this ayah reminds us of our complete dependence on Allah. every person is in need of Him, while He is free of all need and worthy of all praise. whatever we have, we have by His grace, and whatever we need, we ultimately turn to Him for.
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر ایک بڑی جیل بن چکا ہے جہاں کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق، آزادی اظہار اور پرامن نقل و حرکت سے جبراً محروم رکھا جا رہا ہے، یہ ظلم اب مزید برداشت نہیں۔
#یوم_استحصال_کشمیر
مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے والے غیر آئینی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں، کشمیریوں کی غصب شدہ خود مختار حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے۔
#یوم_استحصال_کشمیر
Speaking to members of Meri Pehchan Pakistan today, I acknowledged Pakistan’s increasingly constructive global role under PM Shehbaz Sharif, and CDF Field Marshal Syed Asim Munir. Pakistan’s voice for dialogue, peace and regional stability deserves recognition.
But international relevance cannot compensate for administrative failure at home. Progress abroad must be matched by reform, justice and delivery within Pakistan.
Those resisting new administrative units and structural reforms should leave their political drawing rooms and listen to ordinary citizens. Across Karachi, southern Punjab, interior Sindh, Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa and other neglected regions, the verdict is unmistakable: Pakistan’s outdated, over-centralized administrative structure is no longer capable of serving its growing population.
Good governance demands smaller and more efficient administrative units, constitutionally empowered local governments, equitable distribution of resources, institutional reform and ruthless accountability. This is neither an ethnic slogan nor a partisan agenda. It is a national imperative.
Karachi stands as the most painful evidence of systemic failure. The city drives Pakistan’s economy, yet its people are denied clean water, functioning sewerage, safe roads, reliable transport and basic municipal dignity. Karachi cannot continue financing the country while being governed through neglect, fragmentation and excuses.
I am deeply saddened by the condition of MQM-P. It was given years of political space, public mandates and repeated opportunities to deliver. Many of us supported its right to represent Karachi and urged it to use its influence for better governance. Yet the people are still waiting for results.
Yesterday’s violence was disgraceful and unacceptable. Political militancy, intimidation and street power must never again be allowed to hold Karachi hostage. No party can claim to represent citizens while failing to deliver services and tolerating a culture of confrontation.
Karachi does not need recycled slogans, internal power struggles or manufactured crises. It needs water, roads, sanitation, jobs, security and accountable leadership.
Pakistan must reform. Karachi must be empowered. Politics must serve the people—not control, divide or terrorize them.
Karachi needs governance, not guns; results, not rhetoric; leadership, not excuses.
میری پہچان پاکستان کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے میں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کا متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں اس وقت حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب ان کے ثمرات ملک کے اندر بھی مؤثر حکمرانی، انصاف اور بنیادی اصلاحات کی صورت میں عوام تک پہنچیں۔ پاکستان کی خارجہ کامیابیوں کے ساتھ داخلی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
جو عناصر نئے انتظامی یونٹس اور بنیادی اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عوامی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ کراچی، جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا غرض یہ ہے کہ پورے پاکستان کے دیہی اور شہری نظرانداز کیے گئے علاقوں کے عوام واضح طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ، حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی انتظامی نظام اپنی افادیت بڑی حد تک کھو چکا ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے
اگر پاکستان کو مضبوط، منصفانہ اور مؤثر ریاست بنانا ہے تو چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس، آئینی طور پر بااختیار بلدیاتی نظام، وسائل کی منصفانہ تقسیم، جامع ادارہ جاتی اصلاحات اور بلاامتیاز و شفاف احتساب ناگزیر ہیں۔ یہ کسی قومیت یا سیاسی جماعت کا بیانیہ نہیں، بلکہ قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
کراچی پاکستان کی معیشت کا محرک ہے، مگر بدقسمتی سے یہی شہر بنیادی شہری سہولیات سے مسلسل محروم چلا آ رہا ہے۔ صاف پانی، مؤثر نکاسیٔ آب، محفوظ سڑکیں، قابلِ اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ اور باوقار شہری زندگی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ صورتحال مزید برقرار نہیں رہنی چاہیے کہ ملک کی معاشی شہ رگ ہونے کے باوجود کراچی کو غفلت، انتظامی کمزوری اور غیرمتوازن وسائل کی تقسیم کا سامنا کرنا پڑے۔
مجھے ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ سیاسی کیفیت پر بھی افسوس ہے۔ اسے کئی برس تک عوامی اعتماد، سیاسی مواقع اور کراچی کی خدمت کا بھرپور موقع ملا۔ ہم نے ہمیشہ کراچی کے عوام کے جمہوری حقِ نمائندگی کا احترام کیا اور یہ توقع رکھی کہ اس اعتماد اور سیاسی اثرورسوخ کو بہتر حکمرانی اور عوامی خدمت کے لیے بروئے کار لایا جائے گا، مگر بدقسمتی سے کراچی کے عوام آج بھی ان نتائج کے منتظر ہیں جن کی انہیں امید دلائی گئی تھی۔
گزشتہ روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ تشدد، دھونس اور طاقت کی سیاست کا جمہوری معاشرے میں کوئی مقام نہیں۔ کراچی کو خوف، تصادم اور محاذ آرائی کی نہیں، بلکہ امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت پر مبنی سیاست کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی جماعت صرف نعروں سے نہیں، بلکہ اپنی کارکردگی، عوامی خدمت اور جمہوری طرزِ عمل سے عوامی اعتماد حاصل کرتی ہے۔
کراچی کو فرسودہ نعروں، اقتدار کی اندرونی کشمکش اور مصنوعی بحرانوں کی نہیں، بلکہ صاف پانی، معیاری انفراسٹرکچر، مؤثر بلدیاتی خدمات، روزگار کے مواقع، امن اور جوابدہ قیادت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ترقی کا راستہ جامع اصلاحات، مؤثر حکمرانی اور مضبوط اداروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ کراچی کو اس کا آئینی، انتظامی اور مالی حق دینا ہوگا تاکہ وہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق قومی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت، ان کے مسائل کا حل اور قومی یکجہتی کا فروغ ہونا چاہیے، نہ کہ تقسیم، محاذ آرائی یا عوام کو یرغمال بنانا۔
کراچی کو بندوق نہیں، مؤثر حکمرانی چاہیے؛ نعرے نہیں، نتائج چاہیے؛ بہانے نہیں، جوابدہ اور باکردار قیادت چاہیے۔
#میری_پہچان_پاکستان #گڈ_گورننس #انتظامی_اصلاحات #کراچی
قلعہ سیف اللہ کے رہائشیوں کو ان کی دہلیز پر مفت طبی سہولیات! ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی یہ فلاحی پیشرفت عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔ ❤️🇵🇰
#VerifyTheFacts#BalochUnity
مظلومیت کے لبادے میں چھپی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ بی ایل اے کے کیمپوں میں خواتین کی ٹریننگ اور خودکش حملوں میں ان کا استعمال دستاویزی حقائق ہیں۔ ان کا اصل ریکارڈ سامنے لائے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
بی ایل اے کی جانب سے خواتین کا استعمال ان کے بزدلانہ چہرے کو ننگا کرتا ہے۔ لاپتا افراد کے نام پر جھوٹا بیانیہ پھیلانے والوں کا اصل چہرہ فاش ہونا چاہیے۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
نوجوانوں کو ورغلا کر اور سچائی چھپا کر 'لاپتا' ہونے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے تاکہ دشمن کے ملک کے ایجنڈے کو تقویت ملے۔ انسانی حقوق کے لبادے میں دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت کا دفاع ناممکن ہے۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
ضلع قلعہ سیف اللہ میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے مقامی نوجوانوں کے ساتھ دوستانہ کرکٹ میچ کا انعقاد کیا گیا۔ کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی روابط کے لیے اس موقع پر کھیلوں کا سامان بھی تقسیم کیا گیا۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
دہشت گرد جہاں بھی ہوں، ہماری سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ اب دہشت گرد اور ان کے پشتی بان جھوٹے دعوؤں اور فریب کا سہارا لے کر اپنی واضح شکست کو چھپا نہیں سکتے۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
بی ایل اے اور بی ایل ایف کا اصل چہرہ پہچانیں! یہ دہشت گرد طلبہ اور سیاسی کارکنوں کا روپ دھار کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ مظالم کی جھوٹی کہانیاں بنا کر اور "قومی فریضے" کا لبادہ اوڑھ کر نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف راغب کرنے والے ان عناصر کے جھوٹ کو
#VerifyTheFacts#BalochUnity
خاران میں پولیس تھانے پر حملہ امن کو نقصان پہنچانےکی ناکام کوشش تھی، جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ معصوم بلوچ خواتین، بچوں اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرےمیں ڈال کر یہ عناصر خود کوعوام کاخیرخواہ ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کا اصل چہرہ اب سامنے آ چکاہے۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
میر عالم کیازئی عرف "بکری چور" صاحب ولی تنگی سے براستہ ہکل نیپال روانہ۔
کہتے ہیں کالی ماتا کے پجاری "نرگ یاترا" پر نکلے ہیں۔
خدمت خلق کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا 🤭
#VerifyTheFacts#BalochUnity
کچھ لوگ لاپتا خواتین کے نام پر پروپیگنڈا کرتے ہیں، مگر BLA کے دہشت گرد کیمپوں میں خواتین کی موجودگی پر سوال نہیں اٹھاتے۔
ریاست کی ذمہ داری حفاظت ہے، دہشت گردوں کی ذمہ داری استحصال ہے۔
فرق صاف ہے۔
#VerifyTheFacts#BalochUnity
لاپتا خواتین کے معاملے پر آواز اٹھانے والے اُن کیسز پر خاموش کیوں رہتے ہیں جہاں خواتین بی ایل اے کے کیمپوں میں نظر آتی ہیں یا خودکش حملوں میں ماری جاتی ہیں؟ حقائق بھی سامنے آنے چاہییں۔ #VerifyTheFacts#BalochUnity