"دہشت گردی ہم نے نہیں بلکہ آپ نے پاکستان میں پھیلائی ہے۔ جب افغانستان میں روس آیا تو آپ نے پوری دنیا سے دہشت گردوں کو لا کر یہاں اکٹھا کیا۔ آپ نے ان کی تربیت کی، انہیں بم بنانا سکھائے اور وسائل فراہم کیے۔ اسامہ بن لادن کو بھی آپ ہی نے پناہ دی۔ اس ساری صورتحال کا ذمہ دار پشتونوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ہمارے لوگ تو اس میں مارے گئے ہیں۔
ہماری کوشش ہے کہ یہ سب کچھ ختم ہو۔ ہم نے ہر جگہ امن کی بات کی ہے۔ آپ نے خیبر، چارسدہ، باڑہ اور پاکستان کی چھاؤنیوں میں کیا کیا؟ یہ سب بدمعاشیاں آپ کی ہیں۔ افغانستان پر قبضہ ہو یا پشتون وطن پر، آپ نے ہی قبضہ کیا ہے۔
ہم اپنے وطن اور اس کے وسائل، چاہے وہ خیبر، مہمند، باجوڑ، بلوچستان یا سندھ میں ہوں، ان پر کسی کو زبردستی قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ یہ وطن ہمارا ہے، ہم اس کے مالک ہیں۔ ہمارے وسائل، سنگ مرمر، پانی، پتھر اور پہاڑوں پر کوئی بھی طاقت کے زور پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اگر کسی کو ہمارے وسائل چاہیے تو وہ ہم سے باقاعدہ بات کرے۔
ہم سب متحد ہو کر ایک پرامن اور متفقہ جرگہ کریں گے۔ ہم دنیا کو بھی بتائیں گے کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان کی عدالتوں میں ہماری بات نہیں سنی گئی، ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی اور ہماری آواز دبا دی گئی، تو ہم اپنے حقوق کے لیے بین الاقوامی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ خیبر ہمارا ہے اور ہم اس پر کسی کا زبردستی قبضہ تسلیم نہیں کریں گے، باڑہ ہمارا ہے، پانی اور پتھر ہمارے ہیں اور ہم انہیں کسی کو زبردستی چھیننے نہیں دیں گے۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا باڑہ کی عوام سے خطاب
جو کہتا تھا، ’’میں فوج کے اینٹیں بجا دوں گا‘‘، وہ آج صدرِ پاکستان ہے۔
جو کہتی تھی، ’’اس وردی کے پیچھے دہشت گردی ہے‘‘، وہ آج وزیرِاعلیٰ ہے۔
جو کہتا تھا، ’’فوج ہڈیوں سے گوشت نوچ کر کھا جائے گی‘‘، وہ آج وزیرِدفاع ہے۔
اور جو کہتا تھا، ’’یہ ملک بھی میرا ہے، فوج بھی میری ہے‘‘—
وہ آج ناحق قید میں ہے۔
اس سے بڑا المیہ اور اس نظام کا اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا؟
امریکی سی آئی اے کی تانبا سونے سے زیادہ یورینیم پر نظر ہے،
جب یورینیم نکالا جائیگا تو کے پی کے اور آدھا پاکستان تابکاری کے اثرات سے معزور ہوجائیگا،
کوڑیوں کے دام ہماری زندگیوں کا سودا ہوچکا ہے
اگر اپنی حفاظت چاہتے ہیں تو صرف مزاحمت ہی واحد راستہ ہے ،
باقی کوئی راستہ نہیں۔
گورنر راج کس نے لگایا؟
پرامن احتجاج کرنے والوں پر گولی کس نے چلائی؟
KP میں پی ٹی آئی کے MNA, MPA اور کارکنوں کو اغواہ کون کر رہا ہے؟
عمران خان کی بہنوں کو کس نے اغواہ کر کے جیل میں ڈالا؟
سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کس نے نہیں مانا؟
#گولی_کیوں_چلائی
The military regime in Pakistan was facing a mounting local and global pressure to release Imran Khan from the prison cell; so what did it do?
Instead of giving medical relief to Imran Khan as instructed by the courts, It created a bigger crisis by overthrowing the provincial government and abducting its top leadership under the pretext of fighting terrorism.
While it diffused the global pressure in short-term knowing that "terrorism" story sells very well to the global audience, but in the process it has done permanent damage to an already fragile social contract.
Like I've said previously, by the time this lot is done with Pakistan, let's hope there is something left of country.
وہ شراب نہیں شہد تھا اور یہ ہیروؤن نہیں وٹامن بیچتی تھی
پاکستان میں انصاف کی فراوانی ہو گئی ہے، اب اسکو بھی آٹے
اور چینی کی مانند ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی جائے
منشیات برآمدگی کیس: انمول عرف پنکی شواہد نہ ملنے پر بری
https://t.co/Skcnj2FdDF
“ڈالروں کی پوجا کرنی ہے، کرو؛ امریکہ کی غلامی کرنی ہے، کرو، مگر میرے لوگوں کی جانوں سے مت کھیلو! نفرتیں مت پھیلاؤ، لوگوں پر ظلم مت کرو۔ ہمارے پشتونوں کی زندگیوں کو ڈالروں کے عوض مت بیچو!”
مراد سعید
#Pakistan#Pashtun@MuradSaeedPTI
اس چول ریٹائرڈ صوبیدار، میجر یا کرنل کو کوئی بتلائے کہ پچھلے ساڑھے چار سالوں میں خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے 1709 اہلکار اور بلوچستان میں 2184 اہلکار مارے جا چکے ہیں، اپنے ملک کی خبر نہیں اور دوسرے ملک کی مصدقہ اطلاعات ہیں، ڈفرز کہیں کے!
آزادی فلسطین کا سرخ دروازہ یحی السنوار کے خون آلود ہاتھ سے کھلے گا،ان شاءاللہ۔۔
یحییٰ السنوار کی شہادت کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔
آپ 2024ء کو جنوبی غزہ کے شہر رفح کے علاقے تل السلطان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران شہید ہوئے تھے۔
شہادت سے چند لمحے پہلے کی ان کی آخری تصویر آج بھی ان کی مزاحمت کے آخری لمحات کی یاد دلاتی ہے۔سنوار کی غیر معمولی جرات،وژن،استقامت اور قربانی سے تا ابد حریت پسند رہنمائی اور رہبری لیتے رہیں گے۔۔
اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
فلسطین، فلسطینیوں کا ہے پورے کا پورا ہے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا۔ انشاءاللہ
🚨🚨🚨 “WHAT EXACTLY IS THE CHIEF JUSTICE OF PAKISTAN CELEBRATING?” JUSTICE MANSOOR ALI SHAH RAISES A POINTED QUESTION! ⚖️🇵🇰🇬🇧
Former Senior Puisne Judge of the Supreme Court of Pakistan, Justice (R) Syed Mansoor Ali Shah, has reportedly taken a sharp swipe at Chief Justice Yahya Afridi over his visit to London, where the CJP has been honoured by the prestigious Inner Temple.
Justice Shah, who resigned in protest against the controversial 27th Constitutional Amendment amid growing concerns over judicial independence, has reportedly questioned the celebration in a pointed LinkedIn comment.
His reported remarks cut straight to the heart of the controversy:
“What is the Chief Justice of Pakistan celebrating? Can you please explain?”
He further invoked the historic legal principle:
“I thought Inner Temple’s own motto was, ‘Nolumus leges Angliae mutari’” a commitment to preserving the law and its enduring principles.
THE BIGGER QUESTION: Can judicial honours abroad be celebrated while the independence of the judiciary back home remains under serious scrutiny?
At a time when Pakistan’s constitutional order and judicial independence face profound questions, Justice Shah’s reported remarks highlight the growing divide over the state of the country’s highest court.
جو باتیں مفتی محمود کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے کی ہیں اور جو ایمل ولی نے سینٹ اجلاس میں تقریر کی ہے اس کا آدھا بھی تحریک انصاف کے کسی بندے نے بولا ہو تو وہ دہشتگرد ڈکلئیر ہو جاتا ہے اس کے خلاف فتوے آ جاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ بیانیہ کا نہیں مسئلہ تحریک انصاف اور عمران خان سے ہے ۔
ثمینہ پاشا
دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا آج یومِ شہادت ہے۔ قائداعظم سے جان چھڑوانے کے بعد یہ جرنیلی ٹولہ اقتدار پر مکمل اختیار چاہتا تھا۔ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ایک فوجی سپاہی تھا، جسے انکوائری اور گرفتاری میں لینے کی بجائے گولی مار دی گئی۔ اس کے خاندان کی اسی دن فوج سے پنشن لگ گئی۔ اس کی بیوی، جس کا انتقال چند سال پہلے ہوا، کو فوج نے گھر بھی دیا، اور آج بھی اس کی اولاد اس پنشن کے مزے لے رہی ہے اور امریکہ میں مقیم ہے۔
ہماری مادرِ ملت، جنہوں نے جمہوریت کا علم بلند کیا اور متحرک ہو گئیں، ان کے مقابلے پر آمر ایوب خان کی رعونت اور جسارت تو دیکھیے کہ اُس نے فاطمہ جناح کو غدار اور انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ ایوب خان دھاندلی کرکے ان سے الیکشن جیت گیا، لیکن پھر بھی جرنیلی رعونت ختم نہ ہوئی۔ فاطمہ جناح کو زندگی ہی میں رسوا کرنا شروع کر دیا گیا، ان کے اوپر پانی چوری جیسے مقدمے بنائے گئے۔ تب بھی بدلے کی آگ ختم نہ ہوئی تو اس جرنیلی ٹولے نے مادرِ ملت فاطمہ جناح کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پڑھیں تو آپ کا دل لرز اٹھے گا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً میرے نوجوانو! میں آپ کو دہائیوں سے ان کے کردار اور ان کی حرکتوں کی طرف متوجہ کرتا آ رہا ہوں۔ خوشی ہے کہ ان کا یہ کردار عمران خان کے تسلسل سے آپ تک پہنچا۔ ان کے منہ کو آپ کا خون لگ چکا ہے۔
عاصم منیر کی رعونت اور فرعونیت کا بھی وہی عالم ہے۔ انہوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی تذلیل سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔
محسن نقوی نے آج تحریک انصاف کو تقریباً تحریک طالبان قرار دے دیا ہے۔ اصل دہشت گردی کے سہولت کار وہ ہیں جنہوں نے سانحۂ APS کے دہشت گردوں کو اپنی قید سے فرار کرایا۔
اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ عاصم منیر کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ افسوس کہ طالبان بنانے اور ان کا خمیازہ بھگتنے کے باوجود کچھ نہیں سیکھے۔ ہوسِ اقتدار میں یہ پوری قوم کو ذبح کر دیں گے یہ اس ملک کو دہشستان بنا دیں گے۔
دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
9 مئی کروانے والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ 9 مئی کروانے والوں کو کچلا جائے گا۔
ایک اعلامیہ CCTV فوٹیجز دکھانے کا بھی جاری کرتے!
یہ پہلی دفعہ نہیں ہے، ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اس سے بھی بڑی بھڑکیں مارتے رہے ہو۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
عاصم منیر صاحب، یہ تو ایک آدھ منٹ کی بات تھی، اس بات کا فیصلہ تو آپ نے عہدہ سنبھالتے ہی کر لیا تھا۔ 15، 15 گھنٹے کی کور کمانڈر میٹنگز کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ باقی کیا طے پایا، وہ بھی بتائیں۔ کیا یہی اس فوج ترجیحات رہ گئیں ہیں؟
میں ایک فوجی کا بیٹا ہوں، احسن ابدال کیڈٹ کالج سے پڑھا ہوں، مجھے اپنے ملک کی فوج کیوجہ سے اب شرم آتی ہے میرا ملک اس نہج پر اس فوج کیوجہ سے پہنچا ہے
ہمارے جرنیل دنیا کے امیر ترین جرنیل ہیں آپ اپنی تنخواہ سے اتنے امیر کیسے ہو سکتے ہیں
حبیب اکرام راجہ نے ساری گفتگو کو اس ایک جملے میں کمال خوبصورتی سے سمو دیا!
“لٹ جانے والا دہائی دے تو اسے مجرم اور لوٹنے والے کو کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا ۔”
عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہی یہ ہے کہ وہ صرف عوام کو جوابدہ ہونے کے علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔
عمران خان نے طاقت کے اس ڈھانچے کو عام آدمی کے لیے کھول کر رکھ دیا ہے۔
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا ذکر ان سے پہلے بھی ہوتا تھا۔ سیاسی کارکن مزاحمت کرتے تھے اور سیاسی جماعتیں اسکی قیمت ادا کرتی تھیں ۔ مگر عمران خان نے اسے عوامی سوال میں بدل دیا ہے کہ حکومتیں بظاہر کسی اور کے پاس نظر آتی ہیں لیکن فیصلہ کرنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔ یہی سوال سہیل آفریدی نے اٹھایا تو انکی حکومت ختم کر دی گئی ۔