https://t.co/0WEKCoPUPH
When one empire is destroyed it is always replaced by other powers.....
Geopolitics does not leave vacuumes.
This is where you need strong leadership...... Which can create your own space through your own force....
Muslim world does not have this level of leadership right now. So we keep giving space to the enemies.... And keep losing strategic opportunities....
Pakistan is still not making independent decisions. We take the approval of Saudi Arabia and Turkey first.
On Gaza, we are following the Saudi policy.
Where we should have taken a strong independent stand.
Pakistan is certainly playing a larger role now....... But it has to go a long way to act independently and lead instead of following the Arabs and Turks.
افغانی جب طاقت میں ہوتے ہیں تو پاکستان کے دشمن ہوتے۔۔
جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور ان کو پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے تو پاکستان کے دوست بن جاتے ہیں۔۔
یہی تاجک تھے جو حامد کارزائی اور اشرفغنی کی حکومت میں حکومت کرتے تھے اور پاکستان کے سب سے بڑے دشمن بن گئے تھے۔
اب طالبان سے ان کی دشمنی ہے تو یہ پاکستان سے دوستی کر رہے ہیں۔
مگر بات ٹھیک کر رہا ہے۔ تاریخی حقیقت کو یہ سب جانتے ہیں مگر صرف اپنی ضد میں جھٹلاتے ہیں۔
بڑے بڑے اولیاء اللہ اور علماء سے زیادہ بڑا مقام ہے غزہ کے ان معصوم بچوں کا۔۔۔ یہ سیدی رسول اللہ کے محبوب یتیم بچے ہیں۔۔۔ غزہ کے مرابطین اور مجاہدین کے بچے ہیں۔۔
اس امت کی ابرو ہیں۔۔ یہ بہترین امت ہے جو اج کے دور میں زندہ ہے۔۔ جو ازمائشیں مصیبتیں پریشانیاں اور قتل عام ان پر توڑا گیا ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے باوجود یہ صبر کرنے والے ہیں۔۔ شکر کرنے والے ہیں۔۔ اپنے ایمان پر قائم ہیں۔ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے۔
ماشاءاللہ قوۃ الا باللہ۔ کیا خوبصورت جماعت ہے یہ۔
اور کیا بدنصیب جماعت ہے جس نے ان کو اکیلا چھوڑ دیا۔۔
پاکستان کی مٹی کے نیچے اللہ نے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔
مگر یہ حکمران بہت ہی سستے داموں ان کو فروخت کر دیتے ہیں۔ ریکوڈک کا سونا اس کی ایک مثال ہے۔ سینڈک کا سونا اس کی مثال ہے۔
سینڈک کی پوری مائن خالی ہو گئی لیکن اج تک حکومت پاکستان میں کوئی نہیں بتایا گیا کہ اس میں سے کتنا سونا پاکستان کو ملا۔
نائجیریا افریقہ کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے بلکہ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں شامل ہوتا ہے لیکن دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ اس کی اشرافیہ دنیا کی امیر ترین اشرافیہ ہے۔۔
یہی پاکستان جیسا حال۔ کرپشن چوری خیانت اور ملکی وسائل کو سستے داموں غیر ملکیوں کو فروخت کرنا۔۔۔
پاکستان بنتے وقت کی اس تکلیف دہ داستان سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
کبھی مسلمان بغیر ہتھیار کے نہیں ہونا چاہیے۔
کبھی ہندو مشرکوں اور سکھوں پر اعتبار مت کرو۔۔
کبھی اپنی صفوں کے اندر بے وقوفوں اور منافقوں کی بات نہ سنو جو تمہیں بزدلی کا سبق دیتے ہوں۔
ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رہو۔
اپنی عورتوں کو بھی جنگ کرنا سکھاؤ۔۔
اگر مرنا یہ ہے تو لڑتے ہوئے مرو۔
1947 اور 1971 دونوں میں ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
اور انے والی غزوہ ہند میں بھی یہی ہوگا۔ ہمارا کمینہ دشمن سب سے پہلے ہماری عزت و ناموس اور عورتوں پر حملہ کرے گا۔۔۔
چوک پراگ داس امرتسر میں وحشی سکھوںکا قتل عام ۔اور مسلمان عورتوں کا برہنہ جلوس نکالنا
مارچ 1947 میں راولپنڈی میں سکھوں پر ہونے والے حملوں خاص کر تھوہا خالصہ کے قتل عام کو تو سیکولر طبقہ خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور تقسیم سے پہلے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ان کے سکھ اور ہندو بھائیوں کی معصومیت پر حرف نہ آئے ۔
انہی میں سے ایک واقعہ امرتسر شہر میں چوک مہان سنگھ اور چوک پراگ داس میں ہونے والا مسلمانوں کا قتل عام بھی ہے جو 6اور 7 مارچ کی درمیانی رات ہوا یعنی راولپنڈی میں سکھوں کے دھمیالی میں قتل عام سے بھی پہلے ۔
چوک پراگ داس اور چوک مہان سنگھ کے علاقے مسلم اکثریتی تھے ��یکن جزیروں کی طرح مرکزی امرتسر شہر میں غیر مسلم آبادیوں میں گھرے ہوئے تھے ۔ جبکہ مسلمان آبادی شریف پورہ وغیرہ کے علاقوں میں مرتکز تھی ۔
3
مارچ کو ماسٹر تارا سنگھ کے پنجاب پارلمنٹ کی سیڑھیوں پر پاکستان مانگنے والوں کو خون میں نہلانے والے بیان کے بعد چار مارچ کو سکھوں نے ڈھول پیٹتے ہوئے امرتسر شہر میں ��لوس نکالا جس میں پاکستان مانگنے والوں کو قبرستان بیجھنے کے نعرے لگائے گئے اور اسی جلوس کے شرکاء نے گول پٹی چوک کے علاقے میں مسلمانوں پر حملے کئے تو شہر میں فسادات کا آغاز ہو گیا ۔
اگلے روز تک فسادات پورے شہر میں پھیل گئے ۔ چوک فرید گیٹ اور مہان سنگھ گیٹ پر بڑا تصادم ہوا جس میں کئی ہلاکتیں ہوئیں اور واپس جانے ہوئے سکھ حملہ آوروں نے کٹرہ جمال سنگھ میں مسلمانوں کی کپڑے کی دوکانیں جلا ڈالیں ۔ شہر کے مخدوش حالات کو دیکھتے ہوئے امرتسر مسلم لیگ کے رہنما شیخ صادق حسن کی صدارت میں ایم اے او کالج امرتسر میں مسلمان عمائدین کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر مسلم علاقوں میں آباد مسلمانوں کو حفاظت کے پیش نظر شریف پورہ میں منتقل کر لیا جائے لہذا اسی شام یعنی 5 مارچ کی شام مسلم لیگ امرتسر کے جنرل سیکرٹری میر انور سعید محمود اور مسلم نیشنل گارڈز کے سالار اعلیٰ خواجہ امیر الدین کی قیادت میں مسلم رضاکار لاریاں لے کر چوک مہن سنگھ اور چوک پراگ داس پہنچے اور مسلمانوں کو وہاں سے ��ریف پورہ منتقل کرنے لگے لیکن وہاں کے مولوی یوسف جس کا تعلق جماعت احرار سے تھا اس نے کہا کہ ہمارا تو سکھوں کے ساتھ امن معاہدہ ہو چکا ہے کہ وہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے ۔ اس لیے ہم جہاں سے نہیں جائیں گے مولوی یوسف کے کہنے پر احرار اور کانگریس سے منسلک مسلمان وہیں ٹھہر گئے جبکہ باقی مسلمان دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ۔
اگلے روز 6 مارچ کو پہلا حملہ ہوا جس چوک پراگ داس سے منسلک چوک مہن سنگھ میں ایک مسلمان گوالن دو مسلم جوان قتل کر دیے گئے جبکہ مسلمانوں کے تانگوں کو آگ لگا کر لاشوں کو اس آگ میں پھینک دیا گیا ۔ مولوی یوسف سکھوں کے پاس شکایت لے کر گیا کہ امن معاہدے کی خلاف ورز�� ہوئی ہے لیکن سکھوں نے کہا کہ یہ قتل تو دوسرے محلے میں ہوئے ہیں اور معاہدہ آپ یعنی چوک پراگ داس والوں کے ساتھ ہے لہذا آپ بے فکر رہیں مولوی یوسف واپس آ گیا تو سکھوں کے لیڈر مہندر سنگھ اور دھیان سنگھ چوک پراگ داس میں مولوی یوسف کے پاس آیا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ تم لوگوں میں شامل کچھ مسلمانوں نے اونچی مسجد ( یہ چوک پراگ داس کی مسجد کا نام تھا) میں اور کچھ گھروں میں اسلحہ جمع کر رکھا ہے۔ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے تم لوگوں کی حفاظت ہمارے ذمے ہے ۔ہمیں مسجد اور مشکوک گھروں کی تلاشی لینے دو نہیں تو ہمیں مشتعل سکھ جوانوں کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا ۔
مولوی یوسف ان کے جال میں آ گیا اور کچھ ہی دیر بعد سکھ جھتے مسجد اور گھروں میں داخل ہوئے اور انھیں ڈنڈے سوٹے جو نظر آیا اٹھا کر لے گئے ۔ اسی شام تین چار اور مسلمان اس محلے میں قتل ہو گئے مولوی یوسف پر اب سکھوں کی چال واضح ہوئی لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ۔
رات ہوتے ہی سکھوں اور ہندوؤں کا اجلاس گرو رام داس کے گرودوارے میں ہوا جہاں سکھ ریاستوں سے آئے مسلح سکھ فوجی بھی موجود تھے ۔ یہاں مسلمانوں کے خلاف تقریریں کی گئیں اور کہا گیا کہ گھیرے میں آئے دشمن سے امن کیسا؟ یہی موقع ہے کہ انہیں ختم کر ڈالو ۔
حصہ ٢
پھر سب نے گرودوارے میں قسم کھائی کہ وہ اس مقدس دھرتی کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کر دیں گے ۔
باہر سے آنے سکھ فوجیوں کی ��ہنمائی کے لیے انہی محلوں کے ہندؤ اور سکھوں کو متعین کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے گھروں کی نشاندھی کریں گے ۔
پہلا حملہ اونچی مسجد پر کیا گیا جہاں بے گھر اور پہلے حملوں میں قتل ہونے والے مردوں کی عورتیں اور بچے پناہ لیے ہوئے تھے ۔ سکھوں نے اس مسجد پر ہلہ بول دیا جو کوئی عورت یا بچہ سامنے آیا اسے کرپان گھونپ دی گئی پھر سب کو گھسیٹتے ہوئے مسجد کے صحن میں لے آئے اور خود مسجد کے گرد جمع ہو گئے کچھ دیر بعد تیل کے کنستر مسجد پر چھڑک کر آگ لگا دی گئی اور جس کسی زندہ عورت یا بچے نے بھی باہر بھاگنے کی کوشش کی اسے بھی کرپان گھونپ کر آگ میں پھینک دیا گیا ۔
خواجہ افتخار کے مطابق اس واقعے کے عینی شاہد محمد شریف اور غلام دستگیر تھے جو اپنے گھر کی کھڑکیوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ ایک ہجوم نے ان کے گھر پر بھی حملہ کر دیا ۔ یہ صاحبان اس حملے میں زخمی ہو کر بے ہوش ہوئے تھے اور حملہ آور انہیں مردہ سمجھ کر آگے بڑھ گئے ۔ اس کے بعد سکھ بلوائیوں نے باقی گھروں پر بھی حملے کر دیے اور ہر طرف قتل عام مچ گیا ۔ مسلمان گھروں سے اینٹیں پھینک کر دفاع کی کوشش کرنے لگے لیکن کچھ دیر بعد فائرنگ کے بعد جان سے جانے لگے ۔
ساتھ والے مسلم محلے مہان سنگھ میں بھی یہی ظلم و بربریت جاری تھی ۔
خواجہ افتخار نے محلے کی ایک عمر رسیدہ عورت مائی خیراں کی بات لکھی ہے کہ ایک گھر میں محلے کی مسلمان عورتیں اور بچے مکان کے پیچھے کواڑ میں چھپ گئیں جبکہ مرد صحن میں سکھوں کا مقابلہ کرنے لگے جب مرد شہید ہو گئے تو یہ بلوائی کمرے کے سامنے موجود مائی خیراں کی طرف بڑھے ۔ مائی خیراں نے حملہ آور سکھوں کو پہچان لیا وہ اسی کے محلے کے تھے ماں خیراں نے ان کے نام لے لے کر واسطے دیے کہ تم لوگ تو میری گود میں پلے ہو تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو لیکن سکھوں نے انہیں بھی قتل کر ڈالا ۔لیکن خوش قسمتی سے اس گھر میں چھپے ہوئے بچے اور عورتیں بچ گئیں اور ان پر سکھوں کی نظر نہ پڑھی ۔
لیکن ہر گھر کی عورتیں اور بچے اتنے خوش قسمت نہ تھے ہر گھر میں مسلمان قتل ہونے لگے کچھ مسلمان عورتوں نے کھڑکیوں سے کود کر جان دے دی ۔
مولوی یوسف بھی خود چھپ چکا تھا لیکن اس کا ایک بھائی مولوی حمید جو شریف پورہ منتقل ہو چکا تھا اسی رات مولوی یوسف کو منانے آیا تھا کہ یہاں سے مسلم ابادی میں منتقل ہو جاؤ لیکن مولوی یوسف نہ مانا حمید صاحب رات اپنے بھائی کے پاس ہی رک گئے لیکن اس رات کے حملے میں شہید ہو گئے ۔ مولوی یوسف کا ایک بیٹا مولوی محمد اسلم بھی سکھوں کے ہتھے چڑھ گیا اور سکھوں نے اس کے پیٹ میں کرپانیں گھونپ کر اس کو شہید کر ڈالا ۔
اس کے بعد مسلمان گھروں سے نوجوان لڑکیوں کو جنہیں انھوں نے زندہ چھوڑ دیا تھا باہر سڑک میں نکالا گیا اور ان کے تن سے کپڑے چھین لیے ۔ پھر مسلمان گھروں کو آگ لگا دی اور لاشوں کو اٹھا کر آگ میں پھینکنے لگے اس کام سے فارغ ہو کر انہوں نے برہنہ مسلمان لڑکیوں کا مارچ گلیوں میں نکالا اور آگے آگے کرپانوں پر دو مسلم شیر خوار بچوں کی لاشیں اٹھائی ہوئیں تھیں ۔ اور سکھ " جو بولے سونہال، ست سری اکال" کے نعرے لگا رہے تھے ۔
ان مسلمان لڑکیوں کو مارچ کی صورت میں گرو رام داس کی سرائے میں لے گئے جہاں انہیں بربریت کا نشانہ بنایا گیا ۔
خواجہ افتخار کے مطابق اگلے روز جب مسلم نیشنل گارڈز کے لوگ علاقے میں پہنچے تو ہر طرف تباہی تھی ۔ ان کے ساتھ امرتسر پولیس کے مسلمان اہلکار بھی تھے جن کی مدد سے بچ جانے والوں کو وہاں سے نکالا گیا جبکہ ہڈیوں کی کئی بوریاں وہاں سے لا کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کی گئیں ۔
کچھ روز بعد نہرو نے ان علاقوں کا دورہ کیا لیکن اس قتل عام میں دونوں فریقوں کو ذمہ دار ٹھہرایا نہرو کے ساتھ موجود ماسٹر تارا سنگھ کو جب گرو رام داس کی سرائے میں موجود اغواء شدہ مسلمان لڑکیوں کی رہائی کے بارے میں کہا گیا تو پہلے تو وہ صاف مکر گیا کہ وہاں کوئی مسلمان لڑکی نہیں ہے لیکن پھر مسلمان علاقوں میں گھیرے ہوئے ہندو اور سکھوں کی سکھ علاقوں میں با حفاظت منتقلی کے بدلے مسلمان لڑکیوں کی رہائی پر مان گیا ۔
اونچی مسجد کے امام مفتی عبدالعزیز تھے ، مولوی یوسف اور مولوی حمید دونوں انکے بھائ تھے ، مولوی حمید اپنے نوجوان بیٹے اسلم کے ساتھ شہید ہو گئے تھے ۔مولوی عزیزکےبیٹے۔غلام دستگیر جن کی انگلیاں کرپان کے وار سے کٹ گئی تھیں وہ زخمی ہو کر پڑے تھے اور سکھ انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے اور گھر والوں کو بھی یہی پتا تھا کہ غلام دستگیر شہید ہو چکے ہیں مگر وہ کسی طریقے سے جان بچا کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔۔۔۔
جس مسلمان امت نے فلسطین کے بچوں کو اس طرح مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے کل اس کے اپنے بچے بھی یہودیوں اور مشرکوں کے ہاتھوں اسی طرح مارے جائیں گے۔۔ یہ مکافات عمل تو تم دیکھو گے۔ جب مسلمان ملکوں میں اس طرح تباہی مچے تو یاد کرنا کہ یہ غزہ کو اکیلے چھوڑنے کی سزا ہے ۔۔ تمہارے حکمرانوں نے تم کو ڈبو دیا۔ تمہاری اشرافیہ اور تمہارے علماء تم کو گمراہ کر گئے۔ کم از کم یہ مسلمان امت تو خود شرم کر لیتی ۔۔ مگر یہ خود غافل ہے۔
یہ صرف پاکستان ہے جس نے اکھنڈ بھارت کو روکا ہوا ہے۔۔ اللہ نہ کرے اگر پاکستان کو نقصان پہنچا تو پھر خطے کا کوئی اور ملک ان ہندو مشرک کمینوں کی مزاحمت نہیں کر سکے گا۔
اج یہ نمک حرام افغانی اکھنڈ افغانستان بنانے کے چکر میں پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ ان بے غیرت و بے شرموں کو ہندو مشرکوں کا یہ ارادہ دیکھنا چاہیے کہ وہ تو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں جس میں افغانستان بھی شامل ہے۔
یہ تو پاکستان ہے جس نے افغانستان کو ب��ایا ہوا ہے۔۔ پہلے ہم نے سوویت روس سے بچایا پھر امریکیوں سے بچایا اور اب ہندو مشرکوں سے بچا رہے ہیں۔
چین کی حکومت نے کئی دہائیوں سے چینی مسلمانوں پر پابندی لگائی ہوئی تھی کہ وہ حج بھی نہیں کر سکتے۔
جنرل ضیاء الحق نے چین کی حکومت سے بات کی اور مشرقی ترکستان کے چینی مسلمانوں کے لیے حج کرنے کا راستہ کھولا۔۔
چین کے مسلمان پاکستان اتے۔ ان کو راولپنڈی کے حاجی کیمپ میں ٹھہرایا جاتا۔ پھر یہاں سے وہ حج کرنے مکہ اور مدینہ جاتے۔۔ واپسی پر بھی وہ پہلے اسلام اباد اتے پھر یہاں سے ان کو چین واپس بھیجا جاتا۔۔
اسلام اباد میں ان چینی حاجیوں کو اجازت تھی کہ وہ تجارت بھی کر سکیں۔۔ جگہ جگہ یہ چینی ا��نے چھوٹے چھوٹے بازار لگاتے اور اشیاء کو فروخت کرتے۔ اس سے ان کی تھوڑی امدنی ہو جاتی جو یہ حج پر استعمال کرتے۔۔
ان چینی مسلمانوں کے ٹھہرنے کے لیے حاجی کیمپ اور مہمان خانے بنائے گئے تھے جہاں پر یہ بالکل مفت ٹھہرا کرتے۔۔
جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد چینی مسلمانوں کے لیے یہ سہولت ختم ہو گئی۔
https://t.co/fR0ltxPk7t
اج کل کے ڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل کا کیا حال ہوا ہے۔۔۔
مجھے خوف اتا ہے کہ ائندہ یہ کیا کریں گے۔۔
یہ انسانی تاریخ کی واحد نسل ہے جو کتابیں نہیں پڑھتی۔
پاکستان اور ترکی کے دفاعی اتحاد کے حوالے سے ہم نے جو کچھ فیلڈ مارشل اور پاک فوج کو نصیحت کی تھی اج اللہ کے فضل سے وہ اسی پر عمل کر رہے ہی��۔۔ یہ دو سال پرانی اذان ہے۔۔
فیلڈ مارشل اور پاک فوج کو مکمل لائن اف ایکشن دے دیا گیا تھا۔
اس بچی کا اصل نام ماجدہ ہے اور میٹرک کی طالبہ ہے. بلوچستان کے شہر بلیدہ کی رہنے والی ہے 6 اگست کو گھر سے اسکول کے لئے نکلی اور پھر واپس نہیں آئی. آج اسکی یہ وڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ بھارت سے بلوچستان کو آزاد کروانے کی اپیل کررہی یے. ماجدہ کو بی ایل اے نے اسکی دوست ھانی کے زرہعے گھیرا /ٹریپ کیا. ھانی اپنے گھر سے 13 مئی کو غائب ہوئی تھی.
ھانی کو انسٹاگرام کے ذریعے بی ایل اے نے ��یکروٹ کیا، ریکروٹ کرنے والے نے ھانی کو اپنی محبت کا یقین دلایا تھا اور اس محبت کا انجام بی ایل اے کیمپ میں ہوا.
نوجوانن بچیوں کو محبت کے جھانسے میں لایا جاتا ہے، پھر انکی نظریاتی conditioning ہوتی ہے ساتھ ساتھ مختلف نشوں پر لگایا جاتا ہے، جب ان سے کوئی کاروائی کروانی ہوتی ہے تو تریاق کے ہیوی نشے پر منتقل کردیتے ہیں.
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جب اپ کے بچے اپ سے پوچھیں کہ بابا اپ کے سامنے غزہ کا قتل عام ہو رہا تھا اور مسلمان امت نے اس کو کیوں نہیں روکا تو اپ کیا جواب دیں گے؟
اگر اپ کے بچوں نے اپ سے پوچھا کہ اپ نے غزہ کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے کیا کیا؟ تو اپ کیا جواب دیں گے
ایک سردار نے اپنے یہ اثاثے ظاہر کیے ہیں جو ایک فیصد بھی نہیں ہے اصل دولت کی۔ 99 فیصد دولت اس نے چھپائی ہوئی ہے۔
یہ کھرب پتی سردار جو بلوچستان کو لوٹ کر کھا گئے ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم نے بلوچوں کا حق مارا ہے۔
گالی پنجاب کو دینی ہے۔ گالی پاک فوج کو دینی ہے۔ گالی پاکستان کو دینی ہے۔۔
ان بلوچ سرداروں سے کوئی سوال کرے کہ تم تو سینکڑوں سالوں سے سردار ہو تو تمہارے علاقے کے لوگ پتھر کے دور میں کیوں رہتے ہیں۔۔ ؟
پچھلے پانچ سو سال میں تم لوگوں نے یہاں کوئی یونیورسٹی سکول اور صنعت کیوں نہیں لگائی۔؟ سب کچھ پاکستان نے کیا۔۔ سڑکیں بنائیں بجلی لائی ٹیلی فون لایا ہسپتال بنائے تعلیمی نظام بنایا تجارت کھولی۔۔۔ اور تم سب کچھ تباہ کرتے رہتے ہو کیونکہ تمہاری بدمعاشی ختم ہوتی ہے۔۔
ان سردار��ں سے کوئی پوچھے کہ اتنا پیسہ تمہارے پاس کہاں سے ایا؟ تم اپنے قبیلے پر اور اپنی قوم پر کیوں نہیں خرچ کرتے؟ یہ جہنمی لعنتی مردود فرعون۔۔
Water shortage due to data centers
یہی ہم نے اپ کو بتایا تھا نا۔۔
ارٹیفیشل انٹیلیجنس کا ڈیٹا سینٹر صرف اپ کے شہر کا پانی نہیں پی جاتے۔۔۔ وہ پورے شہر کے اندر کا درجہ حرارت بڑھا دیتے ہیں جس سے انسانی جان اور پرندے اور جانور ہلاک ہوتے ہیں۔۔
یہ ریڈییشن پیدا کرتے ہیں جس سے پورے علاقے میں کینسر ہوتا ہے۔۔
ان سے عجیب عجیب اوازیں نکلتی ہیں جس سے تمام علاقوں کے جانور اور پرندے چلے جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔۔
ڈیٹا سینٹر تو بڑے شوق سے لگائے جاتے ہیں مگر کوئی اپ کو ان تابکاری اثرات کے بارے میں نہیں بتاتا۔ پاکستان میں بھی لگائے جا رہے ہیں۔۔
اپ دو باتیں نوٹ کریں۔
خان عبدالغفار خان جسے باچا خان بھی کہتے ہیں پاکستان کی شدید مخالفت کر رہا تھا۔
اس غدار نے ساری زندگی پاکستان سے دشمنی کی اور پاکستان میں دفن ہونا پسند نہیں کیا۔۔
ہم نے پشاور ایئرپورٹ کا نام بادشاہ خان کے نام پر رکھا ہے۔۔ عجیب بے غیرت اور بے شرم قوم ہے ہم کہ اپنے غداروں کو عزت دیتے ہیں۔
دوسرا پاکستان کا جھنڈا دیکھیں۔ گہرے سبز رنگ کا جھنڈا۔
میرے والد اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے۔ پشتو نہیں جانتے تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں ہندوستان سے اردو بولنے والے طلباء پورے شمال مغربی صوبے میں پھیل گئے اور ان کو صرف ایک جملہ اتا تھا۔۔
شین صندوق کہ واچوا۔۔۔ سبز رنگ کے صندوق میں ڈالنا۔ وہ تمام اردو بولنے والے بچے پشتون علاقوں میں گھومتے اور ان سے کہتے کہ سبز رنگ کے صندوق میں ووٹ ڈالنا۔
سبز رنگ کے صندوق پاکستان کے لیے تھے۔
٩٩.٩٩ فیصد ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے۔
غفار خان کتے کی طرح ذلی�� ہوا۔ پھر ساری زندگی پشتونستان بنانے کے لیے پاکستان سے دشمنی کرتا رہا۔۔۔ پھر اس کا بیٹا ولی خان۔ پھر اس کا بیٹا اسفندیار ولی۔ پھر اس کا بیٹا ایمل ولی۔۔ سب نسل در نسل حرام زادے۔
بیسویں صدی کے بہت بڑے عالم دین ہیں مولانا ابو الحسن علی ندوی۔۔
پاکستان کے بارے میں کہتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کی تباہی کے بعد اگر کوئی بڑا نقصان مسلمانوں کو ہوگا تو وہ یہ کہ پاکستان کو نقصان پہنچ جائے۔۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی کا تعلق بھارت سے تھا مگر وہ پاکستان کی اہمیت کو جانتے تھے
اج بھارت میں یوم ازادی تھا۔۔
مسلمانوں کو قتل کرنے کی ازادی۔۔
ہندو راشٹر بنانے کی ازادی۔
اکھنڈ بھارت بنانے کی ازادی۔۔
گجرات جیسے قتل عام کرنے کی ازادی۔۔
اللہ لاکھوں کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے علامہ اقبال اور قائد اعظم پر کہ جنہوں نے یہ سب کچھ بہت پہلے دیکھ لیا تھا۔ اللہ کا احسان کہ اس نے ہمیں پاکستان عطا فرمایا۔
بھارت کے مسلمان اب اپنے بڑوں کے گناہوں کا بہت بھاری کفارہ ادا کریں گے۔
*A Lifeline for Afghanistan - At What Cost to Pakistan?*
A country accused of allowing its soil to be used against Pakistan, while Pakistani soldiers continue to make the ultimate sacrifice fighting terrorism—and yet we are sending 724 trucks of humanitarian aid across the same border.
Humanity is important. But so is memory.
Imagine the contradiction: our soldiers fight terrorists at home, families mourn their fallen, and meanwhile we provide a “lifeline” to the very side whose policies and territory remain a source of insecurity for Pakistan.
What a strange world—where the blood of our soldiers is shed on one side of the border, while relief trucks roll across the other.
Humanitarianism should never mean forgetting the sacrifices of those defending the nation.
Perhaps the real “lifeline” Pakistan owes first is to its own people, its own soldiers, and the families of its martyrs.
What a joke—if it weren't so painfully costly.