پاکستانی میڈیا کمال چالاکی سے عمران خان کی جیتی نشستوں کو
Independent
independent (PTI Backed )
MWM
تین حصوں میں تقسیم کر کے پارٹی پوزیشن دکھا رہا ہے
وہی اسکرپٹ ہے 8 فروری 2024 والا
خدا کے لئیے یہ کام بند کر دیں! وقتی احتجاج اور خراب حالات کو لسانی اور سیاسی منافرت کی دلیلوں سے پھیلانے کے لئیے استعمال نہ کریں، انشا اللہ یہ حالات ٹھیک ہو جائینگے مگر پھر ایسی دلیلوں کی نفرت مٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
🚨جس وقت بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار بند کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھے ہیں عین اسی وقت گلگت بلتستان کی عوام عمران خان کی فتح کا جشن منا رہی ہے
" خان تیرے چاہنے والے GB والے GB والے " پرسوز مناظر
رزلٹس کا رک جانا ہی اس بات کا اعتراف ہے کہ پی ٹی آئی جیت گئی ہے۔ ورنہ حکومتی پارٹیاں جیت رہی ہوتیں تو نتائج کیوں روکے جاتے؟ حکومتی اکاؤنٹ خاموش نہ پڑے ہوتے ۔! جیت کا جشن مناتے نظر آتے۔