پاکستان سے عدالتوں سے انصاف کی کوئی امید نہیں لہٰذا عمران خان کیلئے انصاف کے حصول کیلئے مقدمہ کائنات کی سب سے بڑی عدالت حرم پاک میں پیش کردیا گیا:سنئے انکو
“میرےخطاب کےبعد ایک گھنٹہ پرویز الٰہی میرے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔گھر جاکر پرویز الٰہی کو یاد آیا کہ میں نے باجوہ کے خلاف بات کی۔ پرویز الٰہی نے اپنی سیاست بچانی ہے تو ہمارے ساتھ رہنا ہوگا، باجوہ نے چوروں کو ملک پر مسلط کیا”۔ عمران خان کی صحافیوں سےگفتگو
of a cabal of crooks. All they are interested in is their NRO2 & its preservation. Therefore, despite economy tanking they are petrified of holding elections which is the only way to stabilise economy through political stabilisation.
security forces of a 'friendly' Afghan govt. While our soldiers, police & local ppl are giving daily sacrifices wirh their lives, the worst part is that this increasing terrorist threat & attacks from across our Western border are finding no space in the discourse of this govt
Apart from running our economy to the ground, this Imported govt has failed to deal with the 50% increase in terrorism in Pak with incidents from Chaman to Swat to Lakki Marwat to Bannu; They have also failed to deal with attacks from the international Pak-Afghan border by
My team of lawyers led by Fasih U Din filed demand notice to Geo and Mir Shakeel in USA. Disinformation and Fake News culture of GEO and it’s handlers will be dealt with in courts.
اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں بذریعہ خط صدرِمملکت کو آگاہ کرنے کےباوجود ارشد شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا اسکےبعد میری چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ اسکا نوٹس لیں قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے۔
میری چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا ہے کہ اس خط کے متن و مندرجات کا نوٹس لیں۔ بدقسمتی سے ہماری معزز عدلیہ کی عدم مداخلت کے باعث پہلے ہی سینیٹر اعظم سواتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے جن مقدمات کو ختم کرکے اعظم سواتی کو رہا کیا انہی مقدمات میں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا۔ صوبے ختم ہو جائیں تو اس شخص پر دوسرے ملکوں میں مقدمات کروا دیجیئے گا۔ انصاف دیجیئے جج صاحب ورنہ ناانصافی کی یہ آگ ہر دہلیز تک پہنچے گی
#AlQadir میں،جسکا ویژن اسلامی اصولوں+مضامینِ جدید سے مُزیّن اعلیٰ تعلیم کا مرکز بنناہے۔تعمیرِ ملّت میں اپنا حصّہ ڈالنےکیلئےڈاکٹریٹ کےحامل ہمارےمعروف اساتذہ دور دراز سےآنےوالےمستحق طلبہ و طالبات، جو بصورتِ دیگرمعیاری اعلیٰ تعلیم سےمحروم ہیں،کو زیورِتعلیم سے آراستہ کرتےہیں