ابھی منتشر نہ ہو اجنبی،
نہ وصال رُت کے کرم جتا
جو تیری تلاش میں گُم ہوئے،
کبھی ان دنوں کا حساب کر
میرے صبر پر کوئی اجر کیا،
میری دوپہر پہ یہ ابر کیوں
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں،
میری عادتیں نہ خراب کر
قید کرنے کو تو کر لیتے مگر جانے دیا
چاند کی پیشانی چومی، چوم کر جانے دیا
اڑ رہا تھا وہ ہوا میں ہاتھ میرا تھام کر
اُس کو ڈر لگنے لگا تو میں نے ڈر جانے دیا
سعد ضیغم
وہ ہمیں ضائع کر رہا ہے اس طرح جیسے
ہم کوئی مال ہوں، اور مال بھی کوئی لوٹا ہوا
وہ بھی اک دور تھا میں کہکشاں میں رہتا تھا
اب تو تارہ ہوں فقط، تارہ بھی کوئی ٹوٹا ہوا