رب اور بندہ
یہ میری عملی زندگی کے ابتدائی دنوں کا قصہ ہے۔ والدین کی معیت میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے رمضان کے آخری عشرے میں حرم پہنچا۔ اُس رات حرم میں جو کچھ پیش آیا، وہ ایک الگ سرگزشت ہے؛ اسے پھر کبھی رقم کروں گا۔
یہ عمرہ کی ادئیگی کے بعد والی شام تھی۔
مغرب سے کچھ پہلے میں حرم کی طرف گامزن تھا۔ ارادہ تھا کہ آج ا��طاری حرم میں کروں گا۔ مسجد کے اندر داخل ہوا تو دائیں بائیں بڑے بڑے دسترخوان بچھے ہوئے تھے۔ میزبان روزہ داروں کو گھیر گھیر کر اپنے دسترخوان پر بٹھا رہے تھے۔
یہ بھی ایک عجیب منظر تھا۔ میں نے تو چند میزبانوں کو ایک دوسرے سے لڑتے بھی دیکھا۔
“یہ روزہ دار میرا مہمان ہے۔”
“پہلے میں نے دیکھا تھا۔”
“پہلے میں نے آواز دی تھی۔”
“یہ میری طرف متوجہ ہوا تھا۔”
گویا روزہ دار کم اور میزبان زیادہ تھے۔
مجھے بھی ایک میزبان نے ہاتھ پکڑ کر زبردستی اپنے دسترخوان پر بٹھا لیا۔ سامنے پانی کا ایک گلاس، چند کھجوریں، دہی کا چھوٹا سا ڈبہ اور کچھ روٹیاں رکھی تھیں۔ میں بظاہر وہاں بیٹھ گیا مگر دل مطمئن نہ ہوا۔ چنانچہ اپنے میزبان کو نظر میں رکھا اور جیسے ہی وہ کسی دوسرے روزہ دار کو گھیرنے اِدھر اُدھر ہوا، میں چھلاوے کی طرح اُٹھا اور ہوا ہو گیا۔
آج سوچتا ہوں ��و سمجھ نہیں آتی کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔
میں حرم کے اندرونی حصے سے مطاف کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں کئی میزبانوں نے روکا، دعوت دی، ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی مگر میں سب سے جان چھڑاتا، بچتا بچاتا مطاف میں داخل ہوا اور طواف شروع کر دیا۔
کعبے پر نظر پڑی تو نجانے کیوں ایک خیال دل میں آیا اور دھیرے دھیرے ایک ضد میں بدل گیا۔ دل ہی دل میں، میں نے اپنے رب کو پکارا:
“اے اللّہ میں تیرے گھر آیا ہوں، تیرا مہمان ہوں، اور روزے سے ہوں۔ تو جانتا ہے کہ وقتِ افطار قریب ہے اور مجھے شدید طلب بھی ہے۔
مگر جب میں تیرا مہمان ہوں تو کسی اور کے دسترخوان سے افطار کیوں کروں؟
مجھے نہیں پتا! آج میری افطاری کا انتظام میرا رب کرے۔
وہ کرے جس کے گھر آیا ہوں۔
وہ کرے جسے سجدہ کرنے یہاں اتنی دور آیا ہوں۔
وہ کرے جس کے گھر کا طواف بھوکا پیاسہ کر رہا ہوں۔
مجھے نہیں پتا! میں یہیں کہیں بیٹھ جاوں گا، نہیں افطار کراتے تو بھوکا رہوں گا۔
نماز کے بعد پھر طواف کروں گا اور باہر جا کر خود کہیں افطار کا انتظام کروں گا۔”
پتہ نہیں کیوں یہ خیال ذہن میں آیا جس کا مجھے آج بھی قلق ہے۔
میں جانے کس زعم اور غرور میں طواف اور نمازِ طواف کے بعد سب سے آگے والی صف میں جا کر بیٹھ گیا اور درود و سلام اور دیگر دعائیں پڑھتا رہا۔ مگر لاشعور میں وہی خواہش، وہی ضد سمائی ہوئی تھی:
تیرا مہمان ہوں، میری میزبانی کر!
جب بیٹھا تو مغرب کی اذان ہونے میں چند ساعتیں ہی باقی تھیں۔ میں چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے رب کی ربوبیت کو گویا آزمانے چلا تھا۔
پھر اذان ہوئی۔
میں نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔
پہلے کعبے کو دیکھا پھر اپنے سامنے جائے سجدہ کو۔
سب سے پہلی نظر پانی کے ایک گلاس پر پڑی، ساتھ ہی کھجوریں پڑی تھیں۔
میری آنکھوں میں سیلاب امڈ آی��۔ دھندلی آنکھوں سے صاف نظر تو نہ آرہا تھا مگر اندازہ ہوا کہ میری جھولی میں دسیوں کھانے کے پیکٹ پڑے ہیں۔
آنکھوں میں آتے پانی سے جب خلاصی نہ ملی تو اندازے سے پانی کے گلاس کو تھاما اور منہ کو لگایا۔
دو گھونٹ ہی پی سکا تھا کہ ذہن میں ایک خیال اُبھرا۔
نہیں، خیال بھی شاید چھوٹا لفظ ہے۔
وہ ایک ایسا جملہ تھا کہ فہم میں آتے ہی پورے وجود کو لرزا گیا۔
آنکھوں میں امڈتے پانی میں اور طغیانی آ گئی۔
میں نے گلاس زمین پر رکھا۔
اُٹھا۔
اور ایک دفعہ پھر طواف کرنے والوں میں شامل ہو گیا۔
اُس کے بعد عشاء تک کیا ہوا آج حافظے میں محفوظ نہیں۔
مگر وہ خیال، جو اُس لمحے دل پر اترا تھا آج بھی کبھی کبھی مجھے ڈرا دیتا ہے:
“میری ربوبیت کا امتحان لیتے ہو! لو، ہو گئی تسلی۔ اب میری باری!”
(ع گیلانی)
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں! (۱۱)
ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد زینب دو دن شیخوپورہ رہیں۔
وہ گھر ا��انک رشتوں سے بھر گیا۔
شعیب کے والد کو ایک پھوپھی مل گئی۔
دادا کو ایک بہن۔
زینب کے بیٹے کو ماموں۔
پوتے کو والد کا ننھیالی خاندان جس کے وجود کا اسے ایک ہفتہ پہلے تک علم بھی نہ تھا۔
گھر میں زبانوں کا بھی عجیب منظر تھا۔
زینب اپنے بیٹے اور پوتے سے پشتو میں گفتگو کرتیں۔
شعیب اور اس کے والد سے اردو میں۔
اور پپو کمرے میں آتے ہی جیسے کوئی چھپی ہوئی گرہ کھل جاتی۔
“پپو بھاجی۔۔۔”
اور باقی گفتگو پنجابی میں بہنے لگتی۔
ایک دن عمران، جس سے شعیب کی ہسپتال میں پہلی ملاقات ہوئی تھی، ہنس کر اس کے پاس آیا۔
“شعیب صاب۔”
“جی؟”
“یاد ہے ہسپتال میں کیا کہا تھا؟”
“��یا؟”
“رشتہ داری نکل آئے گا۔”
شعیب کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر دونوں ہنس پڑے۔
“ہاں۔ مگر تم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اتنی قریبی نکل آئے گی۔”
دو دن بعد زینب کو پشاور واپس جانا تھا۔
گاڑی دروازے پر کھڑی تھی۔
سب نے انہیں الوداع کہا۔
آخر میں دادا آگے بڑھے۔
زینب نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔
پھر دادا نے کہا:
“زی��و۔”
“جی پپو بھاجی۔”
دادا نے ان کے ہاتھ کو دیکھا۔
وہی چھوٹا سا ہاتھ جو کبھی پانچ سال کی بچی کا تھا۔
وہی ہاتھ جو پچھتر برس پہلے ہجوم میں چھوٹ گیا تھا۔
انہوں نے انگلیاں مضبوطی سے تھام لیں۔
“اس واری ہتھ نہ چھڈیں۔”
زینب کے ہونٹ کانپ گئے۔
“نہیں چھڈاں گی۔”
دادا نے ہنسنے کی کوشش کی۔
“میں پشاور آواں گا۔”
“ضرور آنا۔”
“انتظار کریں گی؟”
زینب نے آنسو پونچھے۔
“میں تے پچھتر سال انتظار کیتا اے۔”
دادا کا چہرہ بگڑ گیا۔
دونوں ایک بار پھر گلے لگ گئے۔
کچھ دیر بعد گاڑی چل پڑی۔
دادا گیٹ کے باہر کھڑے اسے دیکھتے رہے۔
ایک ہاتھ میں لاٹھی۔
دوسرا ہوا میں۔
گاڑی سڑک کے موڑ پر پہنچی۔
پھر نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
دادا کا ہاتھ مگر اب بھی اٹھا ہوا تھا۔
شعیب ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
کچھ دیر دونوں خالی سڑک دیکھتے رہے۔
پھر شعیب نے کہا:
“چلیں دادا جان؟”
دادا نے لاٹھی زمین پر رکھی۔
ایک قدم گھر کی طرف بڑھایا۔
پھر رک گئے۔
“شعیب۔”
“جی؟”
“بندہ جدوں کسے نوں کہندا اے نا۔۔۔ میں واپس آواں گا۔۔۔”
وہ مسکرائے۔
“کدی کدی واپس آون وچ پچھتر سال لگ جاندے نیں۔”
شعیب نے ان کا بازو تھام لیا۔
دونوں آہستہ آہستہ اندر جانے لگے۔
شعیب نے پلٹ کر ایک بار خالی سڑک کو دیکھا۔
اور پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا کہ تقسیمِ ہند میں صرف گھر، زمینیں اور شہر نہیں چھوٹے تھے۔
کہیں کسی کا باپ چھوٹا تھا۔
کہیں ماں۔
کہیں بیٹا۔
کہیں بہن۔
اور کہیں محض ایک پانچ سالہ بچی کا ہاتھ۔
لوگ نئے ملک میں آ گئے۔
نئے گھر بن گئے۔
نئی زبانیں سیکھ لیں۔
نئے لہجے اپنا لیے۔
نئی نسلیں پیدا ہو گئیں۔
وقت نے تصویروں کے رنگ مٹا دیے۔
نام دھندلے ہو گئے۔
یادداشت کمزور پڑ گئی۔
زبانیں بھی بدل گئیں۔
مگر بعض لفظ نہیں بدلتے۔
بعض نام نہیں بدلتے۔
بعض آوازیں نہیں بدلتی ہیں۔
اور بعض انتظار بوڑھے نہیں ہوتے۔
وہ دل ��ے کسی کونے میں ویسے ہی بیٹھے رہتے ہیں جیسے پہلے دن تھے۔
اور پھر کبھی—
کسی بے تعلق شام،
کسی اجنبی ہسپتال،
کسی دوسرے مریض کے ساتھ والے بستر پر—
پچھتر برس سے رکی ہوئی ایک آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے:
“پپو بھاجی۔۔۔”
اور آدمی جان لیتا ہے—
کچھ لوگ گم نہیں ہوتے۔
وہ صرف—
واپس آنے میں دیر کر دیتے ہیں۔
(ع گیلانی)
افسانہ
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں! (۱)
لاہور کی شامیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔
دفتر سے نکلتے وقت آدمی سمجھتا ہے کہ بس اب گھر پہنچے گا، کپڑے بدلے گا، چائے کا کپ ہاتھ میں لے گا اور دنیا سے چند گھنٹوں کے لیے قطع تعلق کر لے گا۔ مگر لاہور کی سڑکیں آدمی کو اتنی آسانی سے گھر نہیں پہنچنے دیتیں۔ کبھی نہر پر ٹریفک، کبھی کسی انڈر پاس کے عین درمیان کسی صاحب کی گاڑی کا یہ فیصلہ کہ اب مزید نہیں چلنا، اور کبھی موٹرسائیکل سواروں کی وہ بے خوف نسل جو غالباً موت کو بھی اوورٹیک کر کے نکل جانے پر یقین رکھتی ہے۔
شعیب اس روز گارڈن ٹاؤن میں واقع اپنے دفتر سے نکلا تو ذہن میں صرف آرام و آسائش کا منصوبہ تھا۔ مگر ابھی فیصل ٹاؤن کے قریب ہی پہنچا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔
بیوی، ندرت کا فون تھا۔
“کہاں پہنچے؟”
“ابھی راستے میں ہوں۔”
“زریں کا فون آیا تھا۔”
شعیب نے بریک پر پاؤں ذرا نرم کیا۔
“خیریت؟”
“اکمل بھائی ڈاکٹرز ہسپتال میں ہیں۔”
“کیا ہوا؟”
“دو دن پہلے ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ پہلے آئی سی یو میں تھے۔ اب روم میں منتقل کر دیا ہے۔”
شعیب کے چہرے سے تھکن کا تاثر کچھ کم ہوا۔
“اب کیسے ہیں؟”
“زریں کہہ رہی تھی بہتر ہیں۔ میں سوچ رہی تھی آج ہی چلے جائیں۔”
شعیب نے سامنے گاڑیوں کی قطار دیکھی۔ چند لمحے خاموش رہا۔
“ٹھیک ہے۔ تیار رہنا۔ گھر سے تمہیں لے لیتا ہوں۔”
“بہت تھکے ہوئے ہیں تو کل۔۔۔”
“نہیں! چلے جاتے ہیں۔”
فون بند ہو گیا۔
شعیب کو اُس وقت ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ ایک دوست کی عیادت کے لیے کیا گیا یہ معمولی سا فیصلہ اس شام کو اس کی زندگی کی ناقابلِ فراموش شام بنا دے گا۔
(ع گیلانی)
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں! (۱۰)
اگلے چند دن دادا روز ہسپتال گئے۔
زینب کی طبیعت حیرت انگیز طور پر بہتر ہونے لگی۔
دادا کی بھی۔
جو شخص گھر میں دس قدم چل کر بیٹھ جاتا تھا، اب بہن کے پاس دو گھنٹے بیٹھا رہتا۔
دونوں پچھتر سال پرانی باتیں کرتے۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ پپو کے سامنے زینب کو پنجابی بولنے کے لیے سوچنا نہیں پڑتا تھا۔
شروع میں کچھ لفظ اٹکتے۔
کبھی پشتو کا لفظ درمیان میں آ جاتا۔
کبھی وہ کسی شے کا پنجابی نام بھول کر اردو میں کہہ دیتیں۔
پھر دادا لفظ بتاتے اور زینب ہنس پڑتیں۔
دو دن میں جیسے زبان کی گرد جھڑنے لگی۔
یادیں زبان کو واپس کھینچ رہی تھیں۔
“یاد اے ساڈے صحن وچ شہتوت دا درخت؟”
“ہاں!”
“تُو کچیاں شہتوتاں توڑ کے کھاندی سی۔”
“جھوٹ! تسی کھاندے سی!”
“میں؟ میں تاں بڑا شریف ساں۔”
زینب نے ہاتھ اٹھا کر پیشانی پر مارا۔
“ہائے اللہ۔۔۔ پپو بھاجی، ہُنڑ وی جھوٹ بولدے او!”
کمرہ قہقہوں سے بھر جاتا۔
ایک دن عمران حیرت سے اپنی دادی کو سنتا رہا، پھر بولا:
“دادی جان، آپ اتنا پنجابی بول لیتا ہے؟ ہمیں تو کبھی نہیں بتایا!”
زینب چند لمحے خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
“مینوں وی نئیں سی پتا۔۔۔”
دادا نے ہنس کر کہا:
“زبان نئیں بھُلی سی۔ بندہ بھُل گیا سی جیہڑے نال بولنی سی۔”
کمرے میں اچانک خاموشی چھا گئی۔
زینب نے بھائی کی طرف دیکھا۔
آنکھیں بھیگ گئیں۔
وہ چند دن وہ پرانی باتیں یاد کرتے رہے۔
کسی یاد میں ماں آ جاتی۔
کسی میں باپ۔
کسی میں وہ بھائی بہن جو پاکستان نہ پہنچ سکے۔
وہ ہنستے ہنستے رو پڑتے۔
پھر روتے روتے ہنس دیتے۔
(ع گیلانی)
نظر
بیوی کو شوہر کی نظر لگنے کا ادراک تب ہوتا ہے، جب شوہر کا کہنا،“ہائے نی تیرا لک!” پندرہ بیس سال بعد، بیوی کے کہنے، “ہائے وے میرا لک!” میں بدل جاتا ہے۔
(ع گیلانی)
ہنڑ او گلاں نئیں ریاں
یونیورسٹی کے زمانے میں ایک رات اپنے ایک ایسے ہم جماعت کے ساتھ موٹرسائیکل پر ہاسٹل واپس آ رہا تھا جس کے اوصافِ حمیدہ بیان کرنے بیٹھوں تو ’’کم عقل، کم فہم، کم ظرف اور کم خصلت‘‘ کہنے کے بعد بھی دل مطمئن نہیں ہوتا کہ شاید ابھی انصاف نہیں ہوا۔
مانگے کی موٹرسائیکل کو موصوف دوڑائے چلے جا رہے تھے۔ اور دنیا کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ آدمی اپنی موٹرسائیکل اتنی تیز نہیں چلاتا جتنی دوسرے کی۔ اپنی گاڑی میں گڑھا دیکھ کر بریک لگاتا ہے، مانگے کی گاڑی میں گڑھا دیکھ کر سوچتا ہے:
’’آج اسے اُڑ کر پار کرنا ہے!‘‘
چنانچہ حضرت مانگے کی موٹرسائیکل کو یوں اُڑائے جا رہے تھے جیسے ہاسٹل کے دروازے بند ہونے میں چند منٹ باقی ہوں، پیچھے پولیس لگی ہو اور آگے کسی نے مفت بریانی کی دیگ کھول رکھی ہو۔
میں پچھلی نشست پر بیٹھا زندگی، موت اور اپنے اس فیصلے پر غور کر رہا تھا کہ آخر میں اس شخص کے پیچھے بیٹھا ہی کیوں تھا، کہ اچانک سڑک کے کنارے پڑی بجری کا ڈھیر سامنے آ گیا۔
اب بجری تو بے چاری وہیں پڑی تھی۔ نہ اس نے ہمیں بلایا تھا، نہ کسی سے دشمنی تھی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ میرے ہم جماعت نے ایک گہرے کھڈے سے بچنے کے لیے یکدم ہینڈل گھمایا تو موٹرسائیکل قابو سے باہر ہو گئی اور اس کا رخ بجری کے ڈھیر کی طرف ہو گیا۔
اگلا پہیہ بجری میں پھنس کر جام ہو گیا۔
موٹرسائیکل ایک طرف گئی۔
میرا ہم جماعت دوسری طرف۔
اور میں…
میں نے زمینی معاملات سے عارضی طور پر دستبرداری اختیار کر لی۔
میں اگلے سوار اور موٹرسائیکل، دونوں کے اوپر سے اڑتا ہوا فضا میں پہنچ گیا۔
چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے قدرت نے مجھے اکانومی کلاس سے مفت اپ گریڈ کرکے بزنس کلاس میں بھیج دیا ہو—فرق صرف اتنا تھا کہ سیٹ نہیں تھی، سیٹ بیلٹ بھی نہیں تھی اور لینڈنگ کی جگہ سڑک تھی۔
خوش قسمتی سے ان دنوں جمناسٹک اور مارشل آرٹس سے کچھ شناسائی تھی۔ الٹے سیدھے کرتب کرنے، قلابازیاں کھانے اور جسم کو ہوا میں قابو رکھنے کی ادھوری مشق تھی۔ سو جیسے ہی اندازہ ہوا کہ زمین نہایت تیزی سے میری جانب آ رہی ہے، دماغ نے ہنگامی اجلاس بلایا۔
’’منہ کے بل گرنا ہے؟‘‘
’’ہرگز نہیں۔‘‘
’’کمر کے بل؟‘‘
’’اس سے بھی پرہیز۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’آج کرتبوں کا امتحان ہے۔‘‘
ہوا ہی میں جسم کو موڑا، قلابازی کھائی، ٹانگیں نیچے کیں اور عین آخری لمحے پاؤں زمین پر ٹکا دیے۔ رفتار بہرحال خاصی تھی، اس لیے دو تین لڑکھنیاں اور کھائیں، چند قدم ایسے دوڑا جیسے سو میٹر کی ریس میں آخری دس میٹر باقی ہوں، پھر رفتار قابو میں آئی اور میں سیدھا کھڑا ہو گیا۔
ایک لمحے کو مجھے خود یقین نہیں آیا۔
جسم ٹٹولا۔
سر موجود۔
بازو دونوں۔
ٹانگیں دو۔
دانت حسبِ تعداد۔
کوئی خون نہیں۔
کوئی خراش نہیں۔
میں نے تقریباً فخریہ انداز میں پلٹ کر جائے حادثہ کی طرف دیکھا۔
منظر قابلِ دید تھا۔
بجری سے کوئی دس پندرہ قدم آگے میں کھڑا تھا۔ میرے اور بجری کے درمیان موٹرسائیکل اس طرح پڑی تھی جیسے جنگ ہار کر ہتھیار ڈال چکی ہو، اور بجری کے قریب میرا فربہ ہم جماعت کولہے کے بل، ٹانگیں پھیلائے، یوں بیٹھا تھا جیسے ابھی ابھی نیند سے اٹھا ہو اور اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ بستر سڑک پر کیسے آ گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت ہنسلی کی ہڈی تڑوا بیٹھے تھے۔ باقی چوٹیں اس کے علاوہ تھیں۔
میں اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔
اور غالباً اس کے ذہن میں یہ سوال گرد�� کر رہا تھا کہ موٹرسائیکل میں چلا رہا تھا، اڑا یہ تھا، تو ٹوٹا میں کیوں؟
اس حادثے میں میری بچت، اللہ کے رحم و کرم کے بعد، جمناسٹک اور مارشل آرٹس کی مشقوں کی مرہونِ منت تھی۔ جسم کو ہوا میں سنبھالنے کے جو چند گر برسوں میں سیکھے تھے، وقت آنے پر کام آ گئے۔
یہی پرانا واقعہ آج شام اچانک پھر یاد آ گیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے حفظانِ صحت کے تحت جاگنگ کر رہا ہوں۔ ’’حفظانِ صحت‘‘ کی وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس عمر میں آدمی جاگنگ شوق سے کم اور ڈاکٹر کے ممکنہ لیکچر کے خوف سے زیادہ کرتا ہے۔ کل رات طوفانی بارش ہوئی تھی۔ آج شام نکلا تو موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ہوا ٹھنڈی، آسمان ابر آلود اور پارک دھلا دھلا سا۔ جاگنگ ٹریک پر جگہ جگہ گزشتہ رات کے طوفان کے آثار موجود تھے۔ کہیں پتے، کہیں چھوٹی ٹہنیاں، کہیں پانی۔ میں اپنی مخصوص درمیانی عمر والی رفتار سے دوڑ رہا تھا—یعنی اتنی تیز کہ چلنے والوں کو لگے میں جاگنگ کر رہا ہوں اور اتنی آہستہ کہ دل کو شک نہ ہو کہ اسے مارنے کی سازش کر رہا ہوں۔ تھوڑی دور آگے ایک درخت کی ٹوٹی ہوئی شاخ ٹریک پر پڑی دکھائی دی۔ فاصلہ شاید پچاس میٹر ہوگا، لیکن دماغ نے اسی لمحے منصوبہ بندی شروع کر دی۔
’��ٹریک چھوڑ کر گھاس پر نکل جاؤں؟‘‘
’’نہیں! گھاس گیلی ہے۔‘‘
’’گیلی ہو تو کیا ہوا؟‘‘
’’جوتے بھیگ جائیں گے۔‘‘
’’رک کر شاخ اٹھا کر ایک طرف کر دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں! جاگنگ کا ردھم خراب ہو جائے گا۔‘‘
’’رفتار کم کرکے پاؤں اٹھا کر گزر جا۔‘‘
’’یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ اتنی سی شاخ؟ ایک جست کی مار ہے۔‘‘
’’پھلانگ جا!‘‘
چنانچہ میں شاخ کے قریب پہنچا۔
رفتار برقرار۔
فاصلہ ناپا۔
ایک۔۔۔
دو۔۔۔۔
اور چھلانگ!
اب منصوبہ یہ تھا کہ میں ہرن کی سی سبک رفتاری سے شاخ کے اوپر سے گزروں گا، دوسری طرف پاؤں رکھوں گا اور اسی ردھم میں دوڑتا چلا جاؤں گا۔
حقیقت یہ ہوئی کہ جوتے کی نوک شاخ میں اَڑ گئی۔
اور پھر۔۔۔
وہی پرانا منظر۔
میں ہوا میں تھا۔
زمین نیچے تھی۔
پرانا مارشل آرٹس والا نظام یکدم بیدار ہوا اور رِفلیکس ایکشن میں گھٹنے پیٹ کی طرف کھینچے، جسم کو ایک جانب موڑا اور سوچا کہ پہلو کے بل زمین چھوتے ہی اسی رفتار سے گھوم کر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوں گا۔ یہ سارا منصوبہ شاید آدھے سیکنڈ میں بنا۔ اور منصوبے کا ایک اہم مقصد اپنی جان بچانا نہیں تھا۔ عزت بچانا تھا۔ کی��نکہ پارک میں لوگ موجود تھے۔ سوچا، یوں گریں گے، یوں گھومیں گے، یوں اٹھیں گے اور دوڑتے چلے جائیں گے۔ دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ شاید ورزش کا کوئی جدید طریقہ ہے۔
میں پہلو کے بل زمین پر گرا۔ یہاں تک منصوبہ کامیاب تھا۔ پھر کمر نے زمین سے ملاقات کی اور۔۔۔
دھڑام!
جسم کے تمام محکموں نے بیک وقت کام بند کر دیا۔ جو قلابازی آگے جاری رہنی تھی، وہ وہیں منسوخ ہو گئی۔ جو فوراً اٹھنا تھا، وہ آئندہ مالی سال تک ملتوی ہو گیا۔ جو عزت بچانی تھی، اس کا ٹینڈر منسوخ ہو گیا۔ اگلے لمحے میں چاروں شانے چت زمین پر پڑا تھا۔
آسمان ابر آلود تھا۔۔۔
لیکن مجھے تارے دکھائی دے رہے تھے۔ پورا نظامِ شمسی آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا۔ کمر میں ایسا جھٹکا لگا تھا کہ چند لمحوں کے لیے دورانِ خون نے غالباً یونین بنا کر ہڑتال کر دی۔ میں زمین پر پڑا آسمان دیکھ رہا تھا۔ اب ذہن میں یہ خیال نہیں تھا کہ:
’’کسی نے مجھے گرتے دیکھا تو نہیں؟‘‘
اب سوال یہ تھا:
’’مجھے کوئی اُٹھائے گا کہ نہیں؟‘‘
اتنے میں کسی نے دور سے آواز لگائی:
’’Are you okay?‘‘
میں جواب دینا چاہتا تھا:
’’بالکل! یہ تو میری stretching کا حصہ تھا۔‘‘
مگر منہ سے صرف:
’’Yeah… yeah…‘‘
نکلا، اور ’’yeah‘‘ میں بھی وہ اعتماد نہیں تھا جو کسی صحیح سلامت انسان کے ’’yeah‘‘ میں ہوتا ہے۔ ایک صاحب قریب آئے، ہاتھ پکڑ کر اٹھایا۔ دوسرے نے ٹشو پیپر پیش کیا۔ تیسرے نے پانی کی بوتل۔ اور میں، جو کبھی موٹرسائیکل کے اوپر سے اڑ کر دس پندرہ قدم آگے اپنے پیروں پر اترتا تھا، آج ایک درخت کی سوکھی شاخ عبور کرنے کے بعد عوامی امدادی پیکیج وصول کر رہا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے ��ندگی کا ایک بڑا فلسفہ سمجھ میں آ گیا۔
ادھیڑ عمری کے دیگر لوازمات میں ایک یہ بھی ہے کہ بڑھتی عمر کا اصل ادراک اکثر حوادث کے طفیل ہوتا ہے۔
یونیورسٹی کے زمانے میں موٹرسائیکل کے اوپر سے اڑ کر گرا تو ایک خراش نہ آئی، اور آج ایک معمولی سی شاخ سے الجھا تو شاخ وہیں صحیح سلامت پڑی رہی۔ اور میں تین آدمیوں کی امدادی کارروائی کے بعد دوبارہ عمودی حالت میں آیا۔ تب حادثے کے بعد لوگ پوچھتے تھے:
’’یار! یہ قلابازی کیسے کھائی تھی؟‘‘
آج ایک صاحب نے مجھے سہارا دیتے ہوئے بڑی شفقت سے پوچھا:
’’میٹ! ایمبولینس بلاؤں؟‘‘
بس اسی لمحے دل نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:
’’ہنڑ او گلاں نئیں ریاں۔۔۔ ہنڑ تے بندہ وی او نئیں ریا!‘‘
(ع گیلانی)
ادھیڑ عمری میں بلا آخر شادی رچانے والے دوست کے نام!
سلام محترم رانا صاحب،
آخر کار آپ نے شادی کا پربت بخیریت سر کر ہی لیا، کھا لیا وہ لڈو جو زندگی بھر حلق میں اٹکا رہتا ہے، کر لیا ذمہ داری کا دریا عبور، مگر جیسے منیر نیازی نے کہا تھا
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
تو مبارک ہو! اصل مہم اب شروع ہوئی ہے۔ آپ اب باقاعدہ “محکمۂ گھریلو امور و خانہ آبادی” کے مستقل ملازم ہیں۔ بلکہ کنفرم پنشن والی پوسٹ پر فائز ہو چکے ہیں۔ بس یہ کہ تنخواہ کی مد میں پھیکی مسکراہٹ اور کبھی کبھار کی لجاجت اور پینشن کی ��مر میں، زندگی بھر کے طعنے کوسنے بونس میں ملیں گے۔ شادی کوئی عام حادثہ نہیں، بلکہ ایسا زلزلہ ہے جس کے آفٹر شاکس تا عمر آتے رہتے ہیں۔کبھی “سر دبا دو” کی صورت میں، کبھی “سن رہے ہو؟” کے اچانک جھٹکوں میں۔
وہ کہتے ہیں نا کہ اب ��یا اونٹ پہاڑ کے نیچے!
تو رانا صاحب،
اونٹ بھی آپ،
پہاڑ بھی آپ،
اور نیچے بھی آپ ہی نے لگنا ہے۔
آزادی کے جتنے مزے لوٹنے تھے لوٹ لیے، اب غلاموں کی زندگی شروع:
“جی سُن رہا ہوں”
“جی ابھی لایا”
“جی ٹھیک ہے”
اور کبھی کبھار،
“جی میری ہی غلطی تھی”۔
اور اگر خدانخواستہ آپ کو اپنی بیگم سے واقعی محبت ہو گئی،تو پھر آپ غلاموں کے بھی فیلڈ مارشل ہوں گے۔ صبح سے شام تک “میری جان، میری ملکہ، میری پیاری” کے نعرے لگتے رہیں گے۔
اب وہ دن دور نہیں جب رانا صاحب بڑی شان سے بازار سے واپسی پر یوں نظر آئیں گے کہ
ایک ہاتھ میں چار شاپنگ بیگز،
کندھے پر ڈائپر بیگ،
دوسرے ہاتھ میں بچہ��
اور چہرے پر وہ مسکراہٹ۔۔۔جو صرف شادی شدہ مردوں کو نصیب ہوتی ہے۔
یاد رکھنا، تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے بہادر بھی اِس میدان میں ڈھیر ہوئے ہیں۔ ہٹلر جیسا سفاک بندہ بھی، ساری دنیا چھوڑ اپنی معشوقہ سے ڈرتا تھا۔ اب آپ بھی دوستوں کو یہ کہہ کر ٹالیں گے:
“یار آج نہیں آ سکتا، گھر میں حالات نازک ہیں!”
اور جواباً دوست کہا کریں گے:
“ رانا صاحب آپ خود بھی!”
اور سب سے بڑی تبدیلی—رانا صاحب اب روزانہ نہائیں گے، بال بنائیں گے، استری شدہ کپڑے پہنیں گے، خوشبو لگائیں گے، اور ایسے نکلیں گے جیسے کسی انٹرویو پر جا رہے ہوں۔۔۔ حالانکہ جانا صرف دودھ اور دھنیا لینے ہوگا۔اور جو بری عادتیں نہیں چھوڑیں گے، وہ چھڑوا دی جائیں گی، محبت سے۔۔۔ یا ہلکے پھلکے دباؤ سے۔
خیر، مزاح اپنی جگہ، اللّہ تیری نئی زندگی میں محبت، سکون اور خوشیاں بھر دے۔ اور تجھے واقعی بھابھی سے محبت ہو جائے۔۔۔ پھر تجھے احساس ہوگا کہ عدم دستیابی کی بنیاد پر، جن دوستوں کا تو “توا” لگاتا تھا، وہ دراصل خالص “مجبور” تھے!
اور ہاں… “��اں جی” کہنا سیکھ لے—یہی کامیاب شادی کا پہلا، آخری اور واحد اصول ہے۔
(ع گیلانی)
ازراہِ تفنن،
پاکستان میں سنا کرتے تھے کہ کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا۔
یہاں آسٹریلیہ آ کر پتہ چلا کہ جب تک شبیر نہیں دیکھے گا، کوئی نہیں دیکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عید کا دن!