آزادی صرف 14 اگست 1947ء کی ایک تاریخ کا نام نہیں؛ آزادی تک پہنچنے کے لیے جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں، پھانسیوں کو چوما اور قید و بند برداشت کی، ان کے خون اور قربانیوں کو بھی تاریخ کا حصہ بنانا ہوگا۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
Islamabad: JUI chief Maulana Fazlur Rehman rejected the idea that religious scholars had no legitimate place in Pakistan’s politics, saying their political space had been earned through decades of sacrifice by scholars, workers and young activists.
He said attempts to narrow that space would not eliminate ideological politics, adding that JUI’s political struggle was rooted in a long history of resistance and sacrifice.
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
في يوم الجمعة المباركة، وأمام بيت الله الحرام، وبعد باكستان والمملكة العربية السعودية، يأتي انضمام تركيا أيضًا إلى اتفاقية الدفاع المشترك، في خطوة تبعث على التفاؤل نحو تشكيل تكتل جديد للأمة الإسلامية.
لقد أكد سماحة قائد جمعية علماء الإسلام في باكستان، مولانا فضل الرحمن، على الدوام أن تعزيز وحدة الأمة الإسلامية، وترسيخ التعاون والتفاهم المستدام بين دولها، أصبح من أهم متطلبات المرحلة.
ومن الضروري التوجه نحو إنشاء تكتل إسلامي أكثر قوة وتماسكًا، يسهم في تعزيز القدرات الدفاعية للدول الإسلامية، ويحمي أرواح المسلمين وأموالهم وأعراضهم وكرامتهم، ويكون سدًا منيعًا في وجه المخططات العدوانية التي تستهدف العالم الإسلامي، ولا سيما الأطماع الإسرائيلية.
وإن إعادة إحياء مثل هذه الاتفاقيات المشتركة بين الدول الإسلامية، بقيادة المملكة العربية السعودية وسمو ولي العهد الأمير محمد بن سلمان حفظه الله، سيكون لها ـ بإذن الله تعالى ـ أثر إيجابي كبير يعود بالنفع على الأمة الإسلامية.
راشد محمود سومرو
الأمين العام
جمعية علماء الإسلام – إقليم السند – باكستان
آج ملک کو کسی وقتی سیاسی شوشے کی نہیں بلکہ قومی اور انصاف پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے۔ عوام پریشان ہیں، حالات تشویشناک ہیں؛ حکمرانوں کو سنجیدگی سے قومی معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس
#MaulanaInQuetta #صوبےنہیں_امن_دو #عوامی_قوت_جمعیت #آئین_کےمحافظ_مولانا #نااہل_حکمران_مفلوج_نظام
صوبے بنانا بری بات نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ملک اس کا متحمل ہوسکتا ہے؟ ملکی ساخت، قومی وحدت اور موجودہ حالات کو نظرانداز کرکے نئے صوبوں کے شوشے چھوڑنا مسائل کا حل نہیں۔ اصل ضرورت عوام کو امن، آئین اور مستحکم نظام دینے کی ہے۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس
#MaulanaInQuetta #صوبےنہیں_امن_دو #عوامی_قوت_جمعیت #آئین_کےمحافظ_مولانا #نااہل_حکمران_مفلوج_نظام