An Arab scholar in 1011 was placed under house arrest in Cairo for 10 years. He used the time to invent the scientific method, prove how vision actually works, and write a 7-volume book that Newton studied 600 years later.
I read about him last night and could not stop thinking about it.
His name was Ibn al-Haytham. The book is called the "Book of Optics."
The textbook story names Bacon, Galileo, and Descartes as the founders of modern science. All three of them came 600 years after Ibn al-Haytham. All three of them studied his work directly or through Latin translations. The man who actually invented the scientific method was working alone in a single room in Cairo while Europe was still in the Dark Ages.
Here is the story almost nobody tells you.
He was born in Basra around 965 CE. By his 40s he had a reputation across the Arab world as one of the most original minds alive. Then he made the mistake that almost killed him. He claimed publicly that he could regulate the flooding of the Nile. The mad caliph al-Hakim of Cairo summoned him to Egypt to do it.
Ibn al-Haytham took one look at the river and realized the project was impossible with the technology of his era. The caliph had executed dozens of scholars for less. So he faked madness. The caliph believed him and put him under house arrest in his own home in Cairo for the next 10 years.
Most people would have lost their actual mind. He used the time to invent science.
Before him, knowledge worked one way. You quoted authority. If Aristotle had said it, it was true. If Galen had written it, it was correct. The role of a scholar was to memorize and defend the ancient Greeks. I
Ibn al-Haytham broke this completely. He wrote a sentence in the Book of Optics that quietly destroyed 1,400 years of intellectual culture. "The seeker after truth," he said, "is not the one who follows his natural disposition to trust the writings of the ancients. The seeker after truth is the one who suspects them, questions them, and submits only to argument and experiment."
That single sentence is the foundation of modern science. He wrote it 600 years before the European Renaissance.
The second thing he did was build the actual machinery of experimentation.
He insisted that no claim about the physical world was acceptable until it had been verified by an experiment anyone could repeat. He gave detailed instructions for every experiment in his book. He told his readers, in writing, not to take his word for any of it. Build the equipment. Run the tests yourself. Verify or destroy my claims with your own eyes.
The third thing he did was use the method to overturn one of the most settled questions in physics.
The Greeks had taught for centuries that vision worked because the eye emitted invisible rays. Ibn al-Haytham proved them wrong with a darkened room, a small hole, and a wall. The first camera obscura. He showed that light from the outside world enters the eye, the exact opposite of what every Greek thinker had taught.
Two hundred years later his book was translated into Latin in Spain. Roger Bacon cited him. Kepler cited him. Galileo's work on the telescope was built on his optics. Newton's foundational work on light rested on his framework.
Walk into any physics department today. Ask who founded the scientific method. Almost nobody will say Ibn al-Haytham.
The man who invented the way humanity actually knows things did the work under house arrest, with no funding, no laboratory, and a paranoid caliph next door waiting for an excuse to kill him.
He did it anyway. Most of the world is still pretending it was someone else's idea.
57 مسلم اکثریتی ملکوں میں سے صرف ایک نے کھلم کھلا ایٹمی تجربہ کیا ہے۔ کئی اور نے پروگرام شروع کیے،
پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز جنوری 1972 میں ہوا، 1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کھونے کے چند ہفتے بعد۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں سائنسدانوں کو بلایا اور کہا، «ہم گھاس کھائیں گے، مگر بم ضرور بنائیں گے»۔ فیصلہ کن موڑ مئی 1974 میں آیا جب بھارت نے «Smiling Buddha» دھماکہ کیا۔ پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں یورینیم افزودگی تیز کر دی، جو یورپ سے سینٹری فیوج کے ڈیزائن لائے۔ 1987 تک پاکستان «کولڈ ٹیسٹ» کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ مئی 1998 میں بھارت کے تجربوں کے بعد، پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی، بلوچستان میں پانچ دھماکے کر کے جواب دیا۔ محرک سلامتی تھی: روایتی طور پر مضبوط بھارت اور 1971 کی یاد۔ بم کو اندرون ملک «اسلامی بم» کہا گیا، مگر اس کی بنیاد مذہب نہیں، ریاست کی بقا تھی۔
Iraq Atomic Programme
صدام حسین کے عراق نے سب سے ترقی یافتہ عرب ایٹمی پروگرام چلایا۔ 1970 کی دہائی میں عراق نے فرانس سے «اوسیراک» ریسرچ ری ایکٹر خریدا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے اسے ہتھیاروں کا منصوبہ قرار دیا۔ 7 جون 1981 کو اسرائیلی F-16 طیاروں نے «آپریشن اوپیرا» میں اوسیراک تباہ کر دیا۔ عراق نے خفیہ طور پر الیکٹرومیگنیٹک اور سینٹری فیوج طریقوں پر کام شروع کیا۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے ایک وسیع ایٹمی ڈھانچہ دریافت کر کے ختم کر دیا۔ 1995 تک پروگرام عملی طور پر ختم ہو چکا تھا۔ 2003 کے امریکی حملے میں کوئی فعال ہتھیاروں کا پروگرام نہ ملا۔ عراق کا کیس پیشگی انسدادِ پھیلاؤ کی کلاسیکی مثال بن گیا۔
Libya Atomic Program
معمر قذافی نے 1970 سے 2003 تک ایٹمی ہتھیاروں کا پیچھا کیا۔ لیبیا نے A.Q. خان نیٹ ورک سے سینٹری فیوج، ڈیزائن، اور یورینیم ہیکسا فلورائیڈ خریدے۔ مگر پروگرام سست روی سے آگے بڑھا۔ عراق جنگ کے بعد قذافی کو ڈر ہوا کہ اگلی باری اس کی ہے۔ دسمبر 2003 میں لیبیا نے اعلان کیا کہ وہ تمام WMD پروگرام ختم کر دے گا اور اپنا ایٹمی سامان امریکہ اور برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ لیبیا کا کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارت کاری اور دباؤ بغیر جنگ کے بھی پروگرام واپس کروا سکتے ہیں۔
Syria Atomic Program
شام کی کوشش خفیہ اور مختصر تھی۔ شمالی کوریا کی مدد سے اس نے «الکبار» میں ایٹمی ری ایکٹر بنایا، جو شمالی کوریا کے یونگ بیون ری ایکٹر جیسا تھا اور پلوٹونیم بنا سکتا تھا۔ یہ تنصیب IAEA کو ظاہر نہیں کی گئی۔ 6 ستمبر 2007 کو اسرائیلی طیاروں نے رات کے حملے میں اسے تباہ کر دیا۔ IAEA نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ جگہ «بہت ممکنہ طور پر» ایٹمی ری ایکٹر تھی۔ 2011 کے بعد شامی خانہ جنگی نے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ختم کر دیا۔
Iran Atomic Program
ایران کا پروگرام سب سے طویل اور متنازع ہے۔ شاہ کے دور میں 1970 کی دہائی میں امریکی مدد سے شروع ہوا، ایران-عراق جنگ کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا۔ 2002 میں ایک جلاوطن گروپ نے نطنز میں خفیہ افزودگی سائٹس اور اراک میں بھاری پانی کا پلانٹ بے نقاب کیا۔ IAEA نے پایا کہ ایران نے 2003 تک «AMAD پروجیکٹ» کے تحت ہتھیار سازی کی تحقیق کی۔ ایران کہتا ہے پروگرام پرامن ہے اور NPT میں شامل ہے۔ 2015 کے JCPOA معاہدے نے افزودگی روک دی، مگر امریکہ 2018 میں نکل گیا۔ 2026 تک ایران 60% یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جو 90% ہتھیاروں کے درجے سے ایک تکنیکی قدم دور ہے۔ اس نے بم نہیں بنایا، مگر «دہلیز پر کھڑی ریاست» سمجھا جاتا ہے۔ ایران کا حساب امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ڈیٹرنس اور پابندیوں کی قیمت کے درمیان توازن ہے۔
Egypt Atomic Program
ناصر کے دور میں مصر نے 1960 کی دہائی میں اسرائیل کے ڈیمونا ری ایکٹر کے بعد پروگرام پر غور کیا، مگر چھوڑ دیا۔ الجزائر کے چینی ساختہ ری ایکٹر نے 1990 کی دہائی میں تشویش پیدا کی، مگر IAEA کو ہتھیاروں کا کوئی تعلق نہ ملا۔ ترکی NATO شیئرنگ کے تحت امریکی ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے مگر اپنا کبھی نہیں بنایا۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ «اگر ایران نے بم بنایا تو ہم بھی بنائیں گے»، مگر آج کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں۔ وہ بچاؤ کے طور پر امریکہ سے سویلین ایٹمی تعاون مانگ رہا ہے۔
Why Pakistan is successful?
تین عوامل بتاتے ہیں کہ صرف پاکستان کیوں کامیاب ہوا۔ پہلا، تکنیکی اور مالی رکاوٹیں بہت بڑی ہیں۔ دوسرا، بین الاقوامی نظام — NPT، پابندیاں، اسرائیلی اور امریکی پیشگی کارروائی — قیمت بڑھا دیتا ہے۔ تیسرا، اکثر مسلم ریاستیں سلامتی اتحاد سے حل کرتی ہیں، ۔
#Pakistan ,#Iran , #Iraq , #Turkiay ,#Egypt , #Libya. , #saudiarabia , #Syria
اس بچے کا نام منیب ہے
والد کا نام یاد نہیں ہے۔
منیب کا کہنا ہے کہ میں کراچی کا رہائشی تھا۔آج سے چھ سال قبل دوستوں کے ساتھ گھر سے کھیلنے کے لئے نکلا تھا۔ شام کو سب گھر چلے گئے میں وہیں رہ گیا۔ اندھیرا ہوا اور بھٹک گیا۔
پولیس نے مجھے لاوارث پاکر شیلٹر میں جمع کردیا۔
میری امی کا نام فریدہ تھا جو فوت ہوچکی تھی۔ میری چار بہنیں تھیں اور ایک بڑا بھائی بنام مقصود تھا۔
ابو نے شروع سے ہی ہمیں چھوڑ دیا تھا۔
بڑی بہن کا نام اقرا آپی انکے بعد مریم،علیشبا،اور ماہ نور۔
ہم بہن بھائی سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ گھر میں اردو بولتے تھے۔
پہلے ہماری رہائش رنچوڑ لائن محفوظ شیر مال کے پاس تھی۔گھر کے پاس میرٹ پٹی والی ایک آنٹی رہتی تھی وہ ہمارے گھر والوں کو جانتی تھی۔
رنچوڑ لائن سے پھر ہم ناظم آباد دو نمبر شفٹ ہوئے تھے،ہمارے گھر کے پاس ایک چھوٹا پارک تھا،اس پارک میں دو تین جھولے تھے۔
ناظم آباد میں رہائش کے وقت منیب اپنے گھر والوں سے بچھڑا تھا۔
منیب بہت ہی خاموش،سادہ اور معصوم سا بچہ ہے۔اپنے گھر والوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے۔
آپ کا ایک شئیر منیب کو ماں جیسی آپی اور والد جیسے بڑے بھائی کا سایہ دلا سکتا ہے
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
03162529829
21 April 2026
#waliullahmaroof
قومی ہیرو اور محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی فیملی کے ساتھ بنائی گئی یادرگار تصویر، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی کاوشوں کی بدولت آج ہم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہیں۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان یکم اپریل 1936 کو برطانوی دورِ حکومت کے زمانے میں بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے، وہ 10 اکتوبر 2021ء کو اسلام آباد میں انتقال کرگئے وہ ایک ممتاز پاکستانی سائنسدان تھے، جنہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ مئی 1998ء میں بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد انہوں نے اُس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ایٹمی تجربات کرنے کی سفارش کی۔
بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں چاغی کے مقام پر پاکستان نے چھ کامیاب ایٹمی تجربات کیے، جن سے ملک کا دفاع مضبوط اور مستحکم ہوا۔
اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا گیا ہے۔ اسلامی دنیا میں بھی انہیں ایک ہیرو کے طور پر دیکھا گیا۔
#DiscoverPakistan
The person in the framed photo is Muhammad Ali Jinnah, founder of Pakistan (Quaid-e-Azam).
His famous remark on Israel: "Israel is an illegitimate child of Europe. We will never accept Israel as a state."
(This reflects Pakistan's longstanding policy of non-recognition, rooted in his support for Palestinian rights.)
Shehnaaz Gill also cut cakes to mark Sidharth’s birth anniversary and shared a series of unseen pics with him. In one of the photos, they can be seen holding hands.
#SidNaaz#SidharthShukla#ShehnaazGill
https://t.co/f1gUaoxuyd
#SidharthShukla and #ShehnaazGill grew close to each other when they were in the '#BiggBoss' house, though they never officially acknowledged being a couple. Sidharth later won that same season in 2020.
https://t.co/7tV0J9RAqW