"جیسے تم پر مصیبت اچانک آئی ویسے ہی راحت بھی اچانک آئے گی"
*جیسے کہ فرمایا گیا:وَمَا أَمْرُنَا إِلا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ…*
"اور ہمارا حکم تو ایک ہی بار ہوتا ہے، پلک جھپکنے کی دیر جیسا" (سورہ قمر: 50)
اگر بندہ کو یہ علم ہو کہ اللہ اس کی دعا سن رہا ہے،
تو وہ یہ سوچنے سے شرمائے گا کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوگی!
اس لیے اللہ سے فریاد کرو، وہ تمہاری مدد کرے گا۔
اس سے مانگو، وہ تمہیں دے گا۔
اس پر اصرار کرو، کیونکہ وہ اصرار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر، حوصلہ اور درست فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمارے دلوں کو امید، سکون اور خیر سے ہمیشہ آباد رکھے۔ آمین ثم آمین
ایک آدمی نے سالوں کی محنت سے پیسہ جوڑ جوڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ایک خوبصورت نیا گھر تعمیر کیا۔
جب گھر مکمل ہوا تو اس نے فیصلہ کیا کہ تین دن بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئے گھر میں شفٹ کرے گا۔
لیکن… شفٹنگ سے ایک دن پہلے رات میں زلزلہ آیا۔
وہ نیا، خوابوں جیسا گھر زمین بوس ہو گیا۔
اگلی صبح جب محلے والے، عزیز و اقارب افسوس کے لیے ملبے پر کھڑے تھے…
تو اچانک گھر کا مالک ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لے کر پہنچا اور سب میں مٹھائی بانٹنے لگا۔
لوگ حیران رہ گئے!
ایک صاحب نے غصے سے پوچھا:
"کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟
اتنا بڑا نقصان ہوا اور تم خوشیاں بانٹ رہے ہو؟"
گھر کے مالک نے مسکرا کر جواب دیا:
"نہیں...
میں تو اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ زلزلہ ایک رات پہلے آیا۔
اگر میں اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں ہوتا،
تو آج مٹھائی نہیں بانٹ رہا ہوتا بلکہ ملبے کے نیچے دفن ہوتا۔" 💔
زندگی میں ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں:
✨ ایک شکایت کا
✨ دوسرا شکر کا
ہم کیا چنتے ہیں…
یہی ہماری سوچ اور ایمان کی پہچان ہے۔ 🤲
آپﷺنے فرمایا:
سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے اور میں نے اب تک (بطور ذکر) جو کچھ کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے:۔
لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، لَهُ الملكُ
ولَهُ الحمدُ وَهوَ على كلِّ شَيءٍ قديرٌ.
(ترمذی۳۵۸۵)
آپ کسی کے ساتھ سو دفعہ اچھا کرو لیکن صرف ایک دفعہ آپ نے کچھ غلط کردیا تو آپکی سو اچھی چیزیں بھلا دی جائیں گی۔ اور ایک غلطی ہمیشہ یاد رکھی جاۓ گی۔
دنیا والے بڑے بے مروت ہوتے ہیں۔
ابن القيم رحمه اللہ نے فرمایا:
“حسد کرنے والے کی نظرِ بد ایک تیر کی مانند ہے، جب وہ کسی بے حصار (بے حفاظتی کی حالت میں) شخص پر پڑتی ہے تو اسے لگ جاتی ہے، لیکن اگر وہ اذکار کے ذریعے محفوظ ہو تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔”
(ابن القیم، زاد المعاد 4/154)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
یاد رکھیں ان ایام میں سب سے افضل ترین عمل تکبیرات، تحمیدات تحلیلات، بلند کرنا سب سے افضل ترین عمل ھے۔ اسکو ہرگز ہلکا نہ جانیئے۔
سلف کہا کرتے تھے: اگر کوئی شخص بیچ چوراہے میں درھم و دینار خرچ کرتا ھے۔ اور ساتھ بیٹھا تکبیرات بلند کرتا ھے۔ تو تکبیرات والے کا اجر زیادہ ھے۔ سب نیکیاں کیجیئے۔ مگر زبان مسلسل تکبیرات کے ورد میں مشغول رہے۔🫀
قال ﷺ :
یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملےگا۔ پس جس کی ہجرت(ترک وطن) دولت دنیاحاصل کرنےکےلیےہو یا کسی عورت سےشادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کےلیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سےاس نے ہجرت کی ہے۔
(بخاری،١)
الله تعالیٰ بندے کے یقین کو اپنی اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے آزماتا ہے۔
تنگی کے وقت وہ دیکھتا ہے کہ تم ”الرزاق“ پر کتنا یقین رکھتے ہو، غربت میں تمہارا اعتماد کتنا مضبوط ہے۔
بخل اور کمی کے لمحات میں وہ تمہارے دل کو ”الجواد“ کے ساتھ پرکھتا ہے، خوف اور اضطراب میں ”المؤمن“ پر تمہارا بھروسہ دیکھا جاتا ہے۔
گناہ کے بعد تم ”الغفار“ کی رحمت پر کتنا یقین رکھتے ہو،
اور جب راستے بند محسوس ہوں تو تم “اللطیف” پر کتنا بھروسا کرتے ہو۔
لہٰذا ہمیشہ اپنے رب سے خیر کی امید رکھو۔۔۔! وہی رب ہے، جس کے یہ سب نام ہیں۔