"میرے شوہر کو شہید ، میرے بیٹے کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں، میں نے اس کی ٹانگیں اپنے حجاب سے باندھیں اور اسے 4 کلومیٹر تک لے کر چلی گئی، میرا بیٹا بھی شہید ہو گیا، میں نے جو ہو سکا وہ کیا، میرا حجاب بھی فائدہ مند تھا، لیکن مسلمانوں سے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا میرے خونی حجاب سے۔۔۔!
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رح کے خلیفہ مجاز، مدرسہ عربیہ رائے ونڈ کے استاذ حدیث اور دعوت و تبلیغ کے بزرگ حضرت مولانا محمد احسان الحق سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
رحمہ اللہ رحمۃواسعۃ۔
اللھم لاتحرمنا اجرہ ولا تفتنابعدہ۔
”ممکن ہے ہماری آواز عمران خان تک نہ پہنچ پائے، لیکن حق اور سچ کا نعرہ بلند کرنا ہمارا فرض ہے۔ عمران خان زندہ باد! وہ جس جوانمردی سے سیاسی جدوجہد لڑ رہے ہیں اور جو قربانیاں دے رہے ہیں، میں بطور سینئر سیاستدان انہیں خراج تحسین اور سلام پیش کرنے آیا ہوں۔“
جاوید ہاشمی۔۔
Unfortunately, no one cares about us anymore. I say it frankly, we are hungry and we need food.
If you’re scrolling, PLEASE leave a dot . it's just a dot.
To donate 👇👇
https://t.co/Qd65ZN7GVM
یہ سلیمان سہیل ہے جو ہمیشہ مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے مگر آج جب خود اس کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تو طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں
ذرا ایک لمحے کے لیے اس ماں کا سوچیے جس کے گھر میں اس وقت نہ اس کا بیٹا موجود ہے نہ اس کا شوہر
اپنے اختلافات بھول جائیے اور اگر سلیمان سہیل کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لیے آواز بلند کیجیے
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ