Late autumn brings fully ripe persimmons, characterized by their bright orange, soft flesh and rich, sweet taste. This unique seasonal fruit captures the essence of autumn sunshine, offering a mellow and satisfying sweetness. Choose growth over your comfort zone.
Empower the weak. Lila approached the altar with trembling hands, realizing she had reached the core of the curse: the box containing the trapped children's souls, which Mr. Harlow had used to seal his deal.
बाहर निकलो—वापस जाकर फ़िलिस्तीनियों को मारोगे।
“तुम फ़िलिस्तीन के लोगों को मारते हो और फिर यहाँ छुट्टियों पर आते हो?” 🇪🇸
एक स्पेनिश रेस्टोरेंट मालिक ने इज़राइलियों के एक ग्रुप ���ो मौके पर ही बाहर निकाल दिया।
#gaza #gazaunderfire #spain 🇪🇸 #muslim #breakingnews
संजौली की मस्जिद की 19वीं सदी की तस्वीर,
वहाँ 100 सालों से मस्जिद है तो हमारी जिम्मेदारी है कि आवाज़ उठाएं।
अगर लिख नहीं सकते तो रीट्वीट करो, कमेंट करो
#SaveSanjauliMasjid 👈
इस शजरे को तहरीर करने में एक महीने से ज़्यादा का वक्त लग गया दिन रात एक करके लगभग बारह पीढ़ियों एक काग़ज़ पर उतार दिया
अगर आपको मेरी मेहनत पसंद आई है तो एक लाइक ज़रूर करें ।
अगर सरकार चाहती है ये मामला थम जाए तो जितने भी FIR हुए है सब वापिस लिए ��ाएं
और साथ ही साथ माफी भी मांगे अपनी गलती पर (जिसने FIR करवाया है)और हमारे सभी मुस्लिम भाई को इज्जत क��� साथ रिहा करे
तभी ये जुलूस रुकेगा वरना कितना भी प्रशासन लगा लें ये रुकने वाला नही है #iLoveMuhammadﷺ
اور اس طرح ہم نے لوگوں پر ان کی خبر ظاہر کردی ؛ تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آ��ے میں کوئی شبہ نہیں ۔ وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب وہ آپس میں ان کے معاملہ میں جھگڑ رہے تھے ، پھر کہنے لگے کہ ان کے ( غار ) کے اوپر ایک عمارت بنادو ، ان کے پروردگار ان کے حال سے خوب واقف ہیں ، پھر جو لوگ ان کے معاملات پر قابو رکھتے تھے ، وہ کہنے لگے : ہم ان کی جگہ پر ضرور ایک مسجد بنادیں گے ۔ ( سورہ کہف / ٢١)
और इस तरह हमने उन लोगों पर उनकी ख़बर जा़हिर कर दी, ताकि वह जान लें कि अल्लाह का वा'दा सच्चा है और क़ियामत के आने में कोई शुबह नहीं, वह वक्त भी क़ाबिल ए जि़क्र है जब वो आपस में उनके मामले में झगड़ रहे थे, कहने लगे कि उनके(ग़ार) के ऊपर एक इमारत बना दो उनके परवरदिगार उनके हाल से खूब वाकि़फ हैं फिर जो लोग उनके मा'मलात पर का़बू रखते थे वह कहने लगे : हम उनकी जगह पर ज़रूर एक मस्जिद बनाएंगे। (सुरः कहफ़ /21)
( وضاحت )
(١) جس زمانہ میں اصحابِ کہف اپنی نیند سے بیدار ہوئے ، اسی زمانہ میں ایک پادری انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے ( بعث بعد الموت ) کا انکار کرنے لگا تھا ، اس پادری کا نام ’ تھیوڈر ‘ ذکرکیا جاتا ہے ، اس وقت وہاں اس موضوع پر لوگوں کے درمیان بحث و مباحثہ کا ایک معرکہ چھڑا ہوا تھا ، اصحابِ کہف کے اس واقعہ کے انکشاف نے گویا اس مسئلہ کا فیصلہ کردیا کہ جب اتنی طویل مدت تک انسان کھائے پئے بغیر سوتے ہوئے زندہ رہ سکتا ہے اور پھر بیدار ہوسکتا ہے تو اسی طرح ایک انسان طویل عرصہ تک موت کی حالت میں رہ کر دوبارہ زندہ کیوں نہیں کیا جاسکتا ؟
(٢) جب لوگوں پر ان کا واقعہ اللہ کی طرف سے ظاہر کردیا گیا تو ظاہر ہے کہ بزرگی کا خوب چرچا ہوا اور لوگوں کے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی، پھر عام مزاج کے مطابق وہاں آمد و رفت شر��ع ہوگئی ؛ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو وفات دے دی ، ایک تو یہ ایک طبعی بات تھی کہ جو پیدا ہوگا ، وہ موت سے دوچار کیا جائے گا ، دوسرے اس بات کا ��ھی اندیشہ تھا کہ کہیں لوگوں کے اندر ان کے بارے میں مبالغہ آمیز خیالات نہ پیدا ہوجائیں ؛ اس لئے مصلحت یہی تھی کہ ان کی وفات ہوجائے اورلوگوں کو اس کی واقفیت بھی ہوجائے ؛ چنانچہ ان کی وفات کے بعد اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا ان کی یادگار کے طورپر کوئی عبادت گاہ بنادی جائے ؟ یہاں " مسجد " سے مسلمانوں کی مسجد مراد نہیں ہے ؛ بلکہ عبادت گاہ مراد ہے ؛ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اس غار کے دہانے پر ابھی بھی عیسائیوں کی ایک خانقاہ موجود ہے ۔ ( تفسیر ماجدی : ۳؍۱۰۸)
(٣) اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل اللہ کی قبر پر مسجد بنائی جاسکتی ہے ، مگر یہ جائز ہونا گزشتہ اُمت کے لئے تھا ، جو باتی�� پہلی اُمتوں میں جائز تھیں اور وہ بتدریج شرک کا باعث بن گئیں ، اس اُمت میں ان کو حرام قرار دے دیا گیا ، جیسے گزشتہ اُمت میں بطور تعظیم و احترام کے سجدہ کرنے کی اجازت تھی ، جیساکہ حضرت یوسف کےواقعہ میں بھائیوں کے ان کو سجدہ کرنے کا ��کرآیا ہے ؛ یا گزشتہ اُمت میں مجسمے بنانے کی اجازت تھی جیساکہ حضرت سلیمان کے واقعہ میں آیا ہے،( سبا : ۱۳) لیکن اس اُمت میں اس کو منع کردیا گیا ؛ کیوں کہ یہ چیز مورتی پوجا کے رواج پانے کا ذریعہ بن رہی تھی ، اسی طرح بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پہلے قبر پر مسجد بنانے کی عادت تھی ؛ لیکن رسول ﷺ نے اس اُمت کے لئے اس کی ممانعت فرمادی ۔ مسجدیں بنانے والوں پر اور قبر پر چراغاں حضرت اُم سلمہؓ اورحضرت اُم حبیبؓ نے حبش میں ایسے چرچ دیکھے تھے ، جن میں مجسمے بنے ہوئے تھے ، انھوں نے حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کے یہاں جب کوئی نیک آدمی گزرجاتا تو لوگ اس کی قبر پر مسجد تعمیر کرتے اور اس کا اسٹیچو بناتے ، قیامت کے دن اللہ کے نزدیک یہ سب سے بدترین لوگ ہوں گے ، ( بخاری : ابواب المساجد ، حدیث نمبر : ۴۱۷) بلکہ جب رسول اللہ ﷺ مرض الوفات میں تھے تو آپ ﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اورفرمایا : یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو ، انھوں نے ��پنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا ، ( بخاری : کتاب المغازی ، حدیث نمبر : ۴۱۷۹ ، مسلم) ---- اس لئے اس اُمت کے لئے قبر پر مسجد کا بنانا یا مسجد کے اندر قبر بنادینا جائز نہیں ؛ بلکہ قبر پر کسی طرح کی عمارت بنانا بھی جائز نہیں اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگر عمارت بنا بھی دی گئی تو اس کو منہدم کردینا چاہئے ۔ ( تفسیر قرطبی : ۱۰؍۳۸۱۵، آسان تفسير )
#Quran #ISLAM #islamicwisdom #BabaSidhiqui
Do you recognize this place? Ibrahim AS built it as the first Masjid, but in the third century, Amr bin Luha placed idols herein. It remained a temple until it was reclaimed by Muslims in 629 AD.
حسبنا الله ونعم الوكيل