دھڑکن تھے دعا تھے مرے ہونے کا یقیں تھے
خوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دُکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے بادِ ستم خیز تیری خیر کہ تُو نے
پنچھی وہ اُڑائے ٫ کہ جو اُڑنے کے نہیں تھے
یہ سوچ کے اُس شوخ نے غیروں سےنبھائی
ہم لوگ فقط ہجر سے مرنے کے نہیں تھے
تیرا بھی گلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن
ہم عشق سِوا کُچھ بھی تو کرنے کےنہیں تھے
اِک وصل کی اُمید پہ فُرقت مِیں تمہاری
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
اے گردشِ حالات "تیری خیر کہ تو نے"
وہ زخم بھرے ہیں کہ جو بھرنے کے نہیں تھے
تم سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کا
چھوڑو یہ میرے زخم ہی بھرنے کے نہیں تھے
بھر ڈالا اُنہیں بھی میری بیدار نظر نے
جو زخم کسی طَور بھی بھرنے کے نہیں تھے
اے زیست اِدھر دیکھ کہ ہم نے تیری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
کل رات تیری یاد نے طوفاں وہ اٹھایا
آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے
اُن کو بھی اُتارا ہے بڑے شوق سے ہم نے
جو نقش ابھی دل مِیں اُترنے کے نہیں تھے
اے گردشِ ایام ہمیں رنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے کہ بِکھرنے کے نہیں تھے
راکب مختار
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا
کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا
دید اپنے کی تھی اسے خواہش
آپ کو ہر طرح بنا دیکھا
صورت گل میں کھل کھلا کے ہنسا
شکل بلبل میں چہچہا دیکھا
شمع ہو کر کے اور پروانہ
آپ کو آپ میں جلا دیکھا
کر کے دعویٰ کہیں انا الحق کا
بر سر دار وہ کھنچا دیکھا
تھا وہ برتر شما و ما سے نیاز
پھر وہی اب شما و ما دیکھا
کہیں ہے بادشاہ تخت نشیں
کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا
کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا
کہیں وہ در لباس معشوقاں
بر سر ناز اور ادا دیکھا
کہیں عاشق نیازؔ کی صورت
سینۂ بریاں و دل جلا دیکھا
نیاز بریلوی
‼️ Friendly reminder!
❓ Have you updated your $ICE #BSC address with the one from your #OKX Exchange account yet?
🔄 It's the key to seamless $ICE transactions and zero gas fees!
#IceNetwork#OKXExchange#OKXListing
🌟 Embrace a Decentralized Tomorrow with Ice's Vision!
🎭 Join over 2 million visionaries who have successfully completed KYC, gearing up for the #BSC distribution and the anticipated $ICE listing.
💁♀️ Dive into our latest video to see how #IceNetwork is crafting a decentralized future driven by groundbreaking blockchain innovation.
📝 Our Whitepaper unfolds a world beyond just a digital currency - the dawn of a new decentralized era.
Be part of the change. Be part of the future. 👇
#Binance #HTX #KuCoin #OKX #Bybit #Gateio #Upbit #Crypto #Blockchain #Web3 #Alts #Altcoin #Altcoinseason #Altcoingems #Investing #Cryptocurrency #Cryptocurrencies #Gem #Bitcoin #BTC #Ethereum #BNB #Listing #NFT #NFTs #Uniswap
اردو پڑھانے سے دل ہی اٹھ گیا😂😂😂😂
.. میں کل سے " دھاڑیں مار مار" کر ہنس رہا ہوں اور " زارو قطار" قہقہے لگارہا ہوں۔
میں ایک ادارے میں ٹیچر ہوں اور میٹرک/ انٹر کی اردو کی کلاس پڑھاتاہوں ‘ میں نے اپنے سٹوڈنٹس کا ٹیسٹ لینے کے لیے انہیں کچھ اشعار تشریح کرنے کے لیے دیے۔ جواب میں جو سامنے آیا وہ اپنی جگہ ایک ماسٹر پیس ہے۔ املاء سے تشریح تک سٹوڈنٹس نے ایک نئی زبان کی بنیاد رکھ دی ہے۔
میں نے اپنے سٹوڈنٹس کی اجازت سے اِن پیپرز میں سے نقل "ماری " ہے‘ اسے پڑھئے اور دیکھئے کہ پاکستان میں کیسا کیسا ٹیلنٹ بھرا ہوا ہے۔
سوالنامہ میں اس شعر کی تشریح کرنے کے لیے کہا گیا تھا
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب ۔۔۔۔ تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
ایک ذہین طالبعلم نے لکھا کہ
’’اِس شعر میں مستنصر حسین تارڑ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے انہوں نے ایک دن سوچا کہ کیوں نہ فقیر بن کے پیسہ کمایا جائے‘ لہٰذا وہ کشکول پکڑ کر "چونک" میں کھڑے ہوگئے ‘ اُسی "چونک " میں ایک مداری اہل کرم کا تماشا کر رہا تھا ‘ شاعر کو وہ تماشا اتنا پسند آیا کہ وہ بھیک مانگنے کی "باجائے" وہ تماشا دیکھنے لگ گیا اور یوں کچھ بھی نہ کما سکا۔۔۔!!!‘‘
اگلا شعر تھا ,
رنجش ہی سہی ‘ دل ہی دُکھانے کے لیے آ
۔۔آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ ..
مستقبل کے ایک معمار نے اس کی تشریح کچھ یوں کی کہ
’’یہ شعر نہیں بلکہ گانا ہے اور اس میں "مہندی حسن" نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے محبوب تم میرا دل دُکھانے کے لیے آجاؤ لیکن جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے چلے جانا کیونکہ مجھے ایک فنکشن میں جانا ہے اور میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔‘‘
تیسرا شعر تھا۔۔۔!!!
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا ۔۔۔
میں تو دریاہوں سمندر میں اتر جاؤں گا .
ایک لائق فائق طالبہ نے اس کی تشریح کا حق ادا کر دیا۔۔۔پورے یقین کے ساتھ لکھا کہ
’’یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ شاعر ایک کافر اور گنہگار شخص ہے جو موت اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا اور خود کو دریا کہتا پھرتاہے ‘ اس شعر میں بھی یہ شاعر یہی دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ دریا ہے لہذا مرنے کے بعد بحرِ اوقیانوس میں شامل ہوجائے گا اور یوں منکر نکیر کی پوچھ گچھ سے بچ جائے گا‘ لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ آخرت برحق ہے اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اللہ اسے ہدایت دے۔ آمین۔۔۔!!!
اگلا شعر یہ تھا۔۔۔!!!
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں ۔۔۔
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے ..
ایک سقراط نے اس کو یوں لکھا کہ ’’اس شعر میں شاعرکوئے یار سے لمبا سفر کرکے راولپنڈی کے ’فیض آباد‘ چوک تک "پونچا" ہے لیکن اسے یہ مقام پسند نہیں آیا کیونکہ یہاں بہت شور ہے‘ شاعر یہاں سے نکل کر ٹھنڈے اور پرفضا مقام "دار" پر جانا چاہتا ہے اور کہہ رہاہے کہ بے شک اسے " سُوئے" مارے جائیں‘ وہ ہر حال میں "دار " تک پہنچ کر ہی دم لے گا۔۔۔!!!‘‘
اگلا شعر یہ تھا۔۔۔!!!
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے ۔۔۔
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ..
جواب تھا کہ
’’یہ شعر وصی شاہ کا ہے اور اس میں انہوں نے بڑی "محارت" سے یہ بتایا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو زیادہ سے زیادہ بلند کرلیں‘ اونچی اونچی بلڈنگیں بنائیں تاکہ خدا سے اتنے قریب ہوجائیں کہ خدا آرام سے ہم سے پوچھ لے کہ اے میرے بندے آخر تم اور کتنی " اُنچی" منزلیں بنانا چاہتے ہو۔۔۔؟؟؟‘‘
اگلا شعر پھر بڑا مشکل تھا ۔۔۔!!!
سرہانے میر کے آہستہ بولو ۔۔۔
ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے .
نئی تشریح کے ساتھ اس کا ایک جواب کچھ یوں ملا کہ
’’اس شعر میں "حامد میر " نے اپنی مصروفیات کا رونا رویا ہے‘ وہ دن بھر مصروف رہتے ہیں‘ رات کو ٹی وی پر ٹاک شو کرتے ہیں‘ ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی ‘ ہر روز شیو کرتے ہوئے اُنہیں "ٹک" (زخم) بھی لگ جاتاہے اور اتنی زور کا لگتا ہے کہ وہ سارا دن روتے رہتے ہیں اور روتے روتے سو جاتے ہیں لہٰذا وہ اپنی فیملی سے کہہ رہے ہیں کہ میرے سرہانے آہستہ بولو' مجھے " ٹَک " لگا ھے " ۔😅😅😅
منقول
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں
احمد فراز
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
احمد ندیم قاسمی
جو نہ مل سکے وہی بے وفا، یہ بڑی عجیب سی بات ہے
جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر ،وہی آج تک میرے ساتھ ہے
جو کسی نظر سے عطا ہوئی ،وہی روشنی ہے خیال میں
وہ نہ آ سکے رہوں منتظر ، یہ خلش کہاں تھی وصال میں
میری جستجو کو خبر نہیں ،نہ وہ دن رہے ،نہ وہ رات ہے
کرے پیار لب پہ گِلہ نہ ہو ،یہ کِسی کِسی کا نصیب ہے
یہ کرم ہے اُس کا جفا نہیں ،وہ جُدا بھی رہ کے قریب ہے
وہی آنکھ ہے میرے روبرو ، اُسی ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے
میرا نام تک جو نہ لے سکا،جو مجھے قرار نہ دے سکا
جِسے اختیار تو تھا مگر، مجھے اپنا پیار نہ دے سکا
وہی شخص میری تلاش ہے،وہی درد میری حیات ہے
جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر ،وہی آج تک میرے ساتھ ہے
خواجہ پرویز
MoneyEasily is the #1 marketing network. With over $14 million paid to 300k members, MoneyEasily lets regular users make money with social media and friends! Ooooooo
https://t.co/7nDSs4JqaD
MoneyEasily is the #1 marketing network. With over $14 million paid to 300k members, MoneyEasily lets regular users make money with social media and friends! https://t.co/X5K0xSc3Cs