نذرانہٕ عقیدت بحضُور سرورٍ کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ... اس ادنیٰ خاکسار کی ( اکتوبر ٢٠٢٠) کی ایک کوشش اس احساسِ ندامت کیساتھ کہ ...
& نہ الفاط کے ماہر نہ زباں کے استاد ...
اور
& ھزار بار بشوٸم دھن بمشک و گلاب
ھنوز نامِ تو گفتند کمال بے ادبیست
پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کے بقول انکی کلاٸیوں پر باندھنے کے نشان بھی تھے، کٸی حکومتیں آٸیں اور کٸی گٸیں، اپوزیشن میں آزادی صحافت کا دم بھرنے والے بھی، اور آزاد عدلیہ کے سرخیل بھی شہید صحافیوں کے قاتلوں تک نہ پہنچ سکے، لیکن یقیناً قاتل قدرت کے انصاف سے نہیں بچ سکیں گے، 2
19 سال پہلے آج ہی کی رات، دورِ آمریت میں، میرے بڑے بھاٸی سینٸر صحافی محمد اسماعیل خان (1953 - 2006) کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا تھا اور یکم نومبر کو انکے دفتر پی پی آٸی کے قریب ہی جہاں اِس وقت نیشنل پریس کلب کی عمارت موجود ہے گرین بیلٹ ایریا سے پولیس کے بقول انکی میت ملی تھی،1