قرآن کریم میں ایک لفظ "اَوَّابٌ" ہے،
یعنی بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے والا۔
یہ لفظ تین چار انبیاء کرام علیھم السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔
معلوم ہے اس کا کیا معنی ہے؟
میں اپنے ذوق کے مطابق اس کو کھولتا ہوں۔
یہ لفظ ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے درد کی ٹھیسیں ربِ محبت کو بتائیں،
جیسے بچے کو معمولی سا درد ہو،
تو فورا ماں کے پاس بھاگ کر جاتا ہے ،
اور انگلی رکھ کر بتاتا ہے کہ یہاں درد ہے،
یہاں زخم ہے،
یہاں سے خون بہہ رہا ہے،
یہاں سوجن ہے،
یہاں بے چینی ہے،
یہاں کسی چیز نے کاٹا ہے،
یہاں چوٹ لگی ہے۔
ایسے ہی اللہ تعالی کو بتائیں کہ اے ربِ محبت!
یہاں پھنسا ہوا ہوں،
یہاں سے دھوکہ کھایا ہے،
یہاں سے لُٹ گیا ہوں،
یہاں سے قریبی لوگ بچھڑ گئے ہیں،
یہاں سے اُداسی مل رہی ہے،
یہاں ناکامی کا سامنا کر رہا ہوں،
یہاں جا کر تجھ سے دور ہو رہا ہوں،
یہاں مجھے تیری مدد کی ضرورت ہے،
یہاں میرے حوصلے ٹوٹ رہے ہیں،
یہاں ہمتیں پست ہو رہی ہیں،
یہاں صلاحتیں ضائع ہو رہی ہیں،
یہاں حاسدین و منافقین ہیں،
یہاں خوشامدی ہیں،
یہاں جانے سے ڈر لگ رہا ہے،
یہاں پھنس چکا ہوں،
یہاں سے امید کی کوئی چنگاری نظر نہیں آرہی،
یہاں فیصلہ کرنے میں کنفیوزڈ ہوں،
یہاں کوئی اپنا نہیں ہے،
یہاں نیندیں اُڑ رہی ہیں،
یہاں خزاں چھائی ہوئی ہے،
یہاں رات کی تاریکی میں گِرا ہوں،
یہاں انویسمنٹ برباد کر بیٹھا ہوں،
یہاں فیل ہو چکا ہوں،
یہاں سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے،
یہاں سے نفرت مل رہی ہے،
یہاں ماضی کے گناہ تنگ کر رہے ہیں،
یہاں مستقبل کے خوف نے گھیرے میں لے رکھا ہے،
یہ میری ضروریات ہیں،
یہ میری حاجات ہیں اور یہ میری خواہشات،
یہاں میری امید دم توڑ رہی ہے،
یہاں کھلی فضا میں جانے کا امکان نظر نہیں آ رہا،
یہاں تبدیلی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی،
یہاں کردار پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں،
یہاں لوگ میری بات اور موقف نہیں سمجھ رہے،
یہاں ہر کسی کو اپنی فکر ہے،
یہاں لوگ بِک رہے ہیں،
یہاں مجھے اندیشوں نے جکڑ رکھا ہے،
یہاں میرا دل بکھر رہا ہے،
اور یہاں میں بے بس ہو رہا ہوں۔
اے رب محبت!
میرے درد بے شمار ہیں،
میری آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑیاں ہیں،
میرے دل پر پریشانیوں کے نیزے پیوست ہیں،
میری روح لوگوں کی زبان سے نکلنے والے تیروں سے زخمی ہے،
میں نے سب کچھ آپ کو بتا دیا، کچھ نہیں چھوڑا،
سارے درد آپ پہلے سے جانتے ہیں لیکن بتانے میں مجھے تسلی ملی ہے،
اب تو مجھے مزید ہیلنگ دے دے۔
جب انسان زندگی کی ہر چیز اپنے ربِ محبت سے شیئر کرنا سیکھ جاتا ہے تو پھر درد بھی لذت دینے لگتے ہیں۔
پھر بار بار، دن میں کئی بار ، ہاتھ اٹھائے بغیر، دل ہی دل میں یا تنہائی میں ہلکی آواز سے اپنے رب کو پکارنا انسان کا مشغلہ بن جاتا ہے۔
پھر رب کو ڈھونڈنا نہیں پڑتا کہ پتا نہیں وہ کہاں ہے؟ وہ آپ اور آپ کے دل کے درمیان محسوس ہوتا ہے۔ شہ رگ سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔
بس اب جو زندگی شروع ہوتی ہے درد سنانے کی ، اسی کو کہتے ہیں:
"اَوَّاب"
بار بار رجوع کرنے والا
یعنی جس کا ہر لمحہ رب سے باتیں کرنے میں گزر رہا ہے اور اُس کو احساس ہوگیا ہے کہ : اللہ ہے نا !
محمد اکبر
#موناسکندر
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اچھی کتابیں اور اچھے دل والے لوگ ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتے یہی وجہ ہے کہ اچھی کتابیں اکثر گرد آلود اور اچھے دل والے لوگ اکثر ٹھوکروں کی زد میں رہتے ہیں. مختصر رہیں لیکن مخلص رہیں.!!!
میر بابر مشتاق
#قومی_زبان
عمران خان جیل میں ہیں تو کس سے بات کروں ؟
کون ہے ایسا فرد جس سے بات کی جائے تو اطمینان ہوجائے کہ پارٹی سے بات ہوگئی۔
یہاں تو یہی نہیں پتا چلتا کون کس کا بندہ ہے۔
جماعتِ اسلامی کی طرف سے اپنے مرکزی امیر سراج الحق صاحب کو تنظیمی و سیاسی سرگرمیوں میں سفر کے لئے ایک لینڈ کروزر اور ڈرائیور فراہم کیا گیا ہے - امیر محترم کے قریبی ایک جماعتی ذمہ دار نے مجھے ایک ایسی بات بتائی جس سے میرا سر فخر سے مزید بلند ہو گیا - یہ بات کچھ یوں ہے کہ
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی بیٹی کا علاج راولپنڈی کے کسی ھسپتال میں چل رہا تھا، امیر جماعت اسلامی اپنی بیٹی کی تیمارداری کے لئے لینڈ کروزر کی بجائے پبلک بس پر چلے گئے لیکن جماعتِ اسلامی کی طرف سے فراہم کی گئی لینڈ کروزر کو اپنے ذاتی مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا -
پھر اپنے بچوں کو تیمار داری کے لیے بھیجا تو بھی بس پر ، جب رات بارہ بجے تک سیٹ نہیں ملی تو امیر جماعت اسلامی کے معتمد نے کہا میں گاڑی پر چھوڑ آتا ہوں ، امیر محترم نے کہا یہ گاڑی میری نہیں ہے یہ جماعت اسلامی کے بیت المال کی ہے، اگر شوری گاڑی کے استعمال کی اجازت دے بھی دے تو میرے پاس پیٹرول کے پیسے نہیں، ڈرائیور نے کہا امیر محترم پیٹرول ہم خود ڈلوا لیں گے ، تو امیر محترم کا جواب سن کر میرا سر فخر سے اونچا ہوگیا، امیر نے فرمایا یہ گاڑی میری نہیں ہے جماعت اسلامی کی ہے ، کل جب میں امیر نہیں رہوں گا تو میرے پاس کوئی گاڑی نہیں ہوگی ، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ بچوں کی عادتیں خراب ہوں ، انکو بس پر ہی جانے دو ، یہ واقعہ مجھے امیر محترم کے بہت قریب رہنے والے ایک دوست بتایا، تو میں سوچ میں پڑگیا کہ پاکستانی عوام کے پاس ایسی قیادت موجود ہے جو خلفائے راشدین کے نقش قدم پر عملاً چل رہی ہے، لیکن بدقسمتی سے لوگ سراج الحق کو چھوڑ کر مقامی و عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مسلط کردہ چوروں کو ووٹ دینے پر آمادہ ہے -
#HeathStreak #rain #electricity #Wagner #IndiaOnMoon #XAUUSD #GOLD