دیں گے 2600 روپے۔۔ یہ کر رہی ہےحکومت، یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ جنہوں نے آپ کو 200 یا 300 یونٹ مفت بجلی دینا تھی، وہ 11 یونٹ پر آپ کیساتھ یہ کررہے ہیں"۔اطہر کاظمی
@2Kazmi
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
’’جو سپورٹ لاڈلے کو ملی اس کا 30 فیصد بھی ہم کو ملا ہوتا تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جاتا‘‘ شہباز شریف (20 مئی 2022)
اس بیان کو 4 سال ہو گئے ہیں، 100% سپورٹ ہے۔ راکٹ کی طرح اوپر بجلی گیس کے بل اور گھر کا خرچ گیا ہے
بجلی کا بل زیادہ آتا ہے میم نے پنکھے بند کروا دیئے ہیں اشرافیہ کی مراعات جاری و ساری اور بچے اتنی شدید گرمی میں بغیر پنکھوں کے سکول میں بیٹھے ہیں رانا سکندر حیات صاحب توجہ فرمائیے
میں نے اپنی زندگی میں یہ پہلا ایس ایچ او دیکھا ہے جس کے شوق کچھ الگ ہی ہیں جناب کا نام رؤف اسماعیل جٹ ہے ضلع اوکاڑہ کے چھوٹے سے گاؤں سے تعلق ہے زمیندار گھرانے سے ہے
لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کر کے جب اس ایس ایچ او کے پاس پہنچتے ہیں تو یہ نہایت پیار سے دونوں فریقوں کو سمجھاتے ہیں دینی درس دیتے ہیں دونوں فریقوں کا راضی نامہ کروا کر کیس تھانے ہی ختم کر کے گھر بھیج دیتے ہیں۔
تقریباً 4 ماہ میں اب تک پیرا کے اور رینالہ خورد پولیس اسٹیشن کے 60 کیسوں کے یہ راضی نامے کروا چکے ہیں اس کے علاؤہ خطبہ جمعہ بھی دیتے ہیں میں نے خود ان کے پیچھے ایک جمعہ پڑھا تھا چار ماہ کے بہت کم عرصے میں 60 راضی نامے کروا دینا اور 120 گھروں کو لڑنے سے بچا لینا بہت بڑا کام ہے
اس کے علاؤہ جناب جہاں بھی ریڈ پہ جاتے ہیں خواتین سے بداخلاقی نہیں کرتے بلکہ نہایت ادب و احترام سے پیش آتے ہیں۔
پنجاب پولیس میں بہت سارے ایسے قیمتی ہیرے موجود ہیں جو صرف اپنے کاموں سے اپنا نام بنا لیتے ہیں
اور دنیا مجبور ہو جاتی ہے تعریف کرنے پہ۔
ایسے نیک دل بہادر آفیسر کے لیئے ایک جملہ ضرور لکھ کر جائیں
میرا کام صرف پوسٹ لگانا ہے وائرل آپ کرتے ہیں
تحریر کاپی کی ہے ایک وال سے دل کو اچھی لگی پوسٹ کر دی
جس عُمر کے حصے میں یہ بزرگ ہیں آرام کے دن تھے لیکن مزدوری پر ہیں اور مزدوری کرکے بھی کچھ حاصل نہیں
مریم نواز کو کھلا چیلنج دے دیا ہے اور اس چینج کو ہر جگہ پہنچانا آپ پر فرض ہے
آپ کو اپنی اور اپنی ایلیٹ کلاس کی مراعات بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑتا، آپ جب چاہیں بیک جنبش قلم سوفیصد اضافہ کر دیتے ہیں لیکن غریب اور لوئر کلاس کے لیے 5 فیصد تنخواہ بڑھانے کے لئے آپ کو آئی ایم ایف سے اجازت لینا پڑتی ھے ، یہ بات ہضم نہیں ہوتی ۔