ہم چاند پر نہیں رہتے گلوبل ویلج کے باسی ہیں اور اس امت کا حصہ ہیں جو نشانے پر ہے۔پس حالت امن کی ترجیحات اور حالت جنگ کی ترجیحات کا فرق ملحوظ رکھنا ہو گا۔جب وقت کی پکار جان تک قربان کر دینے کی ہو تب کوئی احمق ہی ہو گا جو مال و اسباب کو خاطر میں لائیگا۔
علامہ اقبال کی بعض باتیں انکی سیاسی بصیرت اور تجزیاتی صلاحیت کی منہ بولتی تصویر ہوتی ہی ہیں لیکن بعض پشین گوئیاں ایسی حیران کن ہوتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ بات کیسے کہی جا سکتی تھی؟ ایسی باتوں کے بارے میں یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ الہامی نوعیت کی ہیں۔جیسے تقریباً ایک صدی پہلے یہ دعویٰ کرنا کہ مستقبل کی جنگوں کی رزمگاہ خطہ پنجاب بنے گا۔آج جب دیکھتے ہیں تو لیبیا و صومالیہ ہوں،شام و لبنان ہوں،قطر و بحرین ہوں یا ترکیہ و سعودیہ ہوں سب دفاعی ضرورت کیلئے پاکستان ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کی عسکری صلاحیتوں سے شاید ابنائے وطن اتنے آشنا نہیں ہیں جتنے دیگر مسلمان ممالک ہیں۔دوسری طرف آج سے دو سال پہلے تک کسی بڑے سے بڑے پاکستانی دانشور کے وہم و گمان میں بھی پاکستان کی اس صلاحیت کا کوئی شائبہ بھی نہیں تھا جبکہ علامہ اقبال پاکستان بننے سے بھی بارہ سال پہلے اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ پنجاب کو مسلمانوں کے دفاع میں مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا۔۔۔!!!
اسی سے اندازہ لگائیں کہ مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والی قوتوں کے دل و دماغ میں پاکستان کیسے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہو گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ پاکستان کے خلاف کون کون سی سازشیں کرنے اور منصوبے بنانے میں مصروف نہیں ہونگے؟
اسی سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فوج کو پنجاب کے نام پر گالی دینے اور پاکستان کو طاغوتی ریاست قرار دینے والوں کیلئے کون زمین ہموار اور حالات سازگار کر رہا ہے اور انھیں کہاں سے مدد مل رہی ہے؟
خود حکومتی مشینری کے اندر کتنے ابن علقمی، میر جعفر اور میر صادق ہونگے جو آستین کے سانپ کا کردار ادا کر رہے ہونگے؟
قصہ مختصر جہاں امت مسلمہ نے آس لگا رکھی ہے وہیں شیطان نے گھات لگائی ہوئی ہے۔۔۔!!
ان حالات میں ہماری گزارش ہر سمجھدار اور مخلص فرد سے یہ ہے کہ اپنے پاؤ بھر حقوق کے نام پر امت مسلمہ کے اونٹ کو ذبح کرنے کا جتن کرنے والوں کا ساتھ ہر گز نہیں دینا چاہیے!
میں علماء سے کہتا ہوں کہ وہ مہربانی کریں کہ اب کوئی دارالعلوم کےنام پر ہرگز دار العلوم نہ بنائیں۔
البتہ ایک ضروری کام یہ کریں ، کہ جہاں حکومت کوئی یونیورسٹی یا کالج بنائے، وہیں تم لوگ طلباء کی رہائش کے لیے ہاسٹل بناؤ، مدرسہ نہ ہو دارالعلوم نہ ہو، ہاسٹل ہو اور اس میں بس مسجد ہو اس ہاسٹل میں طلبا کو مفت رہائش دی جائے لیکن کھانے کے پیسے ان سے لیے جائیں ۔
ان سے کہا جائے کہ بھائی کھانے کے پیسے جمع کراؤ اور رہائش فری ہو، بس ان سے یہ شرط طے کر لی جائے کہ بیٹا جب تک تم اس ہاسٹل میں رہو گے تو نماز باجماعت پڑھو گے ، جب تم کالج میں جاؤ، کہیں جاؤ تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم جانو تمہارا خدا جانے اور صبح کی نماز کے بعد تین آیات درس قرآن اور عشاء کے بعد تین احادیث کا درس دیا جائے۔
پھر یہی لوگ کل کو حکومت کے اعلی عہدوں پر پہنچیں گے یہ مولوی تو نہیں بنیں گے لیکن مولوی بے زار نہیں ہوں گے مولویوں سے نفرت نہیں ہوگی، یہ تمہارے قریب رہ چکے ہوں گے اور انہوں نے تم سے استفادہ کیا ہوگا۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ۔
@khalidmabbasi@ThisiZiHB یہاں شاعر یہ بتا رہا ہے کہ دشمنوں (غیروں) نے تو ہر طرح کے تیرِ طعن برسائے، لیکن اپنوں کی ملامت کا انداز بھی کسی سے کم نہ تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ غیروں کا حملہ کھلا اور تیز تھا (ناوک = تیر، دشنام = گالی)، جبکہ اپنوں کا انداز نرم مگر کاری تھا (طرزِ ملامت = اندازِ سرزنش)
ہمارے دفتر کے قریب، پرانے برگد کے گھنے سائے تلے لکڑی کی پیٹی جمائے بیٹھا موچی محض جوتے گانٹھنے والا کاریگر نہیں بلکہ سیاسی باطن کا مردم شناس بھی ہے۔ جب بھی جوتے چمکوانے بیٹھیں، انگلی کے اشارے سے عینک ناک پر سرکاتے ہوئے فقرہ اچھالتا ہے: ’’تم صحافی تو صرف خبریں دیتے ہو، کبھی خبر کے پیچھے کا سچ جاننا ہو تو اس فقیر کا مصلّٰی کھٹکھٹا لیا کرو۔‘‘
آج جب ٹی وی اسکرینوں پر بریکنگ چلی کہ خان صاحب کو اڈیالہ جیل سے سیدھا شہر کے مہنگے ترین نجی ہسپتال منتقل کرنے کا خصوصی پروانہ جاری ہو گیا ہے، تو عقل دنگ رہ گئی۔ کل تک تو پارٹی نے بینائی ضائع ہونے تک کا بیانیہ داغ دیا تھا، لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ اور ہاں کسی بھی سزا یافتہ قیدی کو کسی پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کرانے کا کوئی قانون بھی موجود نہیں۔ پھر اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ
؎ مئے کشوں پر ہوا محتسب مہرباں یا دلفگاروں پہ قاتل کو پیار آ گیا
بارش تھمی تو ساتھی رپورٹر کے ساتھ باہر نکلے۔ اُس نے جوتے پالش کروانے تھے اور مجھے تجسس کی کھجلی ہو رہی تھی۔ فقیر کے پاس پہنچتے ہی میں نے خان صاحب کی اچانک ہسپتال منتقلی کی گتھی سامنے رکھ دی۔
فقیر کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری۔ بولا: ’’یہ معرفت کا معاملہ ہے بابو، ایسے نہیں کھلے گا۔ اس کے لیے روحانی بوٹی کا اذن چاہیے۔‘‘
اس نے پاس پڑی چمڑے کی میلی تھیلی سے مومی کاغذ میں لپٹی سیاہ رنگ کی چھوٹی سی گولی نکالی۔ سگریٹ کو پوروں سے مسل کر تمباکو گرایا، کالی گولی اور تمباکو کو دونوں ہتھیلیوں میں رکھ کر اتنی یکسوئی سے رگڑا کہ دونوں یک جان ہو گئے۔ مسالہ دوبارہ سگریٹ کے خول میں بھرا، دیا سلائی سلگائی اور تین چار گہرے اور لمبے کش کھینچے۔ دھویں کے مرغولے فضا میں بکھرے تو گویا ہوا: ’’بیٹھو ادھر، اب سنو پوری رام کتھا۔‘‘
’’خان جب تین سال پہلے اندر گیا تھا تو دماغ ساتویں آسمان پر تھا۔ گمان تھا کہ مہربان عدلیہ چند دن بھی سلاخوں کے پیچھے نہیں رہنے دے گی۔
خیال تھا کہ گرفتاری ہوتے ہی عوام کا سیلاب پورا نظام لپیٹ کر رکھ دے گا، ملک گیر انقلاب آ جائے گا، جگہ جگہ دھرنے ہوں گے اور ریاست کا پہیہ مکمل جام ہو جائے گا۔ خواب تھا کہ کے پی کے سے جتھے اسلام آباد، راولپنڈی پر چڑھ دوڑیں گے اور وفاق پر قبضہ کر لیں گے، اوورسیز پاکستانی ترسیلات روک کر حکومت کے گھٹنے لگوا دیں گے اور عالمی دباؤ کے آگے اسٹیبلشمنٹ سرینڈر کر دے گی۔
لیکن ہوا کیا؟ وقت نے ایک ایک کر کے سارے پتے بکھرتے چلے گئے۔ عدلیہ کا نقشہ ایسا بدلا کہ نہ رافعہ کی آہیں بچیں۔۔۔ نہ داماد جی کا عہد رہا۔ نو مئی کو ترپ کا پتہ سمجھا تھا، پر وہ تاش کا محل الٹا گلے کا پھندا بن گیا۔ گنڈاپور پہلے اسلام آباد کا رخ نہیں کرتا تھا، جب مجبوری میں نکلا تو ایسا بھاگا کہ وزارتِ اعلیٰ ہی گنوا بیٹھا اور پھر پلٹ کر نہ دیکھا۔ سہیل آفریدی کا غبارہ پھلایا گیا مگر وہ بھی ٹھس پٹاخہ نکلا۔
چند دن لندن کی ایک کمپنی نے خوب ڈھول پیٹا، پھر کھیل ختم اور پیسہ ہضم۔ ادھر واشنگٹن میں لابنگ فرموں پر لاکھوں ڈالر جھونکے گئے مگر نتیجہ محض چند رسمی بیانات اور ٹویٹس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ٹرمپ کے آنے سے بڑی امیدیں باندھی گئی تھیں، اس نے بات کا آغاز ہی 'مائی فیورٹ فیلڈ مارشل' سے کر کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ اربوں کے خرچ پر کھڑا کیا گیا سوشل میڈیا بریگیڈ چند یوٹیوبرز کی دکان داری اور ویوز کی کمائی بن کر رہ گیا۔
مہینوں سے حال یہ تھا کہ اڈیالہ کی ڈیوڑھی پر ایک درجن لیڈر بھی میسر نہ تھے، گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور گھریلو ملازموں سے ملاقات کی تصویر کا کوٹہ پورا کیا جا رہا تھا۔ صاف دیکھائی دے رہا تھا کہ اب قیدِ حیات سے نجات ہی رہائی کا واحد راستہ بن چکا ہے۔
مایوسی شدید اضطراب اور اینگزائٹی میں بدلی تو لیول حدیں چھونے لگا۔ آخرکار بہنوں کی مشاورت سے معافی اور پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہ بچا، سو کڑوا گھونٹ بھرنا ہی پڑا۔
مڑا! فی الحال تو سمجھو یہ ایک عارضی بندوبست اور ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر ہسپتال کے باہر ڈرامہ سجایا گیا، بہنوں نے سیاسی محاذ کھول کر پریس کانفرنسیں کیں تو واپسی سیدھی اڈیالہ والی چکی میں ہوگی۔ اور اگر سچی توبہ پر قائم رہے، اچھے بچوں کی طرح مکمل فرمانبرداری کا عملی ثبوت دیا، تو ہسپتال سے ہاؤس اریسٹ اور پھر کچھ عرصہ بعد وہاں سے علاج کی غرض سے بیرونِ ملک روانگی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔‘‘
میں فقیر کی اس اندرونی باخبر سیاسی فہم اور چشم کشا تجزیے پر حیران رہ گیا۔ دل چاہا کہ کچھ اور گرہ کشائی کرواؤں، مگر روحانی بوٹی کے تند دھوئیں سے سر چکرانے لگا تھا، چنانچہ جوتوں کی چمک پر نظر ڈالی، خاموشی سے جیب ہلکی کی اور وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔
#مہتاب_عزیز
ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ختنے نہیں کروائے جا سکتے !
مگر وہ ختنے کروانے پر پابندی لگا سکتی ہے یا حفظان صحت کیلئے پولیو ویکسین زبردستی پلوانے کی طرح سب کے ختنے بھی کروا سکتی ہے۔
اس صورت میں ختنے کروانا سیکولر عمل قرار پائیگا۔
صوبے بنیں یا صدارتی نظام آئے کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟
ڈاکٹر اسرار احمد کی ساٹھ سال پرانی ایک تحریر سے راہنمائی ملتی ہے:
"ملی اور قومی نقطہ نگاہ سے یہ صورت حال یقینا نہایت تشویشناک اور پریشان کن ہے۔ اور ہر مخلص اور محب وطن پاکستانی کو لازماً اس پر سخت مضطرب اور غمگین ہونا چاہیے۔
لیکن اس حقیقت کو ہر آن پیش نظر رہنا چا ہیئے کہ اس کا اصل سبب قوم میں سیاسی شعور کی خطرناک حد تک کمی اور ملی و قومی احساسات کا خوفناک حد تک فقدان ہے!
کسی ایک یا چند افراد کے سر اس پوری صورت حال کی ذمہ داری تھوپ دینا یا سیاسی بے بصیرتی کا شاہکار ہے یا علمی خیانت کا !
۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی یہ موٹی سی بات بھی ہر مخلص پاکستانی کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اس کا علاج نہ صدارتی اور پارلیمانی جمہوریت یا بلا واسطہ و بالواسطہ
انتخابات کے مسئلوں پر وقتی ہنگامے اٹھانے سے ہو سکتا ہے نہ مینڈکوں کی پنسیری کی طرح کے بالکل انمل ہے جوڑ متحدہ محاذوں کے قیام سے !
اس صورت حال کی اصلاح کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ بالکل فطری طریق پر عوام میں سے کوئی سیاسی جماعت ایسی اُٹھے جو مسلسل محنت و مشقت اور پہم جدو جہد کے ذریعے ایک طرف ان میں سیاسی شعور اور اپنے بھلے اور برے کی حقیقی پہچان پیدا کرے اور دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں ایسے قومی کارکنوں کو تربیت دے کر تیار کرے جو ہر طرح کے مفادات سے صرف نظر کر کے خالص اصولوں کے لئے کام کر سکیں اور اپنے مقصد اور نصب العین کے ساتھ مخلصانہ تعلق اور قوم کی بہتری اور بھلانی کے لئے انتھک محنت و مشقت اور اثیار قربانی کی صلاحیت رکھتے ہوں."
پاکستان نے جیو پالیٹکس میں جو کامیابیاں سمیٹی ہیں وہ گورننس کے مسئلے کی وجہ سے رائیگاں چلے جانے کا شدید خدشہ موجود ہے۔لیکن اس کا حل وہ نہیں جو سوچا جا رہا ہے بلکہ وہ ہے جو سطور بالا میں بیان کیا گیا ہے
@Aadiiroy2 قوم کے حکیموں کا خیال ہے کہ جس تناسب سے فحاشی عام ہو گی اور جنسی آسودگی کا وافر سامان ہو گا اسی نسبت سے جنسی گھٹن میں کمی آئے گی اور افراد کا رویہ معتدل ہوتا چلا جائیگا جبکہ الحکیم نے کتاب مبین میں صراحت کی ہے ہیکہ فحاشی و عریانی جسقدر کم ہوتی جائے گی اتنا جنسی فساد گھٹتا جائیگا۔
جن کے دلوں پر مہر ہے،جو سماعت سے محروم ہیں اور جنکی آنکھوں پر چربی چڑھی ہے انھیں حقائق پر مبنی یہ باتیں پالش معلوم ہوتی ہیں مگر شکرے نما بزدل چوہوں کی بدکلامی کی پرواہ کیے بغیر انکے پھیلائے غلاظتوں کے تعفن میں ہم سچ کی یہ خوشبو بکھیرتے رہیں گے(ان شاءاللہ)
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی
اور
اٹھ کہ بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
مقتدرہ نے ایک ساتھ اتنے زیادہ کٹے کھول دیے ہیں کہ گھبراہٹ ہوتی ہے کہ گجر انھیں کیسے باندھ بائے گا۔۔۔!!؟
کے پی اور بلوچستان میں مست ہاتھی سب روندھنے پر تلے ہیں تو کشمیر میں سانڈھ بے قابو ہوئے پڑے ہیں۔مہنگائی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے تو بیوروکریسی کی ڈائن ملکہ حسن بننے کیلئے خزانے کو شیر مادر بنائے ہوئے ہے۔سیاستدان ون ویلنگ میں مشغول ہیں تو بیرونی خطرات الگ سے منڈلا رہے ہیں۔طوفانوں میں گھری کشتی کے ملاحوں کو اوپر سے انتظامی ڈھانچے کی بنیادیں اکھاڑ کر تعمیر نو کی سوجھی ہے۔یوں سمجھیں ڈائیلسز کے مریض کی اوپن ہارٹ سرجری کا مرحلہ درپیش ہے۔شاید معجزہ ہو جائے !
نماز کے سٹرکچر میں مثلا رکعت کی تعداد ،رکوع سجود میں کوئی فرق نھیں
باقی جو تھوڑا بھت عمل میں فرق ھے وہ بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح مختلف مواقع پے نماز پڑھی کوئی اور عمل کیا ان کی تمام سنتیں امت نے زندہ رکھی ھوئی ھیں
یہ بھی ایک حسن ھے عبادت میں اپنے نبی کی محبت کا
پاکستان میں مقیم لاکھوں کشمیری مہاجرین کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی و جمہوری حق ہے
کشمیری مہاجرین کے حقوق جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں
میر واعظ عمر فاروق