محمد یوسف کی محنت رنگ لے آئی ♥️
جب سے محمد یوسف نے جب سے اسلام قبول کیا تو انکی پھوپھی ان سے ناراض تھیں
محمد یوسف دو سال قبل بالآخر انہیں منانے میں کامیاب ہو گئے اور پھوپھی کے گھر آنا جانا شروع ہوا۔۔
محمد یوسف نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ترجمہ والا قرآن پاک پڑھنے اور دیا
محمد یوسف کی پھوپھی قرآن پاک کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تینوں بیٹوں کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا ♥️
حضرت موسیٰ علیہ السلام
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا:
" اے پروردگار !
تیرا چہرا کدھر ہے؟
شمال یا جنوب کی جانب؟
تاکہ میں اس کی طرف منہ کر کے تیری عبادت کر سکوں۔"
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی:
"اے موسیٰ!
آپ آ گ جلائیں، پھر اس کے اردگرد چکر لگا کر دیکھیں کہ آگ کا رخ کس جانب ہے۔؟"
موسیٰ علیہ السلام نے آ گ روشن کی اور اس کے اردگرد چکر لگایا دیکھا تو آ گ کی روشنی ہر چار طرف یکساں ہے۔
چنانچہ دربارِ الٰہی میں عرض کیا:
"پروردگا !
میں نے آگ کا رخ ہر جانب یکساں ہی دیکھا۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اے موسیٰ میری مثال بھی ویسی ہی ہے۔"
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا:
"اے پرودگار! تو سوتا ہے یا نہیں؟"
اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی:
" اے موسیٰ!
پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ لو:
پھر میرے سامنے کھڑے رہو اور نیند کی آغوش میں مت جاؤ۔"
موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔
پھر اللہ تعالٰی نے ان پر ہلکی سی اونگھ ڈالی پیالہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا اور پانی بہہ گیا۔
موسیٰ علیہ السلام کی چیخ نکل گئی اور وہ گھبرا گئے...
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
" اے موسی !
میں آنکھ کی ایک جھپک بھی سو جاؤں تو یہ آسمان زمین پر دھڑام سے گر پڑے گا:
جیسے تیرا پیالہ زمین پر گر پڑا۔"
اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اِشارہ ہے۔۔
۔"یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانون اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائے تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا:
وہ حلیم و غفور ہے۔
(فاطر۔41)۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا:
اے میرے پروردگار !
تو نے مخلوق کی تخلیق کیوں کی جبکہ ان سے تجھے کوئی ضرورت نہیں پڑتی؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"میں نے ان کی تخلیق اس لیے فرمائی ہے تاکہ یہ مجھے پہچانیں مجھ سے اپنی مرادیں مانگیں اور میں ان کی مرادیں پوری کروں اور میری نافرمانی کے بعد مغفرت وبخشش کی درخواست لے کر میری خدمت میں حاضر ہوں اور میں ان کے لیے مغفرت و بخشش کا پروانہ جاری کروں۔"
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا !
میرے رب !
کیا تو نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے جو تیری ہی جستجو میں رہتی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"ہاں مومن بندے کا دل جو میرے لیے خالص ہے۔"
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا:
یہ کیسے اے پروردگار؟
اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا:
"جب مومن بندہ مجھے نہیں بھولتا تو اس کا دل میری یاد سےلبریز رہتا ہے اور میری عظمت اس پر محیط ہوتی ہے اور مجھے جو یاد کرتا ہے میں اس کا ساتھی بن جاتا ہوں ۔"
سبحان اللہ
اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت ہم تمام مسلمانان عالم کو صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے ...
آمین ثم آمین یارب العالمین
روایت میں آتا ہے کہ رکانہ کا بیٹا یزید بن رکانہ ایک بہت طاقتور پہلوان تھا۔ ایک دن وہ تقریباً تین سو بکریاں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کشتی لڑنے کا چیلنج دیا حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اگر میں تمہیں پچھاڑ دوں تو تم مجھے👇
1/9
*
مفہومِ حدیث*
امّاں عائشہ رضى اللّٰه عنها نے ایک دن اللّٰہ کے حبیب ﷺ سے دریافت کیا کہ "اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! آپ کی زندگی کا سخت ترین دن کون سا ہے؟ فرمایا: *"عائشہ! میری زندگی کا سخت ترین دن وہ تھا، جب میری قوم نے مجھے ٹھکرایا، تو میں طائف گیا، توطائف والوں نے بھی مجھے ٹھکرایا"*
👇
مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:-
" میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ
آدھے عرب کے آپ نبی
آدھے عرب کا میں نبی" - - - معاذاللہ
اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :-
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-
قبل وفاة الرسول ﷺ بـثلاثة أيام بدأ الوجع يشتد عليه💔
وكان في بيت السيدة ميمونة
فقال "أجمعوا زوجاتي"
فجمعت الزوجات
فقال النبي "أتأذنون لي أن أمرض في بيت عائشة ؟"
فقلن "نأذن لك يا رسول الله"
فأراد أن يقوم فما استطاع فجاء علي بن أبي طالب والفضل بن العباس فحملا النبي
وخرجوا به من حجرة السيدة ميمونة إلى حجرة السيدة عائشة فرآه الصحابة على هذا الحال لأول مرة
فبدأ الصحابة في السؤال بهلع:
"ماذا أحل برسول الله ماذا أحل برسول الله؟"
فتجمع الناس في المسجد وامتلأ وتزاحم الناس عليه
فبدأ العرق يتصبب من النبي بغزارة
فقالت السيدة عائشة "لم أر في حياتي أحداً يتصبب عرقاً بهذا الشكل ،
كنت آخذ بيد النبي وأمسح بها وجهه، لأن يد النبي أكرم وأطيب من يدي
فأسمعه يقول "لا اله إلا الله، إن للموت لسكرات"
فكثر اللغط في المسجد إشفاقاً على الرسول
فقال النبي "ماهذا ؟"
فقالوا: يا رسول الله ، يخافون عليك
فقال "إحملوني إليهم"
فأراد أن يقوم فما إستطاع
فصبوا عليه سبع قرب من الماء حتي يفيق
فحمل النبي وصعد إلى المنبر
فكانت آخر خطبة لرسول الله وآخر كلمات له
فقال النبي "أيها الناس، كأنكم تخافون علي"
فقالوا: نعم يا رسول الله
فقال "أيها الناس، موعدكم معي ليس الدنيا، موعدكم معي عند الحوض و والله لكأني أنظر اليه من مقامي هذا،
أيها الناس، والله ما الفقر أخشى عليكم، ولكني أخشى عليكم الدنيا أن تنافسوها كما تنافسها الذين من قبلكم، فتهلككم كما أهلكتهم،
أيها الناس ، الله الله في الصلاة ، الله الله في الصلاة
أيها الناس، اتقوا الله في النساء، اتقوا الله في النساء، اوصيكم بالنساء خيرا
أيها الناس، إن عبداً خيره الله ما بين الدنيا و ما عند الله، فاختار ما عند الله
''فانفجر أبو بكر بالبكاء وعلا نحيبه، و وقف وقاطع النبي : فديناك بآبائنا، فديناك بأمهاتنا، فديناك بأولادنا، و بأزواجنا، فديناك بأموالنا..!!!
وظل يرددها فنظر الناس إلى أبي بكر كيف يقاطع النبي
فأخذ النبي يدافع عن أبي بكر قائلاً "أيها الناس، دعوا أبا بكر، فما منكم من أحد كان له عندنا من فضل إلا كافأناه به، إلا أبا بكر ! لم أستطع مكافأته، فتركت مكافأته إلى الله عز وجل، كل الأبواب إلى المسجد تسد إلا باب أبي بكر لا يسد أبداً،
أواكم الله، حفظكم الله، نصركم الله، ثبتكم الله، أيدكم الله
أيها الناس، أقرأوا مني السلام و كل من تبعني من أمتي إلى يوم القيامة""...
وحمل مرة أخرى إلى بيته
وبينما هو هناك دخل عليه عبد الرحمن بن أبي بكر وفي يده سواك، فظل النبي ينظر إلى السواك ولكنه لم يستطع أن يطلبه من شدة مرضه،
ففهمت السيدة عائشة من نظرة النبي،
فأخذت السواك من عبد الرحمن ووضعته في فم النبي،
فلم يستطع أن يستاك به،
فأخذته من النبي وجعلت تلينه بفمها و ردته للنبي مرة أخرى حتى يكون طرياً عليه
فقالت "كان آخر شيء دخل جوف النبي هو ريقي، فكان من فضل الله علي أن جمع بين ريقي و ريق النبي قبل أن يموت،
ثم دخلت فاطمة بنت النبي، فلما دخلت بكت، لأن النبي لم يستطع القيام، لأنه كان يقبلها بين عينيها كلما جاءت إليه
فقال النبي "أدنو مني يا فاطمة"
فحدثها النبي في أذنها، فبكت أكثر !
فلما بكت قال لها النبي "أدنو مني يا فاطمة"
فحدثها مرة أخر في اذنها، فضحكت !
بعد وفاته سئلت ماذا قال لك النبي؟
فقالت: قال لي في المرة الأولى "يا فاطمة، إني ميت الليلة" فبكيت
فلما وجدني أبكي قال "يا فاطمة، أنتي أول أهلي لحاقاً بي" فضحكت
تقول السيدة عائشة: ثم قال النبي : "أخرجوا من عندي في البيت" وقال "أدنو مني يا عائشة"
فنام النبي على صدر زوجته، ويرفع يده للسماء
ويقول "بل الرفيق الأعلى، بل الرفيق الأعلى"
تقول السيدة عائشه: فعرفت أنه بخير !
ودخل سيدنا جبريل على النبي
وقال : يارسول الله، ملك الموت بالباب، يستأذن أن يدخل عليك، وما استأذن على أحد من قبلك
فقال النبي "ائذن له يا جبريل"
فدخل ملك الموت على النبي
وقال: السلام عليك يا رسول الله، أرسلني الله أخيرك، بين البقاء في الدنيا وبين أن تلحق بالله
فقال النبي "بل الرفيق الأعلى، بل الرفيق الأعلى"
و وقف ملك الموت عند رأس النبي
وقال "أيتها الروح الطيبة
روح محمد بن عبد الله
أخرجي إلى رضا من الله و رضوان و رب راض غير غضبان"
تقول السيدة عائشه: فسقطت يد النبي وثقلت رأسه على صدري
فعرفت أنه قد مات !
فلم أدر ما أفعل !
فما كان مني غير أن خرجت من حجرتي،
وفتحت بابي الذي يطل على الرجال في المسجد وأقول:
مات رسول الله، مات رسول الله
تقول: فانفجر المسجد بالبكاء
فهذا علي بن أبي طالب أقعد فلم يقدر ان يتحرك !
وهذا عثمان بن عفان كالصبي يؤخذ بيده يمنة ويسرى !
وهذا عمر بن الخطاب يرفع سيفه ويقول من قال أنه قد مات قطعت رأسه
فضلها وتابع التكمله أسفل التغريدة 👇🏻
فلسطینی کہہ رہے ہیں
''کوئی اس [یہودی عورت] کو نقصان نہ پہنچائے! اس کی حفاظت کرو۔ اس کے بچے ہیں۔ ہم انسانیت کے لوگ ہیں؛ [اسرائیل کی نسل پرست حکومت] کی طرح نہیں"
#طوفان_الأقصى#طوفان_القدس#فلسطين#حماس#غزہ#Gaza#Hamas