#Gaza is witnessing the most severe & horrendous bombardment across entire region. All the channels of communication are dead. How ridiculous it is to see a city dying before our eyes and we are hopeless seeing the corpses of kids & innocents.
#Gaza_Genocide #Gazabombing #GazaUnderSiege
If you have been public about the issue of Palestine and Israel and can not condemn the latter for bombing the hospital, then know you have no claim to morality. You are the true "terrorist sympathiser." You are the one bereft of compassion. You are the sadistic psychopath
Under the garb of sympathies of the holocaust, these nefarious zionist have been unleashing terror on innocent Palestinian. There is no difference between the Nazis then and the zionist now. #Israel#IsraelUnderAttack#Palestine#PalestineForever
Media coverage: "Heart-touching video of Dr. Imad Abu Hasan, PhD, trying to save his son Abdullah's life after he was shot dead by #Israeli occupation forces during a raid into the town of Kafr Dan, north of the occupied West Bank, last night."
#IsraeliCrimes
اتنا معلوم ہے....
پروین شاکر
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟
میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب
اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا
بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں
اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے
اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں
''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر
اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل
یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟
مجھ کو پوچھا تھا مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟
اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے
کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن
اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا!