آج میں لکپاس میں بلوچ کارکنان کی گرفتاری کے خلاف جاری 20 دن طویل دھرنے کا اختتام کر رہا ہوں۔ آج سے ہماری جدوجہد عوامی رابطہ مہم کی صورت میں جاری رہے گی۔
یہ فیصلہ صرف بلوچستان کے عوام کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کیونکہ سڑکوں کی بندش نے انہیں شدید متا��ر کیا۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمارا احتجاج ختم ہو جائے گا، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ جب تک مہرنگ اور دیگر تمام افراد رہا نہیں ہو جاتے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
ہم ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے آئے ہیں اور جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اسی راستے پر چلتے رہیں گے۔
بلوچ عوام کے لیے ایک پیغام
بلوچ راج
جب دشمن تمہاری آواز سے خوفزدہ ہو کر تمہیں تشدد کا نشانہ بنائے، تو سمجھ لو تمہاری آواز میں طاقت ہے۔
آج ریاست کی ب��کھلاہٹ، اس کا جبر، اس کے جھوٹ اور اس کے حربے ہمیں ایک بڑی سچائی بتا رہے ہیں کہ بلوچ قوم کی یکجہتی، اس کی جدوجہد اور اس کا سچ دشمن کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکا ہے۔ یہ ریاست بات کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے۔ یہ دلیل سے بھاگ کر بندوق کا سہارا لے رہی ہے، یہ مکالمے سے بھاگ کر قید و بند کی صعوبتوں کو بھر رہی ہے۔ یہ بلوچ کے شعور سے اس حد تک خوفزدہ ہے کہ پُرامن اجتماع کو تشدد سے کچلنے پر مجبور ہے۔ یہ ہمارے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے اور ہمیں جواب دینے کے بجائے ہمارے رہنماؤں کو گرفتار کر رہی ہے۔ ہمارے والدین، بھائی، بیٹے اور بہنیں لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ ہماری ماؤں کی گودیں اجاڑی ��ا رہی ہیں۔ اور اب دشمن اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ ہمارے اپنوں کو اغوا کر کے ہمیں بلیک میل کرنا چاہتا ہے کہ ہم ریاستی زبان بولیں، یا ہم چپ رہیں۔
یہ صرف بزدلی نہیں، بلکہ شکست کا اعتراف ہے۔
اگر کوئی ریاست اپنے شہریوں سے اس قدر خوفزدہ ہو کہ وہ ان کی زبان بند کرنے کے لیے ان کے والدین کو اغوا کرے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ ظلم کا نظام شکست کے قریب ہے۔ اس کا بیانیہ مر چکا ہے، اور وہ محض طاقت کے بل پر سانس لے رہی ہے۔
بلوچ قوم
دشمن جانتا ہے کہ بلوچ کے سوا کوئی بھی اس سرزمین پر اپنا بیانیہ مسلط نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اب وہ جعلی شناخت کے سائے میں بلوچ زمین پر مسلط ہو رہا ہے۔ جعلی حکومت سے لے کر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے، بلوچ نام کا سہارا لے کر اپنا بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج غیر جمہوری طریقے سے آئی ہوئی حکومت کہتی ہے کہ بلوچستان کے مسائل حقیقی نہی��۔ وہ کہتے ہیں کہ بلوچ کے رہنما کون ہیں؟ وہ بلوچ قوم پر ریاستی بیانیے کو آزمانے کے لیے بلوچ شناخت کا سہارا لے رہے ہیں اور کہیں نہ کہیں سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ بلوچ ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بھیڑیا، بھیڑ کی کھال پہن کر ریوڑ میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے ہی یہ دشمن بھی بلوچ کا نام لے کر بلوچوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔
مگر ہم جانتے ہیں:
بلوچ ہونا فقط زبان یا نسل کا دعویٰ نہیں — یہ ایک شعور، ایک اخلاق، ایک مؤقف ہے۔
جو بلوچ اپنی اخلاقی اقدار سے ہٹ جائے، وہ دشمن کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ وہ صرف نام کا بلوچ رہ جاتا ہے، اور نام کسی کو بلوچ نہیں بناتا۔
ہمارا دشمن اس نام کے بلوچ سے توقع رکھتا ہے کہ وہ بلوچستان میں اس کا قبضہ برقرار رکھنے میں اس کا معاون ہوگا یا اس کے گھناؤنے عزائم کو تکمیل تک پہنچا سکے گا۔ آج بھی ریاستی ادارے اپنے سیکیورٹی کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے ایسے ہی بلوچوں پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر وہ ناکام ہیں، کیونکہ وہ اس حقیقت سے نابلد ہیں کہ اپنے اقدار سے غافل شخص اب بس نام کا بلوچ رہ چکا ہے۔ و�� بلوچ قوم سے کٹ چکا ہے، اور وہ بھی ظالم کی طرح ناکامی و شکست کے سوا کچھ نہیں پا سکتا۔
باشعور عوام
آج دشمن کے لیے سب سے بڑا “گناہگار” وہ شخص ہے جو اس کے جبر کے خلاف بولتا ہے۔ آج دشمن ہر اُس بلوچ سے خوفزدہ ہے جو سچ بولتا ہے، سوال کرتا ہے، احتجاج کرتا ہے اور ہونا بھی چاہیے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ یہ لوگ خاموش نہیں بیٹھتے۔
بلوچ قوم کے وارثوں
ہمیں آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنی جدوجہد کو تنظیمی بنیادوں پر استوار کریں۔ بی وائی سی اس جدوجہد کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے اگر ہم اسے منظم، متحرک اور فعال بنائیں۔
اپنی آواز کو مزید طاقتور بنانے کے لیے ہمیں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنا ہوگا۔
اپنی صلاحیت، ہنر، تعلیم، تجربہ سمیت ہر چیز کو اس تحریک کے لیے وقف کریں۔
اگر آپ لکھ سکتے ہیں، تو تحریر کے ذریعے مزاحمت کریں۔
اگر آپ بول سکتے ہیں، تو تقاریر کے ذریعے شعور پیدا کریں۔
اگر آپ سکھا سکتے ہیں، تو قوم کو سکھائیں۔
اپنے اردگرد ہونے والے ظلم کو بےنقاب کریں۔ ہر جبری گمشدگی، ہر تشدد، ہر زیادتی کو خبر بنائیں۔
ہم جتنا بولیں گے، دنیا اتنا سننے پر مجبور ہوگی۔
خاموشی اختیار کرنا دشمن کی خدمت ہے۔
اپنی قوم کے ان لوگوں کو سہارا دیں اور ان کی مدد کریں جو ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ ان کے کیسز رجسٹر کریں، انہیں اکیلا نہ چھوڑیں۔
بلوچ نوجوانوں
آج یہ جدوجہد آپ سے تقاضا کرتی ہے کہ آپ تعلیم اور ہنر کی جانب بڑھیں۔
تعلیم صرف ڈگری لینے کا نام نہیں، یہ شعور، خود اعتمادی اور اپنے حق کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔
ہنر سیکھیں اور اسے قوم کے لیے کارآمد بنائیں۔
اپنی صلاحیتوں سے اس تحریک کو طاقتور بنائیں۔
1/2
🚨KPK Cabinet approves new mines & minerals law—to be tabled in assembly. Controversially, it lets federal government (via SIFC: Military's pet project) define 'strategic minerals,' undermining provincial authority. Critics call it unconstitutional.
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی ساتھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ایک اور متحرک رکن گلُ زادی بلوچ کو بھی سیکیورٹی فورسز نے اغواء کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
#Balochistan
Deeply disturbed to hear that Gulzadi Baloch has been abducted from Quetta. This is a grave violation of human rights and a blatant act of injustice. One has to wonder what message the authorities are trying to send by targeting voices instead of addressing legitimate concerns. Actions like these only deepen mistrust and instability. Things are out of control and this will only make matters worse.
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن گل زادی بلوچ گرفتار، نامعلوم مقام منتقل کردیا گیا ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے انکی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے کارکن گلزادی بلوچ کو کوئٹہ سے پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکار زبردستی گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔ اس کا ٹھکانہ ابھی تک نامعلوم ہے۔
@MeerLangau اسطرح کے اولاد اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب خاندانی منصوبہ بندی کے لئے محلے میں کنڈوم تقسیم کیا جائے اور بچے کنڈوم کو غبارہ سمجھ کر اور ہوا بھر کر کھیلنا شروع کریں۔
In Wadh, Balochistan, the military is firing directly at peaceful protesters, resulting in multiple injuries due to this brutality.
#StopBalochGenocide