ملک بھر قانون و آئین و دینی اقدار کی بالادستی کیلئے جمعیت علمائے اسلام کی صورت میں ایک منظم دینی و سیاسی جماعت کی جدوجہد مولانا کا کارنامہ ہے۔
@MoulanaOfficial#NationVoiceMaulana
مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا دو ٹوک پیغام!
"متنازع بل واپس نہ لیا گیا تو سڑکوں پر آئیں گے!"
اسلامی اقدار پر حملہ کسی صورت قبول نہیں!
#NationVoiceMaulana
پچھلے کئی سالوں سے سردیوں کی شدت جنوری میں بہت بڑھ جاتی ھے، شدید دھند کا عالم ھوتا ھے اور یہ چھٹیاں دسمبر میں کرکے یکم جنوری میں سکول کھول لیتے ھیں اور گرمیوں میں اگست میں شدید گرمی ھوتی ھے جون کی بنسبت،اور یہ جون میں سکول بند کرکے اگست میں کھول لیتے ھیں
ویسے سمجھ سے بالاتر ھے کہ ھماری حکومتیں اتنے جمود کا شکار کیوں ھے نہ انکو کلائمٹ چینج کا کچھ اتہ پتہ ھے نہ انکو سردی سے غرض ھے نہ گرمی سے اور نہ ھی چھوٹی عمر کےسٹوڈنٹس سے،
اسلام آباد:وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد
وزیرداخلہ محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر گفتگو
اسلام آباد:وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد
وزیرداخلہ محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر گفتگو
امریکہ اور مغربی دنیا کا اسلحہ اسرائیل کے مظالم کا حصہ ہے۔ انسانی حقوق کی بات کرنے کا اب انہیں کوئی حق نہیں ہے،کیونکہ ان کے ہاتھوں پر ساٹھ ہزار سے زائد معصوموں کا خون ہے۔ امت مسلمہ کے حکمرانوں کی خاموشی بھی ناقابل برداشت ہے۔
اسلامی دنیا کے نامور شخصیات کو نشانہ بنا کر اسرائیل یہ سمجھ رہا ہے کہ اس سے مسلمان جذبہ ہار جائیں گے، حالانکہ شخصیات تو آنی جانی ہیں، اسلام اور مسلمانوں کا دارومدار عقیدہ توحید پر ہے، جس بنیاد پر اسلامی بقا کے لئے قیامت تک مسلمانوں میں جذبہ زندہ و بیدار رہے گا۔
پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہم تمام سربراہان اور مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت معیشت کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کانفرنس پاکستان کے مستقبل کے لیے بہتر نتائج لا سکتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں سے گزارش ہے کہ اس اہم موقع پر داخلی تنازعات اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈالیں، حکومت کو بھی چاہئے کہ ترامیم کے معاملہ کو بھی فی الحال مؤخر کرے تاکہ ہم دنیا کو یکجہتی اور اتحاد کا پیغام دے سکیں۔
آئینی ترمیم کے معاملے پر جس عجلت سے حکومت کام لے رہی ہے، وہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایسی کوئی ایمرجنسی نظر نہیں آ رہی جس کی بنیاد پر اس ترمیم کو فوری طور پر پاس کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں ماضی میں کہا گیا کہ اگر ترمیم اتوار کو منظور نہ کی گئی تو پیر کو بڑا بحران آئے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ جلد بازی ہمیں کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل میں موجود تفصیلات اور اصولوں پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں، اور ہم کسی بھی قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
حکومت کی ترجیحات حیران کن ہیں۔ 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا مطالبہ موجود ہے، جسے آئین میں سات سال کے اندر مکمل کرنے کا ذکر ہے، لیکن آج 2024 میں ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ تاہم، جب سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو راتوں رات آئینی ترامیم منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے ہم نے نو مہینے لگائے، اور آج ہم سے 24 گھنٹوں میں ایک نئی ترمیم منظور کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔
ملک میں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، موجودہ قوانین اور اختیارات کافی ہیں۔ نئی قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس اور عدلیہ میں اصلاحات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جنہیں ہم مانتے ہیں کہ ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اصلاحات عدالتوں کے فیصلوں میں شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں کسی "سیل پرچیز" کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان فیصلوں کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
دینی مدارس کی رجسٹریشن کو مسلسل روکے رکھنا اور پھر یہ پروپیگنڈا کرنا کہ مدارس بغیر رجسٹریشن کے چل رہے ہیں، ایک غیر منصفانہ رویہ ہے۔ مدارس کے اکاؤنٹس بند کرکے ان کی آمدنی پر سوالات اٹھانا بھی حکومت کی جانب سے پیدا کردہ مشکلات ہیں۔ جب مغرب سے شاباش ملتی ہے تو قانون سازی میں فوراً پیشرفت ہوتی ہے، لیکن مدارس جیسے اہم معاملات میں تاخیر کی جاتی ہے، حالانکہ اتفاق رائے موجود ہے۔
یہ سوالات اہم ہیں: مدارس کے مسائل حل کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ جب ہم حکومت کے لیے اتنے اہم ہیں اور ہمارا ووٹ ضروری ہے تو پھر ہماری ترجیحات کو نظرانداز کیوں کیا جاتا ہے؟ ہمیں بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ دینی مدارس کے معاملات جلد از جلد حل ہوں۔