خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے دھی رانی ڈی جی خان MNA محترمہ زرتاج گل وزیر صاحبہ کو سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر ویمن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
#PTI_Folllowers@zartajgulwazir
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 🌹
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ♥️
میرے #خاتم_النبیین_محمدﷺ کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا✨
ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت آپﷺ کااُمتی ہوناہے.ہم ہر روز نبی ﷺ کی شان میں ٹویٹس کے گلدستے پیش کرتے ہیں. اگر آپ بھی گروپ میں شامل ہونا چاہتے ہیں کمنٹ ⬇️yes
IK, the voice of millions, now faces relentless injustice. From false charges to imprisonment. His fight for justice and true democracy is being crushed under the weight of oppression. The nation stands with IK unwavering. Pak deserves fairness transparency. #JusticeForImranKhan
حالت اب عمران خان کی رہائی سے صرف ملاقات تک آ چکی ہے، کور کمیٹی کے اجلاس میں سہیل آفریدی پر تنقید کی کوشش کی گئی، مشال یوسفزئی جسے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ شاذ و نادر ہی جانتے تھے ایک دم سے سینیٹر بھی بن گئی اور اب کور کمیٹی کو dictate بھی کروا رہی ہے کہ سب کچھ بیرسٹر سیف کے حوالے کر دیا جائے اور صرف وہ ہی عمران خان سے ملاقات کا راستہ نکال سکتا ہے، محترمہ نے سہیل آفریدی پر کرپشن کے الزامات لگا کر ناکام بھی قرار دے دیا، 9 مئی کے بعد اس طرح کے لوگ سیاست میں کیسے لائے گئے؟ عمران خان سے اگر ان لوگوں کی اتنی وابستگی ہوتی تو یہ 9 مئی سے پہلے بھی تحریکِ انصاف کے جلسوں میں نظر آتے کسی تنظیمی عہدوں پر ہوتے چاہے کسی چھوٹے عہدوں پر ہوتے لیکن کم از کم ہوتے تو، یہ 9 مئی کے بعد آنے والے لوگ اوپر چھائے ہوئے ہیں، مشال یوسفزئی کے احکامات کے مطابق ہر مسئلے کا حل بیرسٹر سیف ہے اور باقی تمام تر ناکامی کی زمہ داری سہیل آفریدی پر ڈال رہی ہے، ایسی کیا خاصیت ہے بیرسٹر سیف میں؟
#PakistanUnderMartialLaw
خیبرپختونخوا میں لاقانونیت اور بربریت کا کھیل جاری۔
ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ کو بنوں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے وقت کی پولیس کی بدتمیزی دیکھیں کیسے ایک عوامی نمائندے کو دھکے مار کر لیجایا جارہا ہے۔
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
17 لاکھ آبادی پر مشتمل انتہائی حساس ضلع بنوں تحریک انصاف کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی عالمِ دین اور ساوتھ ریجن کے ایک بہت بڑے درسگاہ المرکز الاسلامی کےمہتمم مولانا نسیم علی شاہ الہاشمی کو ان کے رہائش گاہ سے غیرقانونی طور پر بنوں پولیس نے اٹھا لیا ہے.
ایم این اے نسیم علی شاہ کو اغوا کر لیا گیا منتخب نمائندوں کی اس قدر توہین کسی مارشل لاء میں بھی نہی کی گئی ہو گی جتنی اس غیر جمہوری اور قابض گورنر راج کی آڑ میں اس ان ڈکلیئر مارشل لاء میں کی جارہی ہے ۔
صدیق جان کا انکشاف
عمران خان نے نورین نیازی کو پیغام دے کر بیجھا کہ حقیقی آزادی کی تحریک چلانا اکیلا خیبرپختونخوا والوں کی زمہ داری نہیں ہے یہ زمہ داری پنجاب سندھ بلوچستان اور پوری تنظیم کی ہے لیکن یہاں پنجاب سندھ بلوچستان والوں سے کوئی سوال نہیں کرتا اور مسلسل شکست خوردہ گفتگو ہو رہی ہے سوشل میڈیا کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
عاصم منیر کی ڈگری کہاں ہے :
تمام قابل جرنیل ، چاہے وہ بعد میں ڈکٹیٹر ہی بنے ، کسی نہ کسی مشہور امریکی یا برطانوی فوجی کالج گئے اور وہاں کامیاب کورس کرنے کے بعد پھر جرنل بنے - گروک کی لسٹ کے مطابق :
-جنرل اسکندر مرزا پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے برطانیہ کے رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ سے کامیابی سے گریجویشن کیا اور کنگز کمیشن حاصل کیا۔
- فیلڈ مارشل محمد ایوب خان بھی رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ گئے تھے۔
- جنرل یحییٰ خان نے بھارت کے ڈہرہ دون میں کرنل براؤن کیمبرج اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔
- جنرل ضیاء الحق، جنرل رحیم الدین خان، جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل اشفاق کیانی امریکہ کے سی جی ایس سی فورٹ لیون ورتھ کالج کے گریجویٹ تھے۔
- جنرل راحیل شریف رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز (آر سی ڈی ایس)، برطانیہ؛ کمپنی کمانڈرز کورس، جرمنی؛ اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کینیڈا (امتيازی نمبروں کے ساتھ) گئے۔
- جنرل پرویز مشرف رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز (آر سی ڈی ایس)، برطانیہ گئے۔
- جنرل قمر باجوہ، اگرچہ فرسٹ کلاس ڈفر تھے، کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کینیڈا اور نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی، کیلیفورنیا، امریکہ گئے۔
ان سب کے مقابلے میں سپر گروک کہتا ہے کہ جنرل عاصم منیر گزشتہ 40 سال سے زیادہ عرصے میں پہلے ایسے چیف آف آرمی سٹاف ہیں جنہوں نے مغربی (برطانیہ/امریکہ/کینیڈا) ملٹری اکیڈمی یا سٹاف کالج کی تربیت حاصل نہیں کی۔ ان کی غیر ملکی تربیت فوجی اسکول/جے جی ایس ڈی ایف کیمپ تاکیگاہارا، جاپان، اور ملائیشین آرمڈ فورسز کالج، ملائیشیا میں ہوئی ۔
تو یحییٰ خان اور عاصم منیر میں ایک بات تو مشترک ہے؛ دونوں نے کوئی معیاری غیر ملکی کورس نہیں کیا اور توقع کے مطابق احمقانہ حرکتیں کیں۔ ایک نے ملک ہی توڑ دیا اور دوسرے نے بیڑا ہی غرق کر دیا -
ان سب جرنیلوں نے گریجویشن کے لیے جو پیپرز اور تھیسز لکھے ہیں وہ آن لائن دستیاب ہیں لیکن جنرل عاصم منیر کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے جو وہ دکھا سکیں۔
کیا ڈی جی آئی ایس پی آر @OfficialDGISPR براہ کرم ملائیشیا میں ان کے پیپر کا ٹرانسکرپٹ جاری کریں گے تاکے ہم سب انکی قابلیت دیکھ سکیں ؟
گروک نے سوچ کے بتایا کے عاصم منیر کن ڈگریوں کے ماسٹر ہو سکتے ہیں ، تصویر میں ظاہر ہے -
The emergency and governor rule in Khyber Pakhtunkhwa was never about cracking down on terrorism, it was a naked power grab and an excuse to crackdown on Imran Khan’s PTI.
#AsimLaw
مسجد میں بوسہ لینے پر ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔۔۔ کیسے کیسے مذہبی انتہا پسند مسلط ہیں ۔۔۔
نبی کا طرز عمل تو کچھ اور سکھاتا ہے لیکن ملاؤں اور سعودیوں کا مذہب سر قلم کرنے کا حکم دے دیتا ہے ۔۔۔ ان مولویوں سے جان چھڑائیں یہ آپ کو انتہا پسند بنائیں گے، نفرت سکھائیں گے، یہ ہر وہ کام کریں گے جس سے ان کا کاروبار چمکے گا یہ انسانیت اور آپ کی نسلوں کے لئے خطرہ ہیں ۔۔۔
پاکستانی تاریخ میں مارشل لا کے بعد وزرائے اعظم کو بغیر مقدمے کے حراست میں رکھنے اور گرفتاری کے کئی دنوں بعد مقدمات درج کرنے کی مثالیں تو موجود ہیں، مگر یہ مثال نہیں ملتی کہ نام نہاد جمہوری ادوار میں کسی صوبے کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو لاپتہ کر دیا گیا ہو۔ وزیر اعلیٰ پختونخواہ سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی گمشدگی کا آج دسواں دن ہے جب پشاور ہائی کورٹ میں بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہونی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اپنے ہی صوبے کے دو سب سے بڑے آئینی عہدیداروں کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کرتی ہے یا پھر نظریۂ ضرورت کے تسلسل کو مزید تقویت دیتی ہے۔
”خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرتے وقت جھوٹا بیانیہ چلایا گیا کہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے۔ آج میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں یا عسکری ٹاؤٹس کو سن لیں، سارا دن صرف معدنیات کی بات ہو رہی ہے۔ گورنر راج لگانے کے بعد صوبے میں دہشتگردی کے خلاف کیا کاروائی ہوئی ہے؟ بنوں میں گھنٹوں لاشیں لٹکا کر رکھی جاتی ہیں، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے گھر سے بچے اغواء ہو جاتے ہیں، کیا یہ ہے کارکردگی؟ اربوں روپے مالیت کی معدنیات عسکری ادارے کر رہے ہیں، یعنی گورنر راج لگانے کا واحد مقصد معدنیات نکالنا تھا۔“ بیرسٹر شہزاد اکبر