love Islam, Pakistan is my Identity,My Ultimate aim is a beautiful ❤️, prosperous & Strong Pakistan 🇵🇰
Dream Accountant &
Die_heard fan of @ImranKhanPTI
عمران خان کا مینڈیٹ منظور نہیں ، اس کی شکل منظور نہیں ، اس کا نام منظور نہیں ۔ اس کا علاج منظور نہیں ۔ اس کی فیملی سے ملاقات منظور نہیں، اس کے بنیادئ انسانی حقوق منظور نہیں
لیکن ہاں
اس کا صوبے بنانے کے حق میں پرانا بیان منظور بھی ہے مقبول بھی ہے جسے چلا کر عوام کو قائل کیا جا رہا ہے😀
27 برس قبل پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف کے قیام کیلئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہی آزاد عدلیہ پر استوار ہوتی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہم نے اپنی نگاہوں کے سامنے قانون کی حکمرانی کے تار و پود بکھرتے دیکھے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران پوری ڈھٹائی سے دستور و قانون سے انحراف کیا گیا اور آئین کو تاراج کرنے کے ساتھ نہات دیدہ دلیری سے اسے نیچا دکھایا گیا جس سے عدلیہ کی بچی کُھچی ساکھ اور اس کے اختیار و حیثیت کا بھی جنازہ نکل گیا۔
چنانچہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان 6 بہادر ججز کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے اراکین کے نام اپنے خط کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کی نہایت تشویشناک کیفیّت پر سے پردہ ہٹایا ہے۔ یہ خط اپنے دو عدد منسلکہ جات کے ذریعے خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پوری ڈھٹائی سے عدالتی معاملات میں اس شرمناک مداخلت کو ریکارڈ پر لاتا ہے جو ملک میں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ایک نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت فردِ جرم سے کسی طور پر بھی کم نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران جس انداز میں ججز کو ڈرا دھمکا کر انہیں سیاسی بنیادوں پر فیصلے جاری کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے اس سے ان ججز کے فیصلوں اور عدالتی امور میں شفافیّت کے پورے عمل پر ان گنت سوالات سر اٹھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ اس پورے عمل سے ریاست کے بیانیے کی صحت اور 9 مئی کے واقعات و نتائج کی حقیقت، جن کے پس منظر میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر باقاعدہ ایک یلغار کی صورت میں نیم فوجی دستوں کے ذریعے (ہائیکورٹ کے اندر سے) اغوا اور ان سے کی جانے والی بدسلوکی کارفرما ہے، کے حوالے سے بھی نہایت سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تب سے لیکر اب تک (ملک میں) سیاسی انتقام کی ایک لہر اٹھائی گئی ہے جس کے تحت سیاسی کارکنان اور قائدین کو اغوا کرکے انہیں اذّیت و تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول یا روایت بن کر رہ گیا ہے اور عدالتیں اپنے اختیارات بروئے کار لانے یا (ان زیرِعتاب سیاسی کارکنان/قائدین کو) انصاف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر اہم یہ ہے کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کی ذیلی عدالتیں ہی ہیں جہاں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے زیادہ تر مقدمات جن میں ان کی غیرقانونی گرفتاری اور (جعلی، بےبنیاد، من گھڑت اور جھوٹے مقدمات میں) دی جانے والی سزاؤں (کے خلاف اپیلوں وغیرہ) کے معاملات شامل ہیں، زیرِ سماعت ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ عدالت دباؤ اور مداخلت کے زیرِ اثر ہے جس سے ان مقدمات پر کی جانے والی عدالتی کارروائی پر بھی نہایت سنگین نوعیت کے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ سپریم جیوڈیشل کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معزز ججز کی جانب سے لگائے جانے والے نہایت سنجیدہ الزامات کی ایک غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے اور ان ہزاروں سیاسی قیدیوں کیلئے سہولت و انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں قید ہیں۔
آپ کا ایک SMS بن سکتا ہے ہزاروں کینسر سے لڑتے مریضوں کی امید۔
آج ہی 7770 پر SMS کر کے اپنی زکوٰۃ و عطیات شوکت خانم ہسپتال میں زیر علاج کینسر کے مستحق مریضوں تک پہنچائیں۔
#ZakatSeZindagi#ZakatForShaukatKhanum#SKMCH
سابق وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب جس میں انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی اور دنیا کو بتایا کہ حضرت محمد ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں۔
#VictoryAgainstIslamophobia
۹ اپریل ۲۰۲۲ کی رات کو شروع ہونے والا تماشہ ۹ فروری ۲۰۲۴ کو ختم نہیں ہونا تھا اور نا یہ ایسے ختم ہوگا۔ عمران خان کو جن کی ایما پر ہٹایا گیا تھا انہیں اُس کی واپسی قبول نہیں ہے، چاہے اُس کے لیے ۲۴ کروڑ کے ملک کو آگ میں جھونک دیا جائے۔ اس بات کا ادراک ہمیں ۹ اپریل کی رات کو ہی تھا، ۹ فروری کے بعد صرف ہمارے خدشات پر ایک اور تصدیقی مہر ثبت ہوئ ہے۔ امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ بولنا، یوکرائن جنگ میں یورپی یونین کی ہم نوائی نا کرنا، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار اور ہندوستان کی اجارہ داری کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا عمران خان کے وہ جرائم ہیں جو بیرونی طاقتوں کے لیے تو نا قابلِ قبول ہیں ہی مگر ان کے اندرونی مہروں کی بقا بھی اسی میں ہے کہ عمران خان نام کی کوئی تلوار اُن کی بیش بہا اور آئین و قانون سے مبرا طاقت پر نا لٹکتی رہے۔ دو سال کی بدترین فسطائیت اسی امید پر تھی کہ عمران خان پیچھے ہٹ جائے یا یہ عوام تھک جائے۔ اس دوران یہ کوشش بھی مستقل جاری رہی کہ عمران خان نام کا کانٹا ہی نکال دیا جائے، ایک بار نہیں کئی کئی بار عمران خان پر حملہ کیا گیا اور اب جب سے عمران خان کو پابندِ سلاسل کیا گیا ہے ہر ایک لمحہ اسی مقصد پر عملدرآمد کی منصوبہ بندی میں صرف ہورہا ہے۔ میں متعدد بار یہ اشارہ دے چکا ہوں اور اب مزید واضح کررہا ہوں اس ملک پر قابض خدائی کے دعویداروں کا فیصلہ ہے کہ عمران خان کو نومبر سے پہلے پہلے راستے سے ہٹانا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے جس ذات نے آج تک عمران خان کی زندگی کی حفاظت کی ہے وہ انشاء اللہ آگے بھی کریگی مگر عین ممکن ہے کہ ۱۸ مارچ ۲۰۲۳ کی طرح اس مرتبہ بھی وسیلہ اللہ نے اُس کی قوم کو بنانا لکھا ہو اور یہ کوشش ہم پر فرض اس لیے بھی ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضرورت عمران خان کو نہیں ہے،عمران خان کی قوم کو ہے؛ ہمیں ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ ہم اپنی طاقتیں مجتمع کریں اور منظم ہو کر میدان میں اتریں۔ اُن کے پاس اگر ہتھیار اور اختیار ہے تو ہمارے پاس تقریر، تحریر اور قلبِ جرار ہے۔ حق پر ہونے کا اعزاز ہے۔
اس وقت مقتدرہ متعدد منصوبوں پر کاربند ہے۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے، عمران خان کے سائے تک سے نجات پانا۔ اس کے لیے اڈیالہ پر دہشت گرد حملوں اور سیکیوریٹی رسک کا ڈرامہ بھی رچایا گیا، مذہبی جنونیت اور جیل میں قیدیوں کی لڑائی کے قصے بھی پھیلائے گئے، ُان کی صحت کے حوالے سے پہلے ہی بی بی کو دھمکی دی گئی تھی، عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کے بابت بھی غوروخوض ہوا۔ بنی گالہ میں بشری بی بی سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور اُن کی منتقلی پر کیسی خبریں چلائی گئیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ بہر صورت خان کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار وہی قوتیں ہوں گی کہ جو عدالتوں کے فیصلوں کو روند کر اُن سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنے پر قادر ہیں۔
ان تمام امکانات اور چند دیگر حقائق کہ جن کا ذکر فی الوقت مناسب نہیں ہے کی بنا پر درج ذیل نکات الیکشن کے فوراً بعد ہی قیادت اور اوور سیز نمائندگان تک پہنچا چکا ہوں اور اب چونکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا درست اندازہ ہوچکا ہے اس لیے اپنی قوم کے لیے بھی لکھ رہا ہوں۔
ہمیں اس وقت مکمل فوکس اور یک جہتی سے عمران خان کی آواز بننا ہے۔ جہاں قومی اسمبلی میں مستقل عمران خان کی رہائی کی آواز کی گونج کم نہیں ہونی چاہئے وہیں اپنے مینڈیٹ کی واپسی کا علم عدالتوں، میڈیا اور سڑکوں پر اونچا لہرانا ہے۔
۱- عمران خان کی تصویر لیکر پروگراموں میں شرکت کریں جس چینل یا اینکر کو اس عمل پر اعتراض ہے اُس پروگرام میں ہی نا جائیں۔ عمران خان، بشری بی بی، شاہ محمود قریشی سمیت غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل کارکنان اور صحافیوں کی رہائی کے مطالبے سے بات کا آغاز کریں۔ میڈیا اپنی تمام تر مجبوریوں کی باوجود آپ کے وجود کی نفی نہیں کرسکتا کیونکہ آپ اس ملک کی سب سے بڑی حقیقت ہیں۔
دو سال سے جس فسطائیت کا سامنا یہ قوم کر رہی ہے اس پر “ہیلنگ ٹچ” صرف انصاف کی صورت میں لگ سکتا ہے۔ انصاف کا پہلا مرحلہ قوم کے مینڈیٹ کی واپسی ہے۔ اُس سے کم پر آمادگی کا اظہار کرکے اپنے مقصد کو کمزور نا کریں یہ قوم کی قربانیوں کی توہین ہے۔
۲- سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، تحریک کے کارکنان، آفیشل اکاؤنٹس روزمرہ کے معاملات کے ساتھ اپنا فوکس مینڈیٹ کی واپسی اور عمران خان، پارٹی لیڈران اور کارکنان کی رہائی پر ایسے رکھیں جیسے آپ کی زندگی اِس پر منحصر ہو۔ کوئی بھی ذاتی بیانات، اختلافات، بیان در بیان اور آراء آپ کو یہ نہ بُھلا پائیں کہ یہ جنگ آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ آپ کو شاید آج اندازہ نہ ہورہا ہو لیکن آپ کی زندگی واقعی ان دو عوامل پر منحصر ہے، یقین نہیں آتا تو اُن قوموں کو دیکھ لیں جن کی شہ رگ میں فسطائیت پنجے گاڑ چکی ہیں، آپ کو اُن کے چہروں پر زندگی کی شاذ ہی کوئی رمق دکھائی دے گی۔
۳۔ جہاں ظلم کے اندھیرے گہرے ہونے کے عندیے دیے جارہے ہیں لازم ہے کہ ہم اتنے ہی دیے روشن کریں۔ جو لکھ سکتا ہے لکھے۔ جو بول سکتا ہے بولے۔ جس کی احتجاج کی سکت ہے وہ اُن میں شرکت کرے۔ لیکن جس تحمل کے ساتھ یہ عمل آپ دو سال سے جاری رکھے ہیں اُس صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے۔ مدمقابل سفاک بھی ہے اور بے غیرت بھی۔ وہ اپنی کاروائیوں کا الزام آپ پر دھر کر آپ کے لیڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے ہوش اور فوکس۔
۴- جو بیرون ملک ہیں وہ دنیا کو جگائیں۔ یاد رکھیں جمہوری معاشروں میں حکومتیں عوام کو جوبداہ ہوتی ہیں وہ ایک حد تک ہی اِن کے جبر اور غیر آئینی اقدامات سے چشم پوشی کرسکتی ہیں۔ آپ کے پروگرامز ، احتجاج، سوشل میڈیا پر آپ کی تحریکیں پرزور ہونی چاہئیے۔ یاد رکھیں عمران خان آپ کا وقار ہے۔ دنیا میں آپ کی عزت کا ضامن ہے۔ جن محفلوں میں آپ پر دہشت گردی کے لیبل لگتے رہے وہاں وہ آپ کا مقدمہ لڑا ہے۔ وہ جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا تھا فقط آپ کے حق کے لیے سوالی بنا ہے۔
۵- سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری اس وقت وکلاء پر ہے۔ وکلاء قیادت بار کونسلز کے ذریعے عدلیہ کو جھنجھوڑیں ملک میں دو سال سے جو آئین و قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے اُس پر شور مچائیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اُن روگردانیوں سے آگاہ کریں کہ جن کے زریعے ۲۴ کروڑ کے ملک کو یرغمال بنایا گیا ہے۔
۶- قیادت کے مطابق وہ جلد ہی گذشتہ ہفتہ کی ملاقاتوں اور تنظیموں سے مشاورت کے مطابق لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔ میں اس تناظر میں اپنے یوتھ، آئ ایس ایف، ٹرانسپورٹرز اور ٹریڈرز تنظیموں اور وی سی تنظیموں جو کہ صرف پختونخواہ میں ۷۰،۰۰۰ عہدیدار بنتے ہیں سے اپیل کرتا ہوں کہ آج رات سے ہی اپنی تیاری کرلیں۔ کسی بھی اعلان اور پر امن تحریک کے آغاز میں آپ کا کلیدی کردار ہوگا۔
میں ایک مرتبہ پھر دہرا دوں مدمقابل سفاک بھی ہے اور بے غیرت بھی وہ آپ ہی کو آپ کے خلاف استعمال کریگا۔ ہمیں ہر قدم یہ سوچ کر اٹھانا ہے کہ ہمارے سامنے مقصد بہت بڑا ہے۔ ہمیں ان بیرونی طاقتوں کے آلہ کاروں، خدائی کے دعویداروں سے اپنے لیڈر کی زندگی، اپنا مینڈیٹ اور اپنا ملک تینوں بچانے ہیں۔
ان کی طاقت کا دار ومدار آپ کی خاموشی پر ہے۔ ان کی امید آپ کے حوصلے ٹوٹنے سے وابستہ ہے، آپ کے اونچے سر۔ آپ کی محکم آوازیں۔ آپ کی جمے قدم ان کے پیروں تلے سے زمیں سرکا رہے ہیں یاد رکھیں آپ وہی قوم ہیں جو ۱۵ اور ۱۸ مارچ کو عمران خان کی ڈھال بنی تھی آپ متحد تھے، فوکسڈ تھے تو قدرت نے بھی آپ کی مدد کی تھی۔ دل نہیں چھوڑنا آپ کے خدا کو آج بھی کوئ شراکت نہیں۔
On this #InternationalWomensDay we pay tribute to our courageous women who have been fighting injustice & oppression unleashed upon this nation over the last two years. You are our real heroes embodying hope and strength in the darkest of times, and your resilience has been the cornerstone of our struggle towards Haqeeqi Azadi!
مجھے ایک بیوروکریٹ نے بتایا کہ تحریک انصاف نے پورے نارتھ پنجاب سے ایک بھی سیٹ نہیں ہاری، سنٹرل پنجاب کی 44 میں سے 40 سیٹیں جیتی، سیالکوٹ سے 4، لاہور سے 12 سیٹیں جیتی۔ کاشف عباسی
السلام علیکم میری ٹویٹر فیملی کے دوستو۔۔۔!
الحمداللہ آپ لوگوں کی سپورٹ اور دعاؤں کی وجہ سے آج ایک عام وکیل ہزاروں لوگوں سے مخاطب ہے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش اپنے کپتان سے مُلاقات تھی الحمداللہ جو کم عمری میں پوری ہوئی بیشک اس سب میں والدین کی دعائیں شامل ہیں ۔میری آج آپ سے ایک درخواست ہے ہمارے ورکرز نے جو قربانیاں ان دس ماہ میں دی ہیں انکو یاد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ہم ماؤں بہنوں اور بزرگوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے آج ہمارے پڑھے لکھے نوجوان جیلوں سے رہا ہو کر بے روزگار ہو چُکے ہیں انکی نوکریاں جا چُکی ہیں اور ان جھوٹے مقدمات میں نامزد ہونے پر اب انکو اچھی jobs ملنا ناممکن ہے ۔آپ سے حلفاً کہتا ہوں یہ لوگ باشعور اور ذہین ہیں یہ اپنی فیملیز کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اگر آپ کے پاس کوئی CV لے کر آئے تو خدارا انکو منع مت کیجے آپکو ان رہائی پانے والے لوگوں کی ہر قسم کی گارنٹی دینے کے لیے میں تیار ہوں ۔آج مجھے دُکھ ہوا کہ ہمارے ایک ورکر کو جو 5 ماہ قید رہا اسے نوکری سے اسوجہ نکال دیا گیا کہ لاہور میں اسکی شخصی ضمانت دینے کے لیے کسی نے حامی نہ بھری ۔وہ آج مایوس ہو کر واپس اپنے علاقے جا رہا تھا اور فون پر کہنے لگا جب کپتان کو ہماری ضرورت پڑے گی ہم دوبارہ قربانی دیں گے۔الحمداللہ میری درخواست پر ایک صاحب نے انکو بطور ڈرائیور اپنے ساتھ رکھ لیا ہے آپ بھی ایسے لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں۔ اللہ کریم ہم سب کے حال پر رحم فرمائے آمین