یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں.
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا.
اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ.
اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا.
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں,
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں,
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ,
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں🥀
ہاں! یہ سچ ہے ترستے تھے بات کو کبھی
اب یہ کوشش ہے کہ تیرا ذکر نہ ہو، بات نہ ہو
کاش ڈھونڈے تو مجھے گھوم کے بستی بستی
اور دعا ہے میری، کبھی تجھ سے ملاقات نہ ہو🌚