@RShahzaddk Tum ek paghal shakhas ho raja shehzad bila waja ki fazul pakh pakh karty ho koi productive criticism kiya karo ta k mulk o qoum ka faida ho
@Momin_Speaks Bilkul thek keh rahy ho app baqi kisi government py nhi bolta sirf aur sirf punjab aur pmln py tanqeed karta hai aur ziyada tar bila waja tanqeed
ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت یہ سکیم تاجر اور دکاندار تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر لائی ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فروخت والے دکاندار اس سکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے تحت دکاندار اپنی آمدن پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔ دکاندار ودہولڈنگ ٹیکس بھی ایڈجسٹ کر اسکیں گے البتہ یہ شرط لاگو ہوگی کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔ اُردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا فارم بنایا گیا ہے جو سادہ موبائل ایپ کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔ سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو ایف بی آر کی طرف سے رجسٹریشن پلیٹ ملے گی جو ��ہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کوئی ٹیکس اہلکار جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔
(بلال اظہر کیانی)
@Asadrchaudhry@INSTANewsTv7@RashidNasrulah اسد بھائی آپ نے مزمل سہروردی صاحب کے وی لاگ میں نون کے لیے آٹھ سیٹوں کی پیشن گوئی کی تھی میاں صاحب کے دورے کے بعد جو جوش خروش آیا اس الیکشن میں اب کیا کہتے ہیں آپ کتنی سیٹیں تقریبا نون نکالنے میں کامیاب ہو جائے گی
@RShahzaddk@khan_g786 بھائی 2017 کے بعد جتنا ملک پیچھے گیا ہے اسے چار سال کیا دس پندرہ سال تک بھی اسی جگہ پر واپس نہیں لایا جا سکتا اور میاں صاحب اسی لیے بار بار یہی سوال کرتے ہیں ورنہ اپنی ذات کی حد تک وہ سب بھلا چکے ہیں ان کا اصل دکھ یہی ہے کہ اچھے بھلے چلتے ملک کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا تھا
پنجاب میں سڑکوں، تجاوزات کے خاتمے، صفائی، پبلک ٹرانسپورٹ، ہسپتال مفت ادویات اور اسکولوں میں قابل ستائش کام ہوا ہے۔ رات کے وقت دکانیں جلد بند کروانا بھی اچھے اقدامات ہیں۔
لیکن چند شعبوں پر فوری توجہ کی ضرورت ہے جن میں پولیس سر فہرست ہے۔ تھانہ کلچر میں ریفارم کی گنجائش ہی موجود نہیں یہ مکمل طور پر نئے ادارے کا متقاضی ہے۔
عدالتی نظام بے انتہا بوسیدہ ہے اس کو بھی فوری نئے نظام سے بدلنے کی ضرورت ہے۔
پیرا فورس عجلت میں بنائی گئی ہے اس کی کارکردگی پر گاہے بگاہے آنے والی وڈیوز سوالیہ نشان لگ��تی ہیں۔
زراعت کی ماڈرنائشین بہت ضروری ہے کسان جتنی آمدن دس ایکڑ سے حاصل کرتا ہے دنیا اتنی آمدن ایک ایکڑ سے لے رہی ہے۔ ہمارا کسان بدلنے کو بھی تیار نہیں اور وسائل کی کمی الگ پنجاب پوری دنیا کی فوڈ باسکٹ بن سکتا ہے لیکن یہ کاسمیٹک اقدامات نہیں جامع اور غیر مقبول فیصلوں سے ہو گا۔
نتھیا گلی میں موجود ایک ھوٹل اینڈ ریسٹورانٹ آفاق کے نام سے ھے،یہ لوگ روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار کرتے ھیں،نا یہ ٹیکس دیتے ھیں نا یہ آنلائن پیسے لیتے ھیں نا یہ کارڈ لیتے ھیں،صرف کیش اور کیش پر بھی جو رسید دیتے ھیں اس میں ھم سے تو ٹیکس لیا جاتا ھے لیکن یہ لوگ ٹیکس حکومت کو ادا نہیں کرتے۔ایسی جگہوں کی نشاندھی کیا کیجئے جو کروڑوں روپے کمانے کے باوجود حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے
@KhSaad_Rafique@AsadAToor خواجہ صاحب رہن دیو تواڈی مہربانی
عمران خان وہ بچھو ہے جس کی ڈنک مارنے کی عادت کبھی نہیں جا سکتی اوہنے فیر باہر آ کہ سب توں پہلے توانوں ای اندر کرنا اے
المیہ پنجاب
بیسویں صدی کے اوائل تک اہل پنجاب کی خوش قسمتی تھی. کہ انہیں سر فضل حسین, ڈاکڑ سیف الدین کچلو, سردار سکندر حیات خان, سردار خضر حیات خان, سر چھوٹو رام جیسے لیڈر میسر تھے جو اتحاد و محبت کے داعی اور پنجابیت کے علمبردار تھے.
مگر پھر سر محمد اقبال نے اہل پنجاب کو اپنی مٹی سے محبت کے بجائے غرناطہ و اندلس کے خواب دکھائے. جس سے یہ قوم پنجابی رواداری بھول کر شاہین بن بیٹھی . ایسے شاہین جو اردو بولتے ہوں , پنجابی تہذیب و زبان کی نفی کرتے ہوں. پھر ان شاہینوں نے افغانستان سے کش میر تک اڑان بھری اور جہادی کلچر اپنا کر اپنی تباہی کی بنیاد رکھ دی.
اسی کے زیر اثر پنجابی دانشور بھی اردو و پاکستانیت کا ماما بن بیٹھا اور پنجابی زبان کو سکھوں کی زبان قرار دے دیا اور ہمارے کلچر کو ہندو کا کلچر بتا کر اسی کی نفی کردی.
دانشور چاہے رائیٹ کا ہو یا لیفٹ کا یہ بیماری ہر دو میں سرایت کرچکی ہے. فیض احمد فیض جیسے کمیونسٹ شاعر نے بھی پنجابی سے اپنا دامن بچائے رکھا اور مختار مسعود جیسے دانشور نے بھی ار��و کی معراج پانے کے لئے پنجابی بھلا دی. رہی سہی کسر اشفاق احمد اور قدرت اللہ شہاب جیسے ماڈرن ملنگ بابوں نے پوری کی.
پنجابی علماء بھی اس جرم میں برابر کے شریک رہے اوف کبھی مقامی زبان و ثقا��ت کی بات نہ کی.
دور حاضر میں بھی پنجاب میں رہنے والے جو نام نہاد ایکٹوسٹ ہیں انہیں بلوچ و پشتون قوم پرستی تو خوب بھاتی ہے مگر ان کم ظرفوں کو پنجابی قوم پسندی نظر نہیں آتی. نہ انہوں نے کبھی بلوچستان میں قتل ہونے والے پنجابی مزدوروں کی بات کی ہے.
غرض اہل پنجاب کی بدقسمتی ہے کہ سرخے ہوں یا دائیں بازو کے دونوں پنجاب دشمنی میں اشتراک رکھتے ہیں.
ایسے وقت میں جب پنجاب کی ڈیمو گرافی تبدیل کی جارہی ہے , تقسیم پنجاب کی بات ہورہی ہے, پنجابی زبان کی تحقیر کی جارہی ہے, پنجابی ثقافت دم توڑ رہی ہے. اہل پنجاب کو جاگنا ہوگا.
اگر پشتون مولوی مذہب کا ٹھیکدار ہوتے ہوئے قوم پرست ہوسکتا ہے تو پنجابی مولوی کو کیا موت پڑی ہے؟
اگر بلوچ سرخا, سرخا ہوتے ہوئے قوم پرست ہوسکتا ہے تو پنجابی سرخے کو کیوں موت پڑتی ہے.
اگر کراچی کے جماعتی کراچی کو حق دو مہم چلا سکتے ہیں تو لاہوری جماعتیوں کو کیوں اہل لاہور کا استحصال نظر نہیں آتا.
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام پنجابی جو کہتا ہے کہ قوم شوم کچھ نہیں سب پاکستانی ہیں ان کو چاہیے ایک بار آوران کا چکر لگا آئیں یا پشاور چھوڑیں لاہور کے اوریگا سینٹر میں کاروبار کر کے دکھا دیں.
اہل پنجاب کو جاگنا ہوگا.. یقین جانئیے اپنی قوم اور زبان کی بات کرنے سے ہماری پاکستانیت اور ہمارے مذہب پر حرف نہیں آئے گا.
پنجابی نہ جاگے تو یاد رکھیے گا بڑی تباہی آپ کے دروازے پر کھڑی ہے..
مخدوم عدیل عزیز
پاکستان کے فوج مخالف ٹولے کو باقی پوری دنیا کی فکر ��وتی ہے لیکن ہمارے ہمسائے میں یہ مظالم ہیں اور ان پر پراسرار قسم کی خاموشی ہے!
قابض بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 12 سالہ بچی قرآن پڑھنے جاتی ہے اور اسکے ساتھ درندگی کرکے اسکی زندگی چھین لی جاتی ہے
بھارت کے ظلم پر کیوں نہیں بولتے؟