خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے دھی رانی ڈی جی خان MNA محترمہ زرتاج گل وزیر صاحبہ کو سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر ویمن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
#PTI_Folllowers@zartajgulwazir
چار برس میں 45 ہزار ارب کا قرضہ ،
چار برس میں 4 ہزار 3 سو ارب کی پیٹرولیم لیوی ،
مہنگی بجلی اور عوام سے ہر چیز پر بھاری ٹیکس لے کر ان کو خودکشیوں تک لانے کے بعد ستھرا پنجاب پر سینکڑوں ارب لگا کر اگر چند سڑکیں صاف کر دی ہیں تو وہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ،
کسانوں ، تاجروں ، انڈسٹری والوں ، دکانداروں ، رئیل اسٹیٹ ، کنسٹرکشن اور تنخواہ دار طبقے سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ،
پنجاب کے ہسپتالوں میں جا کر دیکھیں کہ ہیلتھ کارڈ ختم ہونے کے بعد لوگ کیسے تڑپ رہے ہیں،
شریف خاندان کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ دکھاوے والا پراجیکٹ کرو ، جن چیزوں پر پیسہ خرچ کرنا ہو وہاں نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے نتائج دیر سے آنے ہوتے ہیں ،
ایک بات اور، گو کہ آپ کے نظریات پرو ن لیگ ہیں لیکن آپ اپ رائٹ صحافی ہیں ، آپ کبھی پیسے لے کر کوئی ٹویٹ نہیں کر سکتے لیکن آپ کو ستھرا پنجاب پر ٹویٹ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ پی آر فرمز نے صحافیوں سے رابطے کئے اور ستھرا پنجاب پر ٹویٹ کرنے کے اچھے خاصے پیسے آفر کیے ، ایسے میں آپ جیسے ایماندار صحافیوں کے مفت تعریفی ٹویٹس سے بھی کچھ لوگ غلط تاثر لے سکتے ہیں کہ یہ بھی ٹویٹ پیسے لے کر نہ کیا گیا ہو ، حالانکہ آپ کبھی یہ کام نہیں کر سکتے
گلگت میں انتخابی کمپین کو گناہ عظیم بنا دیا گیا ہے، تحریک انصاف کی ریلی کو غذر حلقہ میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا، رکاوٹیں لگا کر ریلی کا راستہ روکا ہوا ہے
جتنا مرضی رکاوٹیں لگا لو 7 جون کو گلگت کی عوام اسٹیبلشمنٹ کے ٹاوٹس کی سیاست کا جنازہ نکالے گی
وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان الیکشن پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم سے پارٹی کا نشان چھین کر، ہمیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ گرفتار کیا جاتا ہے۔ چار سال گزرنے کے بعد بھی اگر یہ نظام وہاں ایک الیکشن کروانے کی ہمت نہیں کر پا رہا، تو یہ اس کی انتظامی ناکامی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے عوامی سیلاب سے کانپتی ہوئی ٹانگوں کا ثبوت ہے۔ ہمیں گلگت میں روک کر گرفتار کرکے صوبہ بدر کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو VIP پروٹوکول اور مکمل سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔
پنجاب کی بوکھلائی ہوئی خوف زدہ آمرانہ طرز کی حکومت نے کوٹ لکھپت جیل میں نورین خان نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ کو آج جیل کے باہر شدید گرمی میں چار پانچ گھنٹے ذلیل و خوار کیا اور انہیں حسان نیازی سے ملاقات کے حق سے محروم رکھا ایک ماں اپنے بیٹے سے ملاقات کی آرزومند تھی مگر اس ماں کو اپنے جگر گوشے سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی
ظلم کی انتہا !!!
الؔلہ کے بعد، قوم کے وارث پاکستان کی عوام ہیں۔ صعف ان کے پاس حق ہے کہ جس پر وہ چاہیں ریڈ لائن لگائیں۔ بند کمروں میں فیصلے کرنے والی اشرافیہ کے پاس یہ حق نہیں ہے۔
روف کلاسرا صاحب نے بات چھیڑی تو سنتے جائیے۔وزارت اطلاعات کے ایک انتہائی سینئیر ترین عہدے دار نے مجھے خود بتایا کہ ان کے دور حکومت میں خان صاحب کے ایک انتہائی قریب ترین عزیز(نام بتانا مناسب نہیں) نے ہم سے ایک لڑکی کو پی ٹی وی میں کسی پوزیشن پر ایڈجسٹ کرنے کی سفارش کی۔ہمیں چوں کہ خان صاحب کی طبیعت کا اندازہ تھا لہذا ہم نے دو چار دن اسے ٹالا۔جب اس کا اصرار بڑھنے لگا تو انہوں نے ایک شام تنہائی میں خان صاحب سے اس بات کا ذکر کیا کہ آپ کا فلاں عزیز ایک پوسٹ کے لیے ایک لڑکی کی ایڈجسٹمنٹ چاہتا ہے اور پوسٹ بھی عام سی ہے۔ خان صاحب یہ سن کر شدید ناراض ہوئے کہ اس کا پی ٹی وی میں آنا جانا کیوں ہے۔انہوں نے کہا کہ سر اس نے فون پر ریکوسٹ کی ہے اور سی وی بھیجا ہے۔اس پر خان صاحب نے کہا کہ وہ مجھے کبھی پی ٹی وی کے نزدیک بھی نظر نہ آئے اور موضوع بدل لیا۔
🚨 لاقانونیت کی انتہا!
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد واپسی پر مجھے اغوا کر لیا گیا۔ ایک نامعلوم مقام پر محبوس رکھ کر مجھ پر بدترین تشدد کیا گیا، جس کی تاب نہ لاتے ہوئے مجھے دل کا دورہ (Heart Attack) بھی پڑا۔ ملک میں قانون اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں!
کوہٹہ لہو لہان ہے،
مہنگائی نے پورے ملک میں عوام کی خوشیوں اور سفید پوشی کو نوچ لیا ہے،
اس بار بھی بہت لوگوں کے پیارے جیل کی دیواروں کے پیچھے ہیں،
عوامی لیڈر اغواء ہے،
میں کس کو کہوں عید مبارک؟
کتنی مشکل سے اس بابا نے یہ جانور پالا ہوگا۔ کتنی امید کے ساتھ مارکیٹ آیا ہوگا کہ دو پیسے کما کر گھر لے جاؤں گا۔ لیکن ظالموں نے قربانی بھی کرنی ہے، رب کو خوش بھی کرنا ہے، اور وہ بھی جعلی روپیو سے؟چلو کم از کم اصلی پیسے ہی دے دیتے، مگر ایک غریب بابا کو جعلی نوٹ پکڑا دیے۔ کیا ایسی دھوکے والی قربانی واقعی قبول ہو سکتی ہے؟ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، نیت، حلال رزق اور انسانیت بھی ضروری