پمز اسپتال میں کوئی لاشیں نہیں تھی، احتجاج میں سب خیبرپختونخوا کے خط غربت سے نیچے کے لوگ تھے افغان مہاجرین تھے جنہیں پیسے دے کر لایا گیا تھا، باقی پورے پاکستان کے لوگوں نے یکسر مسترد کیا ان کے اپنے ورکرز نے مسترد کیا،
حقوق ضرور مانگیں مگر لسانی اور علاقائی عصبیت اور نفرت بیچنے والے ٹھگوں سے بچیں بنگلہ دیش میں مجیب کی بیٹی کے 19 سالہ اقتدار کے خاتمے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستان کا قائم رہنا بہت ضروری ہے اور ہر حق ہم اس میں رہ کر ہی حاصل کریں گے
نوسر بازوں سے ہوشیار رہیں
حسینہ واجد کے باپ نے جو الزام لگاکر پاکستان توڑا تھا،اسی جرم کے تحت حسینہ واجد کا اپنا 15سالہ اقتدار بیانک انجام کو پہنچا، یہ پاکستان میں ان کے لئے بھی سبق ہے جو شیخ مجیب یا اس کے نظریات کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے پاکستان میں انتشار پھیلارہے ہیں ان کا انجام بھی یہی ہوگا،علی رضا شاف
خیبرپختونخوا کے 2032 اسکولوں میں چار دیواری نہیں ہے
2414 سرکاری اسکولوں میں بجلی نہیں ہے
1149 سرکاری اسکولوں میں پانی تک کی بنیادی سہولت میسر نہیں ہے
یہ اعدادوشمار مردم شماری کے مطابق جاری کئیے گئے ہیں
یاد رہے مسلسل 11 سال سے اس صوبے میں عمران خان کی حکومت ہے
میں پارلیمان کے ساتھ کھڑا ھوں،میں ان کی قانون سازی کے ساتھ کھڑا ھوں کیونکہ پارلیمان سپریم ھے،یہ فارم 47,45 کی ڈرامے بازی بہت ھوچکی،عمر ایوب سے کوئی پوچھے کہ اب اسٹے آرڈر کے پیچھے کیوں چھپ رھا ھے،لائے فارم 45 ،جو بازاروں میں نکالنے تھے افتخار احمد
This is one main reason why Dubai has been restricting giving visas to Pakistani men under the age of 42 - Pakistanis working there mostly in low-skilled jobs protesting in favour of Imran Khan
سلمان شہباز نے بلکل درست بولا اس وقت پاکستان میں سب سے سستی بجلی سلمان شہباز کی کمپنی پیدا کر کے دے رہی ہے پورے پاکستان کو بھی سلمان شہباز کے فارمولے والے پلانٹس پر شفٹ کر دینا چاہئیے، گوہر اعجاز
برطانیہ نے بھی تحریک انصاف کے کارکنوں سے تنگ آگیا ۔ کھل کر بیان جاری کردیا۔ عمران خان پر سنگین الزامات ہے اس نے جرم کیا ہے تو اسے سزا ملنی چاہئے ۔ عمران خان کے کارکنان برطانیہ میں کیوں گند پھیلا رہے ہیں ؟ ہمارا اس سے کیا لینا دینا ؟
روز روز احتجاج کرنا۔ سڑکوں پر پاکستان مخالف ٹرکس لے کر گھومنا اچھی بات نہیں .۔ جو لوگ عمران کے لئے احتجاج کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان چلے جائیں ۔
خواجہ سعد رفیق صاحب کے ٹویٹ پر تنقید کیوں؟ 🚨🚨
میں چند دلائل آپ کے سامنے رکھوں گا اور امید کرتا ہوں کہ خواجہ صاحب بھی اسکو پڑھیں گے @KhSaad_Rafique
خواجہ صاحب کا ٹویٹ انکی اعلی ظرفی اور ہمدردی کا اظہار ہے، یہ واقعی قابل تحسین عمل ہے۔
لیکن اس میں ایک مسلہ ہے، جس پر شاید انکی توجہ نہیں۔ ⚠️⚠️
ہمیں مظلوم اور فتنہ میں فرق سمجھنا پڑے گا۔
مظلوم کون ہے؟
وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ہو، اس ظلم کی وجہ بیشک اسکی اپنی غلطی ہو لیکن وہ اس ظلم سے بچنا چاہتا ہو۔
ایسے مظلوم کی آپ مدد کریں گے تو وہ احسان مند ہوگا کہ آپ نے ظالم سے اسکو بچایا۔ بیشک وہ نظریاتی طور پر آپ کا حامی نا ہو لیکن شرم حیا کا پاس رکھے گا۔
اسکی سب سے بڑی مثال خواجہ صاحب آپ خود ہیں کہ آپ کو ناحق قید میں رکھا گیا، اگر یہ لوگ آپ کو چھوڑ دیتے اور عدم برداشت کا رویہ اپناتے تو آپ آج مسلم لیگ ن میں رہتے ہوئے بھی انکے احسان مند ہوتے۔
لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے
یہ لوگ دل سے ظالم ہیں۔ انہوں نے مظلومیت کا لبادہ صرف اس لئے اوڑھ رکھا ہے تاکہ یہ عوامی ہمدردی اور سیاسی فائدہ لے سکیں۔ یہ گروہ ہر روز آپ کے خلاف جعلی پراپیگینڈا اور جعلی خبریں پھیلا کر آپ پر ظلم کرتا ہے لیکن آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کو کتنا نقصان ہوا ہے۔
یہ مظلوم نہیں بلکہ مظلومیت کی مارکیٹنگ کرتے ہیں، ظلے شاہ کو انکی پارٹی کے لیڈر کی گاڑی لگی لیکن آپ کے سامنے ہے کہ عمران خان نے کس بھونڈے انداز میں اسکو مارکیٹ کیا۔ سارا دن انکی سوشل میڈیا ٹیم جھوٹی کہانیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر مظلوم بننے کی کوشش کرتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ یہ جعلی کہانیاں بنا کر آپ کو فراڈ طریقے سے ظالم بنا کر آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
ہم سب کے دل ہیں، اگر ایک ماں اپنے بچوں سے ملے تو سب سے زیادہ خوشی شاید ہمیں ہی ہو۔ لیکن وہ ماں اپنے بچوں سے ملنا تو چاہے؟ یہ تو اپنے لیڈر کے نقش قدم پر چلتے ہیں جو چار سال وزیر اعظم رہے اور ایک مرتبہ اپنے بچوں سے نہیں ملے، انکی یاد جیل کے دوران آئی کہ مجھے ان سے دو مرتبہ بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ کیا آپ کے لئے یہ چیز حیران کن نہیں کہ انکے رہنما کے اپنے بچوں نے ایک بھی مرتبہ سوشل میڈیا پر اپنے والد کی رہائی کی آواز بلند نہیں کی؟
لیکن ہم آپ کو کیوں روکتے ہیں؟ اگر اگلا بندا برا ہے تو اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ خواجہ سعد رفیق اپنے اچھے کام چھوڑ دے۔
خواجہ صاحب مسلہ یہ ہے کہ یہ گروہ جس ذہنی حالت میں موجود ہے، یہ آپ کی ہمدردی کو کمزوری تصور کرتا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق کمزور ہوگیا ہے، اسکی حکومت جانے والی ہے۔ یہ ہمدردی نہیں بلکہ ہم سے معافیاں مانگ رہا ہے۔ جس کے بعد یہ گروہ مزید بدتمیزی پر اتر آتا ہے۔ جس کا مظاہرہ آپ نے اپنے ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کے اکاونٹس سے دیکھا۔ وہ خاتون جس کی بہن کیلئے آپ نے آواز بلند کی، وہی خاتون آپ کو گالیاں دینے پہنچ گئی۔
عدم برداشت کا پہلو ہمارے معاشرے سے ختم ہو رہا ہے لیکن عدم برداشت اس سے کی جاتی ہے جو خود عدم برداشت کا قائل ہو۔ یہاں معاملہ ہی مختلف ہے، ذہنی حالت ہی مختلف ہے، دنیا ہی مختلف ہے۔
اگر آپ نے مدد کرنی ہے تو آج بھی پاکستان کی جیلوں میں لاکھوں بے گناہ خواتین موجود ہیں، انکی مدد کریں۔ انکو وکیل دیں۔ اللہ نے آپ کو طاقت دی ہے۔ حقیقی مظلوموں کی مدد کریں۔ وہ لوگ آپ کو ساری زندگی دعائیں دیں گے لیکن ان لوگوں کے لئے اپنا قیمتی وقت اور الفاظ ضائع نا کریں جو ہمدردی کو کمزوری سمجھ کر آپ کو ہی گالیاں دینا شروع ہو جاتے ہیں۔
باقی مرضی آپ کی ہے اور یہ آپ کا اعلی ظرف بھی ہے۔ ہم اس لائق نہیں کہ آپ جیسے باتجربہ سیاسی کارکن کو کچھ بتائیں لیکن ان لوگوں کی گندی زبان کا استعمال دیکھ کر ہمیں دکھ ہوتا ہے کہ آپ کی ہمدردی کا جواب ایسے طریقے سے دیا جا رہا ہے. یہ صرف سیاسی مفاد کیلئے مظلوم بنے ہوئے ہیں۔ دل سے یہ آپ کی توقع سے زیادہ ظالم ہیں۔
سوال: حکومت بنانے کیلئے قومی اسمبلی میں کتنی سیٹیں چاہئے ہوتی ہیں؟
عمران خان کا جواب: 172
سوال: آپ کے پاس کتنی سیٹیں تھیں؟
عمران خان کا جواب: 155
سوال: پھر آپ نے کیسے حکومت بنائی؟
عمران خان کا جواب: مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، سندھ الائنس، نوابزادہ شاہ ذین بگٹی،عوامی مسلم لی+++