عطاالحق قاسمی صاحب کے آفس میں عید لنچ کی کچھ سیلفیز۔
قاسمی صاحب، مجیب الرحمن شامی صاحب، شعیب بن عزیز صاحب، جاوید اختر صاحب، ڈاکٹر انعام الحق اور عباس تابش نمایاں ہیں
شاعری سنی اور سنائی گئی۔ قاسمی صاحب اور شعیب صاحب کی نوک جھونک نے محفل کو کشتِ زعفراں بنائی رکھا۔
خوب دوپہر گذری۔
پانچ دس پیسے، چار آنے تھے
وہ زمانے بھی کیا زمانے تھے
جیب میں ہوں گے ایک دن سو بھی
خواب بچپن کے کیا سہانے تھے
کتنی سستی تھیں وہ سبھی خوشیاں
کیا حسیں وقت وہ پرانے تھے
آج پیسہ ہے عقل اور دانش
کل تلک لوگ ہی سیانے تھے
خوب پچھلی صدی تھی وہ ابرک
جو تعلق تھے سولہ آنے تھے
#اتباف_ابرک
بسا تو لیتے نیا دل میں ہم مکیں لیکن
ملا نہ آپ سے بڑھ کر کوئی حسیں لیکن
جہانِ عشق سے باہر بھی ایک دنیا ہے
دلایا دل کو بہت ہم نے یہ یقیں ، لیکن
سبھی فریب تھا لیکن وہ آخری جملہ
کبھی ملیں گے دوبارہ یہیں کہیں لیکن
یہ اور بات خوشی ساتھ ساتھ ہے ابرک
ہمارے بیچ کوئی رابطہ نہیں لیکن 🍁
منزلوں سے بھی ہوں گزر آیا
جا رہا تھا کدھر، کدھر آیا
ایک بس موڑ مڑ گیا تھا غلط
پھر نہ رستہ ملا نہ گھر آیا
تجھ کو اپنا ہی تھا سمجھ بیٹھے
خود میں ہم کو تھا کیا نظر آیا
بھر گیا ہے کسی کا جی ہم سے
بس یہی سوچ کے جی بھر آیا
اک محبت بھلانے کو ابرک
اک محبت نئی میں کر آیا
#اتباف_ابرک
عمر بھر رسمِ پیش و پس میں رہے
کیا عجب پھر کہ خار و خس میں رہے
آپ کےغم کی دسترس میں رہے
اس برس بھی اُسی برس میں رہے
صید ہوتے تو کوئی بات نہ تھی
ہو کےصیاد ہم قفس میں رہے
بے بسی اور کس کو کہتے ہیں
جو نہیں ہے، اسی کےبس میں رہے
کل ملا کر ہے داستاں اتنی
خود سےملنے کی بس ہوس میں رہے