یوم مزدور
1st May Iabour Day
کچھ خواب روٹی کی خاطر کہیں کھو گئے ہیں ان کی مسکراہٹ بھی اکثر ادھار ہوتی ہے اللّٰہ پاک ہر مزدور کی محنت قبول کرے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین یارب العالمین
*پردہ پوشی کرنا سیکھیں بلاوجہ کسی کے عیبوں کی تشہیر نہ کریں کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ رب العالمین نے ہمارے کتنے عیبوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے! اگر وہ ظاہر ہوجائیں تو شاید ہمیں چھپنے کو جگہ نہ ملے! کوئی ہمیں دفنانے تک نہ آئے*
وزیراعظم شہباز شریف نے بجا طور پر کہا کہ حنیف عباسی نے ریلوے کو “کھڑا کر دیا” بلاشبہ حنیف عباسی محنت کر رہے ہیں، اور ان کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔
لیکن جناب وزیراعظم، قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ گزشتہ 50 برسوں میں ریلوے کو زمین بوس کرنے والے کون تھے؟
اسلام آباد کی بیٹی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم سے سوال کی سزا
نورالامین دانش
یہ ہیں نئے نویلے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم اسسٹنٹ کمشنر یاسر نذیر جنہوں نے دو روز قبل کئی اسلام آباد کے سیکٹر D12 میں کئی گاڑیوں میں سے آلٹو گاڑی کا انتخاب کر کے روکا جس میں ایک خاتون کو ہسپتال لے کر جایا جا رہا تھا۔صاحب بہادر بارش میں احتیاط کا لیکچرر دے ہی رہے تھے کہ محکوم رعایا کی ایک بیٹی جسے شاید آزاد شہری ہونے کا گمان تھا۔ سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی میں ہماری گاڑی ہی کیوں روکی؟ بڑی بڑی لینڈ کروزر گزر رہی ہیں انہیں کیوں نہیں روک رہے۔ یہ بات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کو کہاں ہضم ہونا تھی بس پھر تھانہ گولڑہ پولیس کو بلایا گیا جہاں کے پولیس اہلکار اس بیمار ماں ، نوجوان بیٹی اور انکے باپ کو تھانہ گولڑہ لے گئی۔ مردوں کے تھانے میں تین سے چار گھنٹے تک انہیں باتیں سنائیں گئیں اور سمجھایا گیا کہ افسران کے سامنے ایسے بولنے کی سزا بہت بھاری ہوتی ہے انکا قلم آپ کی زندگی برباد کر سکتا ہے۔ خیر ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم ضد پر اڑا ہوا تھا کسی کی اتنی مجال کہ اس کے علاقے میں اس سے کوئی سوال کرے۔
اگلے دن مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا جہاں ان سے معافی نامہ لکھوا کر انکی جان بخشی کی گئی اور ساتھ نکلتے ہوئے عملہ کہتا رہا شکر کرو صاحب نے رحم دلی دکھا دی ورنہ تم لوگوں کا کیا حشر ہوتا۔۔۔
@KlasraRauf مطب کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو کچھ پتہ ہی نہیں تھا کہ ان کی ایریا میں اس طرح دو قتل ہوئے ہیں۔ واہ سبحان اللہ۔ اور ابھی تک وہی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ہی ڈیوٹی دے رہئے ہیں۔
مطب کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو کچھ پتہ ہی نہیں تھا کہ ان کی ایریا میں اس طرح دو قتل ہوئے ہیں۔ واہ سبحان اللہ۔ اور ابھی تک وہی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ہی ڈیوٹی دے رہئے ہیں۔
بریکنگ نیوز ||
مجھے جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق بلوچستان میں قتل کی جانے والی خاتون اور مرد ثناء اللہ کو عید سے تین دن پہلے قتل کیا گیا تھا۔ اس خاتون کا تعلق ستکزائی قبیلے سے تھا جبکہ مرد ثناء اللہ کا تعلق سلمان قبیلے سے تھا۔ وہ ایک ہی علاقے کے رہائشی تھے۔
دونوں کچھ عرصہ قبل اپنا علاقہ چھوڑ گئے تھے اور چالیس دن کے بعد عید سے تین دن پہلے اپنے علاقے میں واپس آئے تو انہیں پکڑ کر مار دیا گیا۔
یہ بلوچستان کے تھانہ Hanna کا مرگٹ علاقہ ہے جہاں یہ قتل ہوئے ہیں۔
مجھے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ فوری طور پر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو موقع واردات پر بھیج دیا گیا ہے کہ وہ سب معلومات اکٹھی کریں کہ کون کون سے لوگ اس قتل میں شریک تھے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر بلوچستان حکومت کی مدعیت میں درج کی جارہی ہے۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ بہت جلد سب ملزم گرفتار ہوں گے۔
#Balochistan
@PakSarfrazbugti@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@OfficialDGISPR@MaryamNSharif
@najamwalikhan@GovtofPunjabPK آنکھیں تب کھلتی ہیں تکلیف تب ہوتی ہے جب اپنے ساتھ کچھ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تو ملک میں سب اچھا ہی نظر آ رہا ہوتا ہے سب کو۔
عجیب لوگ ہیں ہم، بھئی مرد بھی قتل ہوا ہے وہ بھی کسی کا بیٹا اور بھائی تھا، چھوڑ کر بھاگا نہیں عورت کو، اس کے ساتھ ہی جان دی ہے، دونوں کے لئے جذبات اور احساسات ایک جیسے رکھیں، ہر جگہ اپنا عورتانہ ماتم مت لے کر بیٹھ جایا کریں۔