Again, this is not Sukkur, Sindh. This is Skardu, in GB. An ocean of people welcomed @BBhuttoZardari and @AseefaBZ. There were people as far as the eye could see. BBZ gets this level of love and appreciation from all the corners of the country. Others have to do jalsas in tents.
پہلے یہاں پہنچنے میں سوا گھنٹہ لگتا تھا آج 40منٹ میں پہنچا میرے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے وعدہ کیا تھا شاہراہ بھٹو اور وعدہ وفا کیا.
24 گھنٹوں 22 ہزار گاڑیوں نے شاہراہ بھٹو کا استعمال کیا تو کیا وہ 22 ہزار لوگ کسی سوسائٹی میں جا رہے تھے. مرتضٰی وہاب.
اگر مقابلہ کرنا ہے تو لاہور کو بھی با اختیار میئر دیں ۔۔۔۔۔۔۔
سندھ کے بلدیاتی نظام کی حقیقت کو جان بوجھ کر مسخ کیوں کیا جا رہا ہے؟
اس وقت سندھ کے بڑے شہروں میں چھ منتخب میئر/ناظمِ اعلیٰ اپنی آئینی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ کراچی میں مرتضیٰ وہاب، حیدرآباد میں کاشف شورو، سکھر میں ارسلان اسلام شیخ جبکہ نواب شاہ، میرپورخاص اور لاڑکانہ میں بھی منتخب شہری قیادت موجود ہے۔ اس کے علاوہ سندھ بھر میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور میونسپل ادارے الگ نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ تنقید اور پروپیگنڈے کا مرکز صرف کراچی اور اس کا میئر ہی کیوں بنتا ہے؟
اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، لیکن صرف ایک شہر کو سیاسی جنگ کا میدان بنانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر واقعی مقابلہ کرنا ہے تو پنجاب میں بھی مکمل بااختیار بلدیاتی نظام لا کر لاہور کو ایک بااختیار میئر کے حوالے کیا جائے، پھر ترقیاتی کاموں اور شہری نظم پر بات ہو۔
کراچی کو نفرت، لڑائی اور پروپیگنڈے نہیں بلکہ استحکام، اختیارات اور سنجیدہ شہری سیاست کی ضرورت ہے۔
الطاف حسین کی باقیات کا کراچی پر واویلا اور چیخ و پکار کرنا تو سمجھ آتا ہے، مگر پنجاب سے ایسی آوازیں اٹھنے کی وجہ کیا ہے؟