نہ پوچھ مجھ سے ترے قرب کا نشہ کیا ہے
تو اپنی آنکھ میں ڈورے مرے خمار کے دیکھ
ذرا تجھے بھی تو احساس ہجر ہو جاناں
بس ایک رات میرے حال میں گزار کے دیکھ
ابھی تو صرف کمال غرور دیکھا ہے
تجھے قسم ہے تماشے بھی انکسار کے دیکھ
انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ
مجھے زباں سے نہیں روح سے پکار کے دیکھ
میری زمین پہ چل تیز تیز قدموں سے
پھر اس کے بعد تو جلوے مرے غبار کے دیکھ
یہ اشک دل پہ گریں تو بہت چمکتا ہے
کبھی یہ آئنہ تیزاب سے نکھار کے دیکھ
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
کوئی بتائے یہ اس کے غرور بے جا کو
وہ جنگ میں نے لڑی ہی نہیں جو ہاری ہے
ہر ایک سانس پہ پہرا ہے بے یقینی کا
یہ زندگی تو نہیں موت کی سواری ہے
دعا کرو کہ سلامت رہے مری ہمت
یہ اک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے
کوئی منظر ہے پر اسرار چلو دیکھتے ہیں
کیا ہے کہسار کے اس پار چلو دیکھتے ہیں
یہ نہ سوچا تھا مگر ہجر ہے درپیش سو اب
جینا آساں ہے کہ دشوار چلو دیکھتے ہیں
میں جو صحرا میں اکیلا ہوں تو شاید کوئی
مل ہی جائے ترا بیمار چلو دیکھتے ہیں
صحرائے آرزو میں نہ ہرگز قیام کر
خودداری جنوں کا بھی کچھ احترام کر
کیف الم میں ڈوب خودی کو دوام کر
نظم غم حیات کا یوں اختتام کر
خود کو اسیر پنجۂ صد اہتمام کر
منسوب سرگزشت وفا ان کے نام کر
رنگ شب دراز بدل اشک خون سے
شایان شان صبح طرب اہتمام کر
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں غم شناس مروت میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
حصص میں بانٹ رہے ہیں مجھے مرے احباب
میں کاروبار شراکت میں مارا جاؤں گا
بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا