پارٹی نے دھرنہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ممبر کے طور پر میں اس فیصلے کا پابند ہوں۔ لیکن میں آپ کے ساتھ اپنی سوچ شئیر کرنے کا بھی پابند ہوں۔ میں نے سیاسی کمیٹی میں اپنا زاتی خیال رکھ دیا- آپ کے سامنے بھی رکھ رہاُہوں۔ مجھے لگتا ہے سب کچھ آپکے سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اتنی لاشیں گرنے کے بعد میرے خیال میں احتجاج کال آف نہیں کرنا چاہئیے۔ جب اتنے بندے مروا لئیے تو پھر اب کال آف کیسا اور کس لئیے ؟
اب جب انہوں نے بندے مار دئیے ہیں تو میرے خیال میں احتجاج جاری رہنا چاہئیے تھا۔ اب مارنے والے جانتے اور مرنے والے۔ اب عوام جانے اور ظالم۔ عوام کا حق تھا کہ وہ کل صبح اسمبلُ ہو کر دوبارہ اکٹھی ہو اور اپنا حق حاصل کرے۔ میں زاتی حیثیت میں احتجاج کال آف کرنے کے ساتھ نہیں ہوں۔ میرے خیال احتجاج کال آف کروانا اسٹبلشمنٹُ کی خواہش تھی۔ پہلے اور طریقوں سے کرواتے رہے۔ اس بارے بھی پلان وہی تھا۔ پھر بشری بی بی اور ورکر راستے میں آ گئے۔ اس لئے یہ سب کرنا پڑا۔ اس لئے اب عوام جانے اور یہ جانے۔
اتنی لاشوں کے بعد احتجاج پہلے سے بھی زیادہ شدت سے ہوتا، اگر اس کو جاری رکھا جاتا تو۔
اب تک پی ٹی آئی کے مرکزی کنٹینر کے لاوڈ سپیکر سے صدام خان ترین کنٹرول کر رہے ہیں اور ان کا موقف انتہائی سخت ہے کہ ڈی چوک اور مطالبات کی منظوری سے کم کسی بات پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
اگر عوام یا سٹوڈنٹس احتجاج کر رہے ہیں تو ریاستی اداروں کو ان پر تشدد سے باز آنا ہو گا-اب عوام تنگ آ چکی ہے۔اب مزید ظلم سہنے کی موڈ میں نہیں۔۔
اور آگر باز نہیں آتے تو یہ ان کا آخری دور ہوگا انلو چپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔۔۔
My support was nothing, it was the students who didn't lose hope and fought till the end without fearing of death.
A big congratulations.
#SheikhHasina