G bilkul DNA hona chayae, Qasim aour Salman kay charay apnay walad sab (Imran khan) say kafi had tak mitay hain, aour sath hum bhe nangi league ko bhe challenge kartay hain ka maryam nangi sharif ki bayti aour qatri prince ka bhe dna 🧬 hona chayae maryam nangi sharif ki bayti aour qatri prince kay charay apas ma kafi had tak miltay hain, aour shadi kay 3 mahenay ma bachay payday karnay ka bhe test hona chyae
عمران خان بہت کم کہنے کے بعد اڈیالہ جیل میں ہیں مولانا بہت کچھ کہنے کے بعد مزید کہنے کا عزم کر رہے ہیں تو یہ کیا ہے؟
مولانا آج اگر کھل کر 'آسمان" کیخلاف محاذ کھول رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک وجہ کہ طاقت کا استعمال ہی جوابی طاقت کو جنم دیتا ہے، اس اصولی وجہ کے علاوہ کیا مولانا کے پیش نظر کچھ دیگر بھی ہے، مولانا قصور کی تقریر کے بعد خاموش ہوجاتے تو اسے کسی سیاسی تبدیلی سے جوڑے بغیر شائز قرار دیا جا سکتا تھا، اب اس تقریر کے بعد معمول کے سب ہی لوگ ان سے معافی کا مطالبہ کرنے لگے، یہ سب ہی وہی تھے جن کی وجہ شہرت کی 'آسمان' کی مہربانی ہے، ان لوگوں میں درجن ایسے ہیں ان کا درجہ ہی نہیں کہ مولانا ان کو جواب دیں، مگر ہوا یہ ہے کہ مولانا کیخلاف مہم چلی تو ایک وکلاء کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، اس سے پہلے مولانا نے جمیعت کے وکلاء سے کبھی خطاب نہیں فرمایا، اس تقریب میں فوجی شہداء سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت دی اور کارگل کے شہداء کی داستان بھی سنا دی، سیاستدانوں کی ناسمجھی پر تھوڑی بات کی مگر 'آسمان کے آگے دل کھول کر رکھ دیا، جو کچھ مولانا نے فرمایا کوئی اور کہہ دے تو کفر اور غداری کے فتوے دے دیئے جاتے ، تحریک انصاف میں اگر کسی نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس پر پہاڑ ڈھا دیئے جاتے، عمران خان نے اس سے تھوڑا کم کہا تھا تو ان کی مصیبت کم ہونے کو نہیں آرہی، قصور والی تقریر کے بعد مولانا نے یہ بھی کہا کہ اب بات ہوتی رہے گی،حبیب اکرم
بخدمت خدمت جناب کنٹرول روم وا کینٹ
گزارش ہے کہ میں ایک معذور ہوں اور وہاں جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی کرتا ہوں اور روز میرا بستی شریف ہسپتال والا بیریل سے گزرنا ہوتا ہے مجھ کو ایک اوارہ لڑکا دو تین دن سے تنگ کر رہا ہے جو میری معذوری کا مذاق اڑاتا ہے اور مجھے تنگ بھی کرتا ہے اج میری شور ڈالنے پر اس نے مجھے روک کے تھپڑ بھی مارا بالکل بستی بیریل کے پاس شریف ہسپتال والا جو ایچ بی ایل بینک کی طرف ہے ۔ میں نے اج چوکی نمبر تین میں درخواست دی ہے پولیس والے کہتے ہیں اس نامعلوم لڑکے کی سی سی کیمرہ نکال کے لے کے اؤ تاکہ ہم اس لڑکے کو تلاش کر کے اس کے خلاف ایکشن لے سکیں برائے مہربانی اپ سے گزارش ہے تشریف اسپتال ایچ بی ایل بینک کی طرف جو بستی والا بریل ہے اس کی سی سی ٹی وی کیمرہ نکال کے دیا جائے ٹائم اور وقت 18 جولائی 2026 ٹائم صبح کے اٹھ بج کے پانچ سے لے کر 12 منٹ کے کے درمیان ہے شکریہ اپ کی عین نوازش ہوگی
@Rporwp@OfficialDPRPP
پاکستان کی ایجنسیز سمجھتی ہیں کہ نواز شریف کو غیر ملکی ایجنسیز آپریٹ کرتی ہیں یا انکے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں!
نواز شریف نے اوسلو ناروے کا ایک غیر ملکی دورہ بنایا، جس دن جانا تھا اس دن پشاور میں دھمکا ہو گیا اور سو کے قریب بندے جاں بحق ہو گئے، ان سے کہا گیا وہ اس غیر ملکی دورے کو ملتوی کر دیں،ل۔ لیکن نواز شریف نے اپنا وہ دورہ ملتوی نہیں کیا، نواز شریف نے بڑی بے رحمی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا کہ سو بندہ مر گیا ہے اور وہ اپنے غیر ضروری دورے پر چلے گئے، ریڈیسن ہوٹل میں قیام کی دوران انھوں نے اپنے اسٹاف سے کہا جاؤ تم لوگ اسلو دیکھو میں آرام کرنا چاہتا ہوں جب سارا اسٹاف باہر چلا گیا اب یہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیزز کی رپورٹ ہے کہ اس دن نواز شریف سے ہوٹل میں جو شخص تنہائی میں ملا اسکا نام تھا سجن جندال۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ یہ دورہ کیوں نہیں مس کرنا چاہتے تھے،اور سجن جندال صرف بزنس مین نہیں ہے اسکے بارے میں پاکستانی ایجنسیز کو یقین ہے کہ وہ بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ را کا آپریٹر بھی ہے!
لیکن نورین خان کی ایک معمولی سی بات کا تماشہ بنانے والوں نے ملک کے غداروں کو اس ملک پہ مسلط کیا ہوا ہے جو خود را کے ایجنٹوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے آج یہ محب وطن اور باقی سب دشمن ہو گئے ؟!
واہ! یہ تو واقعی چلتا پھرتا تندور ہے، ڈور ٹو ڈور سروس بھی۔ محنت کرکے حلال رزق کمانے والے لوگ قابلِ تعریف ہوتے ہیں۔ اگر انسان میں محنت کا جذبہ ہو تو وہ روزی کمانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیتا ہے۔ ایسے محنتی لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مریم نواز صاحبہ نے آج سکول میں بچوں سے کہا کہ آپ کو سیاست میں دلچسپی لینی چاہیے جبکہ دو ہزار بائیس میں عمران خان کا جی سی یونیورسٹی میں جانا اس پر مریم۔صاحبہ نے کہا تھا کہ وی سی کو فارغ کرنا چاہیے ۔۔۔تو آج کیا تھا پھر؟
جب میں پیدا ہوئی تو میرے والد بہت خوش ہوئے تھے، انہوں نے دادی سے کہا
ہمارے گھر میں رحمت کی دولت آئی ہے اسکا نام دولت رکھیں۔۔۔ آج وہی دولت لاہور کے ایک اولڈ ہوم میں پڑی خیرات اور صدقے کے وسائل سے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اس بھولی بھالی خاتون کا کہنا ہے کہ میں تو کسی کو تنگ بھی نہیں کرتی تھی، والدہ بھائی کے پاس سعودی عرب چلی گئیں، بہن شادی شدہ ہے، میری کسی نے شادی نہیں کی اگر کر دیتے تو میں بھی اپنے گھر والی ہوتی، میرے بھانجے م بھی اچھے تھے مگر انکی بیویاں گھر میں اکیلے رہنا چاہتی تھیں انہیں میرا وجود برداشت نہ ہوا اور میرے بھانجے مجھے یہاں چھوڑ گئے، میری اتنی عمر نہیں ہے اگر میرے بھانجے مجھے یہاں سے نکال کر گھر لے جائیں تو مجھے گھر میں نہ رکھیں میری شادی کر دیں، آگے میرا نصیب، میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گی، دکھوں نے بوڑھا کردیا ہے ورنہ میری اتنی عمر نہیں ہے۔۔۔ لاہور کے ایک اولڈ ہوم میں موجود ایک خاتون کی افسوسناک کہانی۔۔۔
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺