ڈائٹ کوک، کوک زیرو، پیپسی میکس اور سیون اپ فری جیسے مشہور برانڈز میں اسپارٹیم کی مٹھاس ڈالی جاتی ہے یہ بہت سی دیگر پراڈکٹس میں بھی استعمال ہوتی ہے سائینسی تحقیق کے مطابق یہ مضر صحت ہے اور کینسر کا باعث بن سکتی ہے ان مشروبات کی بجائے سادہ پانی استعمال کریں https://t.co/wApjCXchb5
نوے برس کے ضعیف آدمی کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔ مالک مکان کو پانچ مہینے سے کرایہ بھی نہیں دے پایا تھا۔ ایک دن مالک مکان طیش میں کرایہ وصولی کرنے آیا ۔ بزرگ آدمی کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا۔
سامان بھی کیا تھا۔ ایک چار پائی ‘ ایک پلاسٹک کی بالٹی اور چند پرانے برتن-
پیرانہ سالی میں مبتلا شخص بیچارگی کی بھرپور تصویر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھاتھا۔ احمد آباد شہر کے عام سے محلہ کا واقعہ ہے۔ محلے والے مل جل کر مالک مکان کے پاس گئے۔ التجا کی کہ اس بوڑھے آدمی کو واپس گھر میں رہنے کی اجازت دے دیجیے۔ کیونکہ اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔
دو ماہ میں اپنا پورا کرایہ کہیں نہ کہیں سے ادھا ر پکڑ کر ادا کر دے گا۔ اتفاق یہ ہواکہ ایک اخبار کا رپورٹر وہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے نحیف اور لاچار آدمی پر بہت ترس آیا۔تمام معاملہ کی تصاویر کھینچیں۔ ایڈیٹر کے پاس گیا کہ کیسے آج ایک مفلوک الحال بوڑھے شخص کو گھر سے نکالا گیا۔
اور پھر محلہ داروں نے بیچ میں پڑ کر دو ماہ کا وقت لے کر دیا ہے۔ ایڈیٹر نے بزرگ شخص کی تصاویر دیکھیں تو چونک اٹھا۔
رپورٹر سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کو جانتے ہو۔ رپورٹر ہنسنے لگا کہ ایڈیٹر صاحب ۔ اس بابے میں کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ کوئی بھی اس پر توجہ دے۔ اسے تو محلہ والے بھی نہیں جانتے۔ ایک وقت کا کھانا کھاتا ہے۔ برتن بھی خود دھوتا ہے۔ معمولی سے گھر میں جھاڑ پوچا بھی خود لگاتا ہے۔ اس کو کس نے جاننا ہے۔
ایڈیٹر نے حد درجہ سنجیدگی سے رپورٹر کو کہا کہ یہ ہندوستان کا دومرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے اور اس کا نام گلزاری لال نندہ ہے۔
رپورٹر کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ہندوستان کا وزیراعظم اور اس بدحالی میں۔ خیر اگلے دن اخبار چھپا تو قیامت آ گئی۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ عاجز سا بوڑھا ہندوستان کا دوبار وزیراعظم رہ چکا ہے۔وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم کو بھی معلوم ہو گیا کہ گلزاری لال کس مہیب مفلسی میں سانس لے رہا ہے۔
خبر چھپنے کے چند گھنٹوں بعد‘ ریاست کا وزیراعلیٰ ‘چیف سیکریٹری اور کئی وزیر اس محلے میں پہنچ گئے۔ سب نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ کو سرکاری گھر میں منتقل کر دیتے ہیں اور سرکار ماہانہ وظیفہ بھی لگا دیتی ہے۔
خدارا اس معمولی سے مکان کو چھوڑیے۔ مگر گلزاری لال نے سختی سے انکار کر دیا کہ کسی بھی طرح کی سرکاری سہولت پر اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ یہیں اسی کوارٹر میں رہے گا۔ گلزاری لال کے چند رشتہ داروں نے منت سماجت کر کے بہرحال اس بات پر آمادہ کر لیا کہ ہر ماہ پانچ سو روپے وظیفہ قبول کر لے سابقہ وزیراعظم نے حد درجہ مشکل کے بعد یہ پیسے وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اب اس قلیل سی رقم میں کرایہ کھانا پینا شروع ہو گیا۔
مالک مکان کو جب علم ہوا کہ اس کا کرایہ دار پورے ملک کاوزیراعظم رہ چکا ہے۔ تو گلزاری لال کے پاس آیا اور پیر پکڑ لیے کہ اسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ اس کا کرایہ دار اس اعلیٰ ترین منصب پر فائر رہ چکا ہے۔ بوڑھے شخص نے جواب دیا کہ اسے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ کون ہے۔ وہ تو ایک معمولی سا کرایہ دار ہے اور بس۔ جب تک گلزاری لال زندہ رہا اسی مکان میں رہا اور مرتے دم تک پانچ سو روپے میں گزارا کرتا رہا۔
گلزاری لال نندہ حیرت انگیز کردار کا انسان تھا۔ سیالکوٹ میں جولائ 1898 میں پیدا ہوا۔ اور جنوری 1998 میں احمد آباد میں فوت ہو گیا۔ جواہر لال نہرو کے انتقال کے بعد 1964 میں وزیراعظم رہا۔ اور 1966میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد بھی اس بلند پایہ منصب پر فائز رہا۔
بنیادی طور پر ایف سی کالج لاہور سے اقتصادیات کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دراصل وہ اقتصادیات کا استاد تھا۔
ممبئی اور احمد آباد کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتا رہا۔ سیاست میں آیا تو یونین منسٹر وزیر خارجہ اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن بھی رہا۔ متعدد بار لوک سبھا کا ممبر بھی منتخب ہوا۔ گلزاری لال کافلسفہ تھا کہ زندگی کو بہت سادہ گزارنا چاہیے۔ کسی شان و شوکت کے بغیر انتہائی قلیل رقم میں خوش رہنا ہی اصل امتحان ہے۔ویسے گلزاری لال سادگی بلکہ عسرت میں رہنے کی جو مثال قائم کر گیا اس کے لیے حد درجہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔
نناوے سال کی عمر میں فوت ہوتے وقت اس کے پاس کسی قسم کی جائیداد کوئی بینک بیلنس اور کوئی ذاتی گھر تک نہیں تھا۔ بس ایک عزت و احترام کا وہ خزانہ تھا جو امیر سے امیر لوگوں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں سیاست میں حد درجہ کرپشن ہے مگر اس کے باوجود ہمیں بارہا گلزاری لال جیسے کردار مل ہی جاتے ہیں ۔انڈیا میں کئی ایسے بلند سطح کے سیاست دان موجود ہیں جن کے اثاثے کچھ بھی نہیں ہیں۔
مگر اس سطح کی سادگی کی عملی مثال ہمارے ہاں ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہے۔
Pls follow me @umairmalki
کل ڈاکٹرعافیہ سےمیری ڈاکٹرفوزیہ اورکلائیو اسٹافورڈاسمتھ سمیت جیل میں ملاقات ہوگی۔
لیکن آج ڈاکٹرفوزیہ کی ملاقات کاافسوسناک احوال سن لیجیے۔اگر چہ صورتحال تشویشناک ہے لیکن ملاقاتوں کابات چیت کاراستہ کھل گیا۔اب ضرورت اس بات کی ہےکہ عوام آوازاٹھائیں اورحکمرانوں کومجبورکرےکہ وہ فوری اقدامات کرکےعافیہ رہائی کامعاملہ امریکی حکومت کیساتھاٹھائے۔
ملاقات کاخلاصہ۔
یہ ملاقات20سال بعدہوئی جوڈھائی گھنٹےجاری رہی،ڈاکٹر فوزیہ کوعافیہ سےگلےملتے،ہاتھ ملانےتک کی اجازت نہیں تھی،ڈاکٹرفوزیہ کواس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹرعافیہ کواسکےبچوں کی تصاویردکھاسکے،جیل کےایک کمرےمیں درمیان میں موٹا شیشہ لگا تھااور اس کے آرپارملاقات تھی،عافیہ سفیدسکارف اورخاکی جیل ڈریس میں تھی،ڈھائی گھنٹےکی ملاقات میں پہلےایک گھنٹہ ڈاکٹرعافیہ نےروزاپنےاوپرگزرنےوالی اذیت کی تفصیلات سنائی،ڈاکٹرعافیہ نےکہاکہ مجھےاپنی امی بچےہروقت یادآتےہیں(ان کواپنی امی کی وفات کاعلم نہیں ہے )۔ڈاکٹرعافیہ کےسامنے والےدانت جیل میں حملےسےگر چکے/ضائع ہوچکےہیں۔ان کوسرپرایک چوٹ کی وجہ سےسننےمیں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔
راولاکوٹ / حلقہ نمبر پانچ کی یونین کونسل ہورنہ میرہ (کوٹیڑہ) سے تعلق رکھنے والے امجد اسحاق صاحب(سیشن جج) کو آج رات راولپنڈی بحریہ ٹاؤن میں دوارن ڈکیتی قتل کر دیا گیا۔ریاست جموں کشمیر کے شہری پاکستان میں کیوں قتل ہورہے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
"وہ عمل گناہ ہے جو تمہارے دل کو مضطرب رکھے، اور تم لوگوں سے اسے بتانا بھی پسند نا کرو"
Follow @Greentvpakistan for more updates! 💚
الحمداللّہ!
الخدمت تعمیروطن پروگرام کےتحت سیلاب سے متاثرہونے والے 40 سے زائد اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کیاجاچکاہے. ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔ 💫
دیسی لبرلز کیلئے تکلیف دہ خبریں
پہلی خبر:
پاکستان نے دو ملین حفاظ تیار کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا۔
تیسری خبر:
رجب طیب اردگان ایک بار پھر ترکی صدر منتخب ہوگئے۔
مظفرآباد۔
نواحی علاقہ دھنی مین زیر تعمیر پل تعمیر کے دوران دریائے نیلم میں جا گرا،
حادثہ میں تین افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص ذخمی ہو گیا۔
حادثہ کے بعد بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے سڑک بند کرکے احتجاج شروع کر دیا۔
With that, you will undoubtedly enter into the role of trial and examination, so you will be imprisoned, arrested, killed, homeless, your interests confiscated, your work disrupted, and your homes searched, and the duration of this test may be long for you...
Delhi High Court has set 9 August as the hearing date for NIA application to seek death panelty for Yasin Malik. Legal experts had expected the application to be rejected.
The decision exposes the grip that the Modi regime has over the Indian judicial system.
#ReleaseYasinMalik
حقیقی لیڈر اور رہنما جادوٹونے پر یقین کرنے، نوجوانوں کو بدمعاشی کی تلقین کرنے ، گالی اور دھمکی کا عادی بنانے کی بجائے اسی طرح کی تلقین کرتے ہیں جس طرح طیب اردگان اپنے پیروکار نوجوانوں کو کرتے ہیں۔
زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب فواد چودھری بہت بڑے بڑے بول بولتے تھے لیکن آج وہ عبرت کی مثال بن گئے ہیں جن کے پاس آج اقتدار اور طاقت ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈریں اور طاقت کے نشے میں ایسے بول نہ بولیں کہ کل کو یہ طاقتور لوگ بھی فواد چودھری بن جائیں